Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ناریل کے درختوں کی پاگل ہوا

عتیق انظر

ناریل کے درختوں کی پاگل ہوا

عتیق انظر

MORE BYعتیق انظر

    کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، آنکھیں ملتے ہوے بستر سے اٹھا، دیکھا، ڈرائیور صاحب ہیں، جلدی سے وضو کیا، خالق کائنات کی بارگاہ میں چار سجدے کیے، کمرے سے باہر نکلا، صاف ستھری نکھری معصوم سی صبح، اس کی پاکیزہ پیشانی پر محبت کا بوسہ دیا، مشرق کی جانب دیکھا، سورج جھک کر مجھے آداب کر رہا تھا، اسے دعائیں دیں، ایسے ہی اجالے بکھیرتا رہے، اپنی آگ میں جل کر کائنات کو حرارت اور زندگی بخشتا رہے، صبح کی پہلی چائے پی اور بمبئی ہوتے ہوے بنارس واپس جانے کے لیے کالیکٹ ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا، راستے میں فطری مناظر سے لطف اندوز ہوتا رہا، ایک منظر کو دل میں اتار نہیں پاتا تھا کہ دوسرا نگاہوں میں آ جاتا تھا، حیرت زدہ تھا کیا کیا دیکھوں، بے ساختہ لبوں پر میر انیس کے یہ دو مصرعے مچل گئے،

    ہر جا تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے

    حیران ہوں دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں

    کیرالا فطرت کا شاہکار ہے، ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے، چاروں طرف ناریل اور کیلے کے پیڑ ہیں، ناریل کے بغل میں سپاری کے درخت ہیں، ربر کے علاوہ ساکھو, شیشم اور ساگون کے درختوں کے جنگلات قابلٍ دید ہیں،کیا مسطح زمین، کیا کھائیاں، کیا گھاٹیاں، کیا پہاڑ کی چوٹیاں، سب ہری بھری ہیں، یہاں سڑکوں، ریلوے لائنوں اور تعمیرات کو چھوڑ کر باقی ساری زمین سرسبز وشاداب ہے، ناریل، ساکھو، شیشم، ساگون اور ربر کے جنگلوں اور پہاڑوں میں آباد ہیں آج کے مہذب انسانوں کی بستیاں، ناریل کے درختوں کی اوٹ سے جھانکتی ہیں نئی طرز کی صاف ستھری عمارتیں، کشادہ اور چمکتی ہوئی سڑکیں کالے حسن کی مثال پیش کرتی ہیں، کسی سڑک پر کوئی گڈھا نہیں، ہاں گڈھوں، کھائیوں اور پہاڑیوں میں سلیقے کی سڑکیں ضرور ہیں، سڑکوں کے کناروں پر یا بیچ میں کوئی مندر نہیں کوئی مسجد نہیں، کوڑے کرکٹ کا ڈھیر نہیں، کوئی کندگی نہیں، نہ باہر نہ دل ودماغ میں، محنتی اور نیک لوگ، میل محبت سے رہنے والے لوگ، انسانیت کا احترام کرنے والے لوگ، باقی ہندوستان بھی کیرالا کی راہ پر چلے تو پورا ملک امن وسلامتی کا گہوارہ بن جائے۔

    کیرالا کا سب سے بڑا مسلم آبادی والا ضلع ہے ملاپورم، جس میں ایک چھوٹا سا شہر ہے کوٹک کل، لیکن صفائی اور نفاست میں باقی ہندوستان کے بڑے شہروں سے بھی یہ بہتر ہے، یہاں سے کالیکٹ ایئر پورٹ جاتے ہوے راستے میں ”کلائی“ نے میرا دامن دل کھینچا، یہ چمکتے پانیوں والی شفاف ندی ہے، جس میں آسمان کی نیلاہٹ گھلی ہوئی ہے، ندی سے بڑا گہرا رشتہ ہے میرا، بچپن کی بہت اچھی یادیں وابستہ ہیں اس سے، کار سے اترا، ندی کے نرمل پانی کو آنکھوں سے چوما، سوچا دو چار ڈبکی لگا لوں، دل نے سمجھایا، اجنبی ندیوں میں بہت سوچ سمجھ کر ڈبکی لگاتے ہیں،” کلائی“ کو دیکھا تو مجھے اپنے گاؤں کی ندی ”کرم ناسا“ یاد آ گئی، میں اپنی ”کرم ناسا“ کی لہروں میں ہلکورے لینے لگا، کلائی کو میں نے اپنی نظم ”کرم ناسا“ سنائی،

