Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پطرس بخاری مرحوم

صوفی تبسم

پطرس بخاری مرحوم

صوفی تبسم

MORE BYصوفی تبسم

    پطرس صاحب کی زندگی دل کی دلچسپیوں کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان کی بعض وابستگیوں کے ڈانڈے ایک بین الاقوامی افق سے ٹکراتے تھے، تو مبالغہ نہ ہوگا۔ بقول ان کے ان کے دل میں تنہا ایک ملک یا قطعہ ارضی کی یاد نہیں بلکہ بیک وقت چھ ملکوں کی یادیں سمائی ہوئی تھیں۔ وہ ان سب کو سینے سے لگائے رکھتے اور کسی ایک وقت بھی دل سے الگ نہ ہونے دیتے۔ یہ ان کے وسیع القلب ہونے کی دلیل تھی۔

    اس وسعت کی ساتھ ساتھ ان کی شخصیت میں ایک لوچ بھی تھا۔ وہ جہاں بھی ہوتے جسمانی اور ذہنی طور پر اپنے آپ کو اس ماحول میں سمولیتے یا یوں کہئے کہ اس ماحول کو اپنا لیتے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ایک یادان کی دل سے ہمیشہ لپٹی رہتی اور اس کی گرفت کبھی ڈھیلی نہ پڑتی وہ لاہور شہر کی یاد تھی اور اس کا شہر کا وہ بلند اور نمایاں ٹکڑا جسے دنیا گورنمنٹ کالج کے نام سے پکارتی ہے۔

    بخاری مرحوم اس کالج کے طالب علم بھی رہے ہیں۔ ان کی اعلے ٰ کا آغاز بھی یہیں سے ہوا تھا، ان کی علمی اور ادبی زندگی یہیں پروان دکھائیں لیکن اس کالج کے خیال سے کبھی غافل نہ رہے۔

    ایک وقت ایسا آیا کہ انہیں اس ادارے کو چھوڑ کرباہر جانا پڑا۔ ان کے قدم دنیا بھر میں گھومے، ان کے فکروذہن نے بڑی بڑی پروازیں دکھائیں لیکن اس کالج کے خیال سے کبھی غافل نہ رہے۔

    ریڈیو کے محکمہ میں تقریباً دس سال گزارنے کے بعد ۱۹۴۷ء کے اوائل میں دوبارہ کالج میں پرنسپل کی حیثیت سے وارد ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے وہ ایک دن کے لئے بھی اس سے الگ نہیں ہوئے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جن ان کا سامان ٹرک سے اتارا جارہا تھا تو وہ میرے ساتھ کالج کے وسیع صحنوں اور سرسبز میدانوں میں گشت لگارہے تھے اور ان کی آنکھوں کی چمک اور لبوں کا تبسم صاف صاف بتا رہا تھا کہ انہیں اس قدیمی ماحول میں اپنے آپ کو دیکھ کر کتنی مسرت ہورہی ہے۔ ان کے ذہن میں کالج کی عظیم الشان عمارت کا گوشہ گوشہ بدستور تازہ تھا۔ وہ ان میں سے یوں گزررہے تھے جیسے کوئی اپنے پرانے گھر میں پھر رہا ہو۔ وہ جہاں کوئی نئی چیز بھی دیکھتے تو انہیں اس میں اجنبی پن محسوس نہ ہوتا۔ جہاں کوئی چیز اپنی اصلی جگہ سے ہلی ہوتی تو کہتے ہیں! یہ کیا ہوا؟

    بہرحال وہ اس کوچے کے ذرے ذرے سے آشنا تھے، کیونکہ ادھر مدتوں آئے گئے تھے۔

    ان کے کالج میں آنے کے فوراً بعد حالات بگڑگئے۔ لاہور میں مسلمانوں اور ہندوؤں اور سکھوں کے باہمی تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ فرقہ وارانہ فساد شروع ہوئے لیکن بخاری صاحب مرحوم نے کالج کی فضا کو بڑی خوش اسلوبی سے محفوظ رکھا۔

    پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد حالات ابھی مخدوش تھے۔ مقامی طلباء اور اساتذہ کی طبعیتیں اکھڑی اکھڑی تھیں، اور باہر سے وارد ہونے والے اصحاب پریشانی کے عالم میں تھے۔ اس ابتری کی حالت میں انہوں نے کالج کو سنبھالا اور اس احتیاط اور محبت سے سنبھالا کہ اس کی روایات اور شان میں فرق نہ آیا۔

    مجھے خوب یاد ہے کالج میں فسٹ ایر کے داخلے کے دن قریب آرہے تھے۔ اخبارات میں داخلے کا اعلان ہوچکا تھا۔ داخلے کے فارم تقسیم ہورہے تھے۔ داخل ہونے والے بچوں کی ہر طرف چہل پہل تھی۔ بخاری صاحب کے قدم غیر معمولی طور پر تیزی سے پر طرف اٹھ رہے تھے۔ کبھی وہ نووارد امیدواروں کو دیکھتے، کبھی دفتر کے کلرکوں پر نظر ڈالتے، کبھی دوسرے کالجوں میں پہنچ کر وہاں کی فضا کو بھانپتے۔ ان کی دماغ میں ایک خلجان تھا۔ وہ یہ کہ کیا گورنمنٹ کالج میں آنے والے طلباء اسی قدیم معیار کے ہوں گے؟ کیا اس کی شنان حسب معلوم بلند رہے گی؟ کیا اس کی روایات میں فرق تو نہیں آئے گا؟

    جب درخواستیں گزارنے کا آخری دن آیا تو وہ صبح سے بے چین رہے۔ ہرپندرہ بیس منٹ کے بعد ہیڈ کلرک سے امیدواروں کی تعداد اور ان کی استعداد کے بارے میں پوچھتے۔ جب شام کو پانچ بجے انھیں معلوم ہوا کہ فسٹ ڈویژن میں پاس ہونے والے امیدواروں کی تعداد تقریباً ڈھائی سو تک پہنچ چکی ہے تو وہ خوش سے اچھل پڑے اور بے ساختہ کہنے لگے۔۔۔ صوفی! ہمارے بچوں میں بڑی جان ہے! اس کالج کو زندہ رکھیں گے۔

    داخلے میں انہوں نے کیا کیا کچھ کیا؟ یہ وہی لوگ جانتے ہیں جو ان کے شریک کار رہے۔ الله جانے انہوں نے کتنے بلکتے