    وہ بل کھاتی ندی

    میٹھے چمکتے پانیوں والی

    جو نکلی تھی

    گھنیرے جنگلوں اونچے پہاڑوں کی ترائی سے

    بڑی ہی بے قراری سے

    وہ جس کے ساحلوں پر جابجا

    بالو کے ٹیلے تھے

    وہ جس میں گرنے والے نالوں پر تھے

    جھنڈ بانسوں کے

    ”کراروں“ پر

    بہت سے اونچے اونچے پیڑ تھے

    نیم اور شیشم کے

    ذرا آگے ندی کے موڑ پر ساحل سے کچھ اوپر

    گھنے باغات تھے امرود کے اور بیجو آموں کے

    کوئی موسم ہو

    وہ پیاری ندی اپنے کناروں کو

    سدا شاداب رکھتی تھی

    سدا آباد رکھتی

    جو اپنے عاشقوں کی آنکھوں میں

    سپنے سجاتی تھی

    دلوں کی دھڑکنوں کو اپنی لہروں سے بڑھاتی تھی

    مری مٹی کو تر کرتی ہوئی جب آگے بڑھتی تھی

    وہ اپنے ساتھ کچھ میرا بھی حصہ لے کے چلتی تھی

    وہ جس کے پر سکوں پہلو میں میرا دن گزرتا تھا

    جو راتوں کو مرے خوابوں میں سوتی تھی

    کہیں بھی جاؤں میرے ساتھ ہوتی تھی

    وہ بل کھاتی ندی اب

    میرے سینے میں سسکتی ہے

    مری آنکھوں سے بہتی ہے

    کرم ناسا نے یاد آکر دل دکھا دیا، میں اپنے بچپن کی یادوں کے سائے میں کھو گیا،

    دھوپ میں تتلیاں پکڑتے تھے

    اپنے بچپن کے دن سنہرے تھے

    گھر کے لوگوں سے چھپ کے اکثر ہم

    ناؤ گہری ندی میں کھیتے تھے

    ان درختوں کو دل میں بوئیں گے

    جن کی چھاؤں کے خواب دیکھے تھے

    ایسے موسم میں باغ چھوٹا تھا

    جب چمیلی کے پھول مہکے تھے

    کرم ناسا کی یادوں سے لوٹا، کلائی کے ساتھ ایک تصویر لی اور کالیکٹ ”بیچ“ پہنچا، یہ بیچ بہت چھوٹا ہے، یہاں سمندر کی لہروں کی مار میں وہ سختی نہیں وہ چنگھاڑ نہیں جو بڑے بیچ پرہوتی ہے لیکن سمندر بہر حال سمندر ہے، اس کی چھوٹی لہریں بھی بڑی قیامت خیز ہوتی ہیں، لہروں کو چوما نہیں، دور سے سلام کیا، ساحل سے سر ٹکراتی موجوں کو دیکھ کر اپنا ایک شعر بڑی ”بحر“ کا یاد آیا،

    کتنی پاگل سمندر کی موجیں ہیں وہ

    سر پٹکتی ہیں آکر کناروں پہ جو

    جس کو اب تک کسی نے چھوا تک نہیں

    اس غزل کے قدم چومنے کے لیے

    یہ حسن تعلیل ہے، مرثیہ گویوں کے امام میر انیس کے ہاں بڑی اچھی مثالیں ہیں اس کی، موقعے کا ایک شعر،

    پیاسی تھی جو سپاہ خدا تین رات کی

    ساحل پہ سر پٹکتی تھیں موجیں فرات کی

    لہروں کو واپسی کا سلام کیا اور ایئرپورٹ چل دیا، جہاں جاتا ہوں وہاں کچھ نہ کچھ اپنا کھو دیتا ہوں، میرا کچھ نہ کچھ وہاں رہ جاتا ہے، مجھے نہیں معلوم میں کالیکٹ میں اپنا کیا چھوڑ کر واپس ہو رہا ہوں، اس وقت میں کالیکٹ ایئرپورٹ کے رنوے پر ہوں، رنوے کے چاروں طرف کیلے اور ناریل کے درختوں سے ڈھکی پہاڑیاں اور کھائیاں ہیں، مجھے ناریل کے پتوں کی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے، جیسے وہ مجھے روکنے کی ضد کر رہے ہوں، میں انہیں جھوٹی تسلی دینے کے لیے بشیر بدر کا شعر سنا رہا ہوں،

    ناریل کے درختوں کی پاگل ہوا

    کھل گئے بادباں لوٹ جا لوٹ جا

    سانولی سرزمیں پہ میں اگلے برس

    پھول کھلنے سے پہلے ہی آ جاؤں گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے