Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پیر سابرمتی : مہاتما گاندھی

سراج انورمحمد میراں

پیر سابرمتی : مہاتما گاندھی

سراج انورمحمد میراں

MORE BYسراج انورمحمد میراں

    کہا جاتا ہے کہ تاریخ انہیں یاد نہیں رکھتی جو حالات اور وقت کے ساتھ چلتے ہیں اور اپنی زندگی میں ہی ایک کامیاب انسان بن کر اُبھرتے ہیں۔ بلاشبہ وہ اپنے دور حیات میں زندگی کے تقریباً ہر محاذ پر کامیابی حاصل کرتے ہیں اور اپنے دور کے لوگوں کے لیے توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں لیکن دنیا سے گزر جانے کے بعدوہ ماضی کی ایک داستان بن کر رہ جاتے ہیں جنہیں کچھ دنوں تک کچھ لوگ یا درکھتے ہیں اور پھر وہ ایک قصہ پارینہ بن کر تاریخ کے اوراق میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو وقت کے ساتھ نہیں چلتے بلکہ عام راستے سے ہٹ کر اپنے دور اور عہد کے عام تقاضوں سے اُوپر اُٹھ کر اپنے لیے ایک ایسے راستے کا انتخاب کرتے ہیں جو خود ان کے لیے کانٹوں بھرا ہوتا ہے لیکن آنے والی کئی نسلوں کو ایک ایسی شاہراہ حیات دے جاتا ہے جس پر چل کر وہ کامرانیوں اور کامیابیوں کی نت نئی منزلوں سے روشناس ہوتی ہیں تو تاریخ انہیں یا درکھتی ہے۔ موہن داس کرم چند گاندھی ایسی ہی ایک شخصیت کا نام ہے جو وقت کے ساتھ چلنے سے زیادہ وقت کو بدلنے میں یقین رکھتی تھی اور اسی لیے آج وہ تاریخ کے صفحات میں گم ہو کر نہیں رہ گئی بلکہ ہر آ نے والا دن گاندھی کی شخصیت اور ان کے افکار و نظریات کی تفہیم، تعبیر، تشریح اور تقلید وعدم تقلید کے تعلق سے ایک نئی بحث کا آغاز کرتا ہے۔ گاندھی جی کے مقلدین بھی تھے اور آج بھی ہیں اور ان کے مخالفین بھی ان کیدور حیات اور آج ان کے بعد بھی موجود ہیں۔ لیکن ان دونوں کے رویوں سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ آپ گاندھی جی سے چاہے اتفاق کریں یا نہ کریں، ان کی تقلید کریں یا نہ کریں لیکن انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ گاندھی جی پر ان کی موت کے 75 برسوں کے بعد آج بھی لکھنے، پڑھنے اور بولنے کا سلسلہ جاری ہے اور شائد آئندہ بھی جاری رہے گا۔

    تاریخ، زبان،ادب اور سیاست کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے مجھے گاندھی جی کی شخصیت اور ان کے افکار و نظریات سے خصوصی دلچسپی رہی ہے۔ گاندھی جی نسلی اعتبار سے ویشیہ یعنی بنیا اور مذہبی اعتبار سے ہندو مذہب کے ویشنو فرقہ مودھ سے تعلق رکھنے والے موہن داس کرم چند گاندھی 2 /اکتوبر 1869 کو گجرات، ہندوستان کے مغربی ساحلی شہر کا ٹھیواڑ کے پور بندر نامی مقام میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام کرم چند گاندھی اور والدہ کا نام پتلی بائی تھا۔ والد ہندو مودہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے جب کہ والدہ ہندو پر نامی ویشنو فرقہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ موہن داس کے گاندھی خاندان والے قوم کے بنیا تھے جو کرانے کا کاروبار کرتے تھے اور مالدار گھرانوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ گاندھی جی کے دادا اتم چند گاندھی پور بندر کے راجہ کے دیوان اور ریاست کی ایک معروف شخصیت تھے۔ آپ کی والدہ ایک مذہبی خاتون تھیں جو اکثر اوقات پوجا پاٹھ میں صرف کرتی تھیں۔ ماں نے ہی آپ کو ہندوروایات واخلاقیات کا سبق پڑھایا اور انہوں نے ہی آپ کو عدم تشدد کی تعلیم دی۔ گاندھی جی کے والد کرم چندگاندھی اور دادا اتم چند گاندھی ایمانداری اور راسخ العقیدگی کے لیے مشہور تھے۔ گاندھی جی اپنے والد کے تعلق سے لکھتے ہیں:

    ’’میرے والد کرم چند گاندھی پور بند رریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔ وہ بچے، باہمت اور فیاض لیکن تنگ مزاج تھے۔ انہوں نے ہمارے لیے بہت کم جائیداد چھوڑی کیوں کہ انہیں کبھی دولت جمع کرنے کا شوق نہیں ہوا۔ وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ تعلیم صرف گجراتی میں پانچویں جماعت تک ہی تھی۔ جغرافیہ اور تاریخ تو بالکل ہی نہیں جانتے تھے۔ لیکن چوں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا تھا اس لیے ایک اچھے وزیراعلیٰ ثابت ہوئے۔ ہندو مذہب کی تعلیمات انہوں نے اکثر مندروں میں جا کر اور مذہبی بحثیں سن کر حاصل کی تھیں۔‘‘

    مہاتما گاندھی کی ماں پتلی بائی بڑی مذہبی تھیں اور انہوں نے گاندھی جی پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔ عام طور پر لڑکیاں باپ کا اور لڑ کے ماں کا اثر زیادہ قبول کرتے ہیں، گاندھی جی کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا وہ اپنی ماں کے مذہبی مزاج اور جذبہ ایثار سے بے حد متاثر تھے۔ وہ اپنی ماں کے تعلق سے لکھتے ہیں:

    ’’میری ماں بڑی نیک بی بی تھیں۔ ساتھ ہی وہ کٹر مذہبی تھیں۔ کھانا ہمیشہ عبادت کے بعد ہی کھاتیں۔روزانہ ویشنومندرجاتیں۔۔۔ وہ جو سخت سے سخت عہد کرتیں انہیں نبھاتی بھی تھیں۔ یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں بھی کبھی قسمیں نہیں تو ڑیں‘‘

    انگلستان کا سفر اور اعلیٰ تعلیم

    گاندھی جی نے اٹھارہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔ اس وقت وہ ممبئی کے بھاؤ نگر کالج میں زیرتعلیم تھے لیکن وہ وہاں خوش نہیں تھے لہذا گھر میں ان کی آئندہ تعلیم اور کیرئیر کے بارے میں بحث شروع ہوئی۔ اسی زمانے میں انہیں مشہور انٹر ٹیمپل میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلستان جانے کی پیش کش ہوئی۔ لیکن گاندھی جی کے اہل خانہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ ماؤ جی دیو ایک عالم اور سوجھ بوجھ رکھنے والے برہمن تھے۔ گاندھی جی کے خاندان میں ان کی حیثیت ایک مشیر کی تھی۔ انہوں نے گاندھی جی کی والدہ اور بھائی سے کہا وقت بدل چکا ہے، اچھی تعلیم کے بغیر کرم چند گاندھی کی طرح اچھی ملازمت حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ بی اے کی سند لینے میں موہن داس کو چار سال لگیں گے۔ اور قانون کی سند کے لیے اور بھی وقت چاہئے۔ میرا مشورہ ہے کہ موہن داس کو اسی سال انگلستان بھیج دو۔ اس طرح گاندھی جی نے 18 سال کی عمر میں 1888 میں قانون کی پڑھائی کرنے اور بیرسٹر بننے کے لیے انگلستان کا سفر اختیار کیا۔ انگلستان کی طرف یہ روانگی اس قدر آسان نہیں تھی، خود گاندھی جی کے الفاظ میں:

    ’’کوئی مودھ بنیا اب تک انگلستان نہیں گیا تھا، لوگ میری اس جرات کا مواخذہ کرنے پر تل گئے۔ برادری کا ایک عام جلسہ ہوا اور میں اس کے سامنے طلب کیا گیا۔ میں نے تعمیل کی۔ خدا جانے مجھ میں ایک دم سے کہاں کی جرات آگئی۔ جلسے کے سامنے جانے میں، میں ذرا بھی نہیں ڈرا، مجھے خفیف سی جھجھک بھی محسوس نہ ہوئی۔ برادری کے سردار سیٹھ صاحب نے جو میرے دور کے رشتے دار اور میرے والد کے دوست تھے، مجھ سے اس طرح خطاب کیا ’’برادری کی نظر میں تمہارا انگلستان جانا ٹھیک نہیں ہے۔ ہمارے دھرم میں سمندر پار جانے کی ممانعت ہے۔‘‘

    گاندھی جی نے برادری کی اس حکم کو نہیں مانا اور انہیں برادری سے نکال دیا گیا۔ایک طرف یہ مسئلہ تھا تو دوسرے جانب والدہ بھی اس پر تیار نہیں تھیں کہ گاندھی جی سات سمندر پار جائیں اور انجانے خطرات میں گھر کر رہ جائیں۔بہر حال بڑی مشکل سے اجازت ملی ۔لندن جانے کے اخراجات کے لیے اپنی بیوی کا زیور بیچنے کی ٹھانی، لیکن اسکی نوبت نہیں آئی۔کیوں کہ ان کے فیاض بھائی نے اخراجات مہیا کرنے کا ذمہ لے لیا۔والدہ کی دعائوں کے سائے میں گھے پر بیوی اور چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر وہ بھائی کے ساتھ ممبئی روانہ ہوگئے۔ سمندر میں تلاطم کی بناء پر چند ماہ کی تاخیر ہوئی، آخرکار وہ حصول تعلیم کے لیے لندن پہنچ گئے۔

    جنوبی افریقہ میں قیام اور سماجی نا انصافی کے خلاف تحریک کی قیادت

    عبد اللہ اینڈ کمپنی نام کی ایک فرم کا کاروبار جنوبی افریقہ میں خوب پھیلا ہوا تھا۔ راجکوٹ میں اس فرم کا نمائندہ گاندھی جی کے بھائی کے پاس آیا۔ اس فرم کا 40,000 پونڈ کی مالیت کا ایک دیوانی مقدمہ جنوبی افریقہ کی ایک عدالت میں چل رہا تھا۔ جس کی پیروی ایک یوروپین وکیل کر رہا تھا۔ مگر اس کو گجراتی جاننے والے ایک معاون کی ضرورت تھی کیوں کہ فرم کا حساب کتاب اور خط و کتابت گجراتی میں ہوتی تھی۔ یہ ملازمت ایک سال کے لئے تھی۔ جس کے لئے آنے جانے کا کرایا اور کل 105 پونڈ کا مشاہرہ طے ہوا تھا۔ گاندھی جی نے یہ پیش کش قبول کر لی اور اس طرح ان کے پیشہ وکالت کا با قاعدہ آغاز ہوا۔ جنوبی افریقہ میں انہوں نے بیس سال سے زیادہ عرصہ گزارا۔ وہیں ان میں ایک عوامی رہنما کی خوبیاں سامنے آئیں۔ جنوبی افریقہ پہنچنے کے بعد انہیں دوسرے ہندوستانیوں کی طرح بہت سی ذلتیں برداشت کرنی پڑیں۔ان میں سے ایک واقعے نے تو ان کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔ جنوبی افریقہ میں جب وہ ٹرین کے فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے تھے تو انہیں ایک یوروپین گارڈ نے ٹرین کے ڈبے سے اتار دیا۔ فرسٹ کلاس کا ٹکٹ رکھنے کے باوجود وہ ایک انگریز کے ساتھ سفر نہیں کر سکتے تھے کیوں کہ وہ ایک ایشیائی تھے۔ جنوبی افریقہ میں رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیاز کیا جاتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اسٹیشن کی انتظارگاہ میں بڑی تکلیف کے ساتھ رات گزارنی پڑی۔ جب انہوں نے اپنے میزبان ہندوستانی تاجر کو بتایا کہ انہیں سفر میں کتنی ذلت اٹھانی پڑی تو اس نے کہا ایسے ملک میں صرف ہم ہی رہ سکتے ہیں کیوں کہ روپے کمانے کے لئے ہم ذلت کی پرواہ نہیں کرتے۔ گاندھی جی سوچنے لگے کہ کیوں نہ وہ ملازمت چھوڑ کر ہندوستان لوٹ جائیں لیکن بالآخر انہوں نے وہاں رہ کر اپنی ذمہ داری نبھانے کا فیصلہ کیا۔ کیوں کہ کام چھوڑ کر بھا گنا بزدلی کا کام تھا اور گاندھی جی کو یہ بالکل بھی پسند نہیں تھا کہ وہ ایک بزدل شخص کے طور پر یاد کیے جائیں۔

    جنوبی افریقہ میں مقیم ہندوستانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف انہوں نے 1894ء میں انڈین کانگریس قائم کی اور اس تنظیم کے ذریعے انہوں نے جنوبی افریقہ کی ہندوستانی برادری کو ایک متحد ہ سیاسی طاقت میں تبدیل کردیا۔اس طرح گاندھی جی کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ اگر چہ وہ اسے ایک اخلاقی عمل کا نام دیتے رہے۔ انہوں نے وہاں رہنے والے ہندوستانی باشندوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے نٹال انڈین کانگریس کی بنیاد رکھی۔

    ہندوستان واپسی

    جنوبی افریقہ میں اپنی تحریک کی کامیابی کے بعد گاندھی جی ایک فاتح کے طور پر 1896 میں ہندوستان لوٹ آئے۔ ہندوستان آنے کے بعد گاندھی جی اور کستوربانے فیصلہ کیا کہ وہ ریل کے تیسرے درجے میں پورے ہندوستان کا سفر کریں گے۔ ہندوستان کے اس دورے کے دوران گاندھی جی کو شدید صدمہ اس وقت پہنچا جب انہوں نے اپنے ملک کی غربت کو دیکھا۔ اس دوران گاندھی جی نے برطانوی حکومت کے نئے جابرانہ قانون رولٹ ایکٹ کی مخالفت کا اعلان کیا۔ اس قانون کے تحت حکومت کو یہ طاقت حاصل تھی کہ وہ کسی بھی شہری کو شدت پسندی کے شبہ میں گرفتار اور قید کر سکتی ہے۔ گاندھی جی کے کہنے پر ملک گیر سطح پر ہزاروں افراد اس قانون کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ تمام شہروں میں احتجاج کیا گیا۔ لیکن اس دوران متعدد مقامات پر پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔ امرتسر میں جنرل ڈائر نے 20 ہزار افراد کے ہجوم پر فائرنگ کر دی جس میں 400 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1300 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔ اس قتل عام کے بعد گاندھی جی کو یقین ہو گیا کہ انہیں ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا آغاز کرنا چاہیے۔

    کانگریس میں شمولیت

    دسمبر 1921 میں انڈیشن نیشل کانگریس نے گاندھی جی کو خصوصی اختیارات کے ساتھ پارٹی کی ذمہ داری سونپی، ان کی قیادت میں کانگریس ایک نئی تحریک اور جذبہ کے ساتھ آزادی کے مقصد کو لے کر دوبارہ منظم ہوئی۔ جس پر بیگ انڈیا میں گاندھی جی نے لکھا کہ 1921 سے کانگریسی رہنماؤ سے اتنی نزدیکی رفاقت کے ساتھ کام کرتا رہا ہوں کہ میں اس کے بعد کی اپنی زندگی کا کوئی بھی واقعہ ان کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کیے بغیر بیان نہیں کر سکتا۔ ذمہ داری ملنے کے ساتھ ہی پہلا وار کرتے ہوئے 21 دسمبر کو سینگ انڈیا میں انگریزی حکومت کے خلاف لکھا

    ’’ کہ لارڈ ریڈنگ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ عدم تعاون کرنے والے حکومت سے برسر جنگ ہیں، انہوں نے اس کے خلاف بغاوت کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

    اس تحریر کے ساتھ ہی انہوں نے کانگریس کے قائدین میں الگ سے جان پیدا کر دی۔ پارٹی میں رکنیت سازی شروع ہوئی۔ گاندھی جی اب اپنی روز افزوں مقبولیت کی وجہ سے انڈین نیشنل کانگریس کا نمایاں چہرہ بن گئے۔ وہ ہندوستان کی تحریک آزادی کے رہنما بھی بنے۔ اس جدوجہد کے لیے مہاتما گاندھی نے انڈین نیشنل کانگریس کو عوام میں ایک مقبول پارٹی بنا دیا۔

    جنگ آزادی میں گاندھی جی کا کردار

    آزاد وطن کی جدوجہد کے لیے گاندھی جی کی شروعات 1918ء میں چمپارن ستیہ گرہ اور کھیڑ استیہ گرہ میں ملی کامیابی سے ہوئی۔ یہیں سے وہ ایک قومی ہیرو کے روپ میں ابھر کر سامنے آئے۔ چمپارن بہار کا ایک پسماندہ قصبہ تھا۔ یہاں نیل کے کھیتوں میں کام کرنے والے کاشت کار رہا کرتے تھے۔ یہاں کے زمیندار انگریز کی طاقت کے سامنے دبے ہوئے تھے۔ وہ انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ گاؤں میں بری طرح گندگی تھی اور شراب نوشی کی لت عام تھی۔ قحط کی وجہ سے شاہی خزانے کی تلافی کے لیے انگریزوں نے چنگی لگا دی۔ جس کا بوجھ دن بہ دن بڑھتا ہی گیا۔ جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو بے حد ہراساں کیا جاتا رہا۔ انہیں مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے کھیت کے کم سے کم 3/20 حصہ میں نیل کی کاشت کریں۔ گاندھی جی نے وہاں ایک آشرم بنایا جہاں ان کے بہت سارے حامیوں اور نئے کارکنوں کو منظم کیا گیا۔ انہوں نے یہاں پر پہلے صفائی کا کام کیا۔ اسکول اور ہسپتال بنائے گئے اور سماجی برائیوں جیسے چھوا چھوت شراب نوشی کو ختم کرنے کے لیے دیہی قیادت کی حوصلہ افزائی کی۔

    چمپارن ستیہ گرہ کے بعد گاندھی جی ہندوستان کی سیاست میں ایک نئے لیڈر بن کر ابھرے۔ گاندھی جی نے عدم تعاون عدم تشدد کے وسیلے سے انگریزی حکومت کے خلاف لڑائی شروع کی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ گاندھی جی کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوئے۔ حکومت کو گاندھی جی کے خلاف مقدمہ واپس لینا پڑا اورکاشتکاروں کی شکایات کا جائزہ لینے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بٹھانی پڑی۔ ہندوستان میں گاندھی جی کے نئے ہتھیار’’ ستیہ گرہ‘‘ کی یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ انڈین نیشنل کانگریس نے ستمبر 1920 کے خصوصی اجلاس میں عدم تعاون کے پروگرام کو منظور کر لیا تو گاندھی جی قومی اور خلافت دونوں ہی تحریکوں کے رہنما بن گئے۔گاندھی جی نے ستیہ گرہ کے اصول اور طریقے اپنائے۔ ان کی قیادت میں ستیہ گرہ، ایک اہم سیاسی ہتھیار بن گیا۔ انہوں نے علی برادران کے ساتھ ہندوستان کا دورہ کیا اور ہندو مسلم اتحاد اپنے نقطہ عروج کو پہنچ گیا:

    ’’ گاندھی جی کی بات ہندو اور مسلمانوں دونوں احترام سے سنتے تھے وہ مسلمان عورتوں کے ایسے جلسوں میں بلائے جاتے تھے جہاں کوئی مردگاندھی کے علاوہ آنکھوں پر پٹی باندھے بغیر نہیں جاسکتا تھا۔‘‘

    سودیشی پروگرام کے فروغ کے ایک حصے کے طور پر غیر ملکی اشیاء کے مکمل بائیکاٹ اور تحریک عدم تعاون کی مکمل طور پر منظوری کے لیے ممبئی کے اجلاس میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس کے مطابق غیر ملکی کپڑے یا تو تباہ کر دیے جائیں یا انہیں صرف ہندوستان سے باہر استعمال کیا جائے۔ گاندھی جی نے 1930 میں نمک پر ٹیکس لگائے جانے کی مخالفت میں ایک نئے ستیہ گرہ کا آغاز کیا ۔

    ہند و مسلم اتحاد کے لیے مہاتما گاندھی کی کو ششیں

    مہاتما گاندھی نے بہبودی ریاست کے نظریہ کو عام کیا، انہوں نے زندگی بھر ہندوستان کو قومی اتحاد وسا لمیت، قومی یکجہتی ، جمہوریت، سکیولر ازم اور سوشلزم پر چلنے اور مضبوط و مستحکم بنانے پر زور دیا، وہ چاہتے تھے کہ ملک میں رام راجیہ کے ذریعہ اتحاد و سا لمیت، جمہوریت و سکیولر ازم کو مضبوط کیا جائے اور انگریزوں کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی کو ہمیشہ کیلئے دفن کر کے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا جائے۔

    گاندھی جی کی رہنمائی وقیادت میں ہندوستان نے نہ صرف انگریزوں کی غلامی کے شکنجہ سے آزادی حاصل کی بلکہ قوم پرستی کی تین اہم علامتیں بھی حاصل کی۔ ایک قومی ترانہ، دوسرا قومی دستور اور تیسرا قومی پرچم ۔

    مہاتما گاندھی نے ہندوستان اور ہندوستانیوں کو وہ سب کچھ دینے کی کوشش کی جس میں ملک اور ساری قوم کی بھلائی ہو۔ مثال کے طور پر رام راجیہ، ہندو مسلم اتحاد سیکیولر ازم اور جمہوریت کسی بھی ملک کے لیے یہ تمام عناصر خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو مہاتما گاندھی ملک میں ہندو مسلم اتحاد کے لیے ہی زندہ رہے اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے ہی اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ 1917ء کے دوران چمپارن میں عدم تشدد اور ستیہ گرہ کے ساتھ اپنے تجربہ کے فوری بعد گاندھی جی 1919ء میں تحریک خلافت کے ذریعہ جد و جہد آزادی میں کود پڑے جس کا مقصد صرف اور صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرنا تھا کیونکہ گاندھی جی کو یہ کامل یقین تھا کہ تحریک آزادی کے لیے یہ اتحاد بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔

    گاندھی جی کے اصرار اور وسیع تر قومی مصالحت کے ایک حصہ کے طور پر آزادی کے فوری بعد پنڈت جواہر لال نہرو نے جو دستور ہند کی تیاری میں مصروف تھے۔ دستور کی مسودہ کمیٹی کا صدرنشین ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کو بنانے سے اتفاق کیا۔ وہ پنڈت جواہر لال نہرو ہی تھے جنہوں نے قانون ساز اسمبلی میں قرار داد پیش کرتے ہوئے دستور کے اغراض و مقاصد پیش کئے اور وہ ایسے اغراض و مقاصد تھے جنہوں نے دستور ہند کو جمہوری سکیولر اور سماجی سمت عطا کیں۔ بعد میں پنڈت جواہر لال نہرو نے ڈاکٹر امبیڈکر اور شیاما پرساد کھرجی کو مرکزی کا بینہ میں شامل کیا۔ پنڈت جی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ دونوں کا تعلق انڈین نیشنل کانگریس سے نہیں ہے، دونوں کو ہی مرکزی کابینہ میں شامل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ ان کا اقدام دراصل وسیع تر قومی مصالحت کا ایک حصہ تھا۔

    گاندھی جی ہندو مسلم اتحاد کو ہی ملک اور شہریوں کی سماجی وسیاسی اور تہذیبی ترقی کا اصل ذریعہ قرار دیتے تھے۔ گاندھی جی نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تھا کہ مسلمانوں کے بغیر ہندوستان کی جد وجہد آزادی کامیاب نہیں ہو سکتی چنانچہ گاندھی جی نے علی گڑھ تحریک کے قائدین، مسلم لیگی رہنماؤں اور تحریک جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ شخصیتوں سے جدو جہد آزادی میں مسلمانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔اس طرح گاندھی جی کی کوششوں کے نتیجہ میں مسلمان بڑے پیمانے پر تحریک آزادی سے جڑنے لگے جو ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کے لیے نشانیوں کا باعث بن گیا اور پھر ملک میں انگریزوں کے زوال کا آغاز ہوا۔

    تقسیم ہند اور مہاتما گاندھی

    بیسویں صدی میں تقسیم ہند کی مخالفت وسیع پیمانے پر تھی۔ خدائی خدمتگار کے پشتون سیاست دان اور ہندوستانی آزادی کے کارکن خان عبد الغفار خان نے تقسیم ہند کی تجویز کو غیر اسلامی اور ایک مشترکہ تاریخ کے منافی قرار دیا جس میں مسلمان ایک ہزار سے زیادہ عرصے تک ہندوستان کو اپنا آبائی وطن سمجھتے

    تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا بھی یہی خیال تھا کہ ہندوستان کی تقسیم کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ مزید مسائل کو جنم دے گی، خاص طور پر اس کا سب سے زیادہ نقصان خود ہندوستان کے مسلمانوں کو ہوگا کہ جن کی جمیعت بکھر جائے گی اور ایک بکھری ہوئی قوم بن کر رہ جائیں گے۔

    مہاتما گاندھی نے بھی تقسیم ہند کی پرزور مخالفت کرتے ہوئے اپنی رائے دی کہ ہندو اور مسلمان ہندوستان کی ایک ہی سرزمین کے بیٹے اور آپس میں بھائی ہیں لہذا انہیں ہندوستان کو آزاد اور متحد رکھنے کے لیے جد و جہد کرنی ہوگی۔ گاندھی جی نے تقسیم ہند کو تمام مذاہب کے ہندوستانیوں میں اتحاد کے اپنے نظریے کے مخالف قرار دیا۔

    دیوبندی مکتب فکر کے علماء نے ’’پاکستان کے اس نظریہ کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ متحکم متحدہ ہندوستان کے ظہور کو روکنے کے لیے نو آبادیاتی حکومت کی سازش ہے‘‘ اور تقسیم ہند کی مذمت کے لیے آزاد مسلم کانفرنس کے انعقاد میں مددفراہم کی۔ انہوں نے یہ بھی استدلال کیا کہ اگر ہندوستان تقسیم ہوا تو مسلمانوں کی معاشی ترقی کو ٹھیس پہنچے گی۔ انہوں نے یہ بھی توقع کی کہ ’’متحدہ ہندوستان میں مسلم اکثریتی صوبے ہندو اکثریتی علاقوں میں بسنے والی مسلم اقلیتوں کی مدد کرنے میں آزاد پاکستان کے حکمرانوں سے زیادہ کارگر ثابت ہوں گے۔‘‘

    گاندھی جی کے افکار ونظریات

    گاندھی جی ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ انہیں انسانی فطرت پر ان کا ایقان وایمان بے پناہ تھا۔ 16 جون 1946 کو انہوں نے کہا تھا ’’جب ہم جانتے ہیں کہ تصویر کے دورخ ہوتے ہیں تب ہمیں تاریک پہلو سے ہٹ کر روشن پہلو کی طرف ہی دیکھنا چاہئے کیونکہ آگے بڑھنے کے امکانات ہمیشہ اسی طرف ہوتے ہیں۔ وہ ایک کرم یوگی کی طرح سب کچھ تقدیر پر چھوڑنے والے نہیں تھے۔ انہوں نے مشکلات، ظلم اور کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے انسانی جد و جہد، اس کی طاقت اور کارکردگی پر ہی زیادہ اعتماد ظاہر کیا۔ وہ نہ تو ماضی کے قید خانہ میں خود کو بند رکھنا چاہتے تھے اور نہ ہی یرغمال بن کر بلکہ ایک غیر معمولی مستقبل چاہتے تھے۔ انہوں نے انتہائی شرح وبسط کے ساتھ الل طور را سے نقطہ نظر کی وضاحت کی اور کبھی اپنے نظریات سے سمجھوتا نہیں کیا۔

    ہندوستان کی سب سے نمایاں شخصیت گاندھی جی کو دنیا کے عظیم رہنماؤں نے ایک مثالی شخصیت قرار دیتے ہوئے اپنے لیے آئیڈیل تسلیم کیا ہے۔ پوری دنیا میں عدم تشدد کی ایک طاقت ور علامت کے طور پر مہاتما گاندھی کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے۔ گاندھی جی کا عدم تشدد پر زور دینا ان کے ناقدوں پر بھی بار تھا اور برطانوی معترضین پر بھی، اگر چہ دونوں کے وجوہ مختلف تھے۔ برطانوی ناقدوں کی نگاہ میں عدم تشد د محض ایک نمائشی فریب تھا اور بعض ہندوستانیوں کی نظر میں یہ صرف کوری جذبات پرستی تھی۔ انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالنے کے بعد، گاندھی جی نے ملک سے غربت کم کرنے،خواتین کے حقوق کو بڑھانے، مذہبی اور نسلی خیر سگالی، چھوت چھات کے خاتمہ اور معاشی خود انحصاری کا درس بڑھانے کی مہم کی قیادت کی۔ انہوں نے بھارت کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے سوراج کا پر عزم راستہ اختیار کیا۔ وہ ہندوستان کے سیاسی اور روحانی رہنما اور آزادی کی تحریک کے اہم ترین کردار بنے۔ انہوں نے حصول آزادی کے لیے ستیہ گرہ اور عدم تشد دکواپنا ہتھیار بنایا۔ ستیہ گرہ ظلم کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی تحریک تھی جو عدم تشدد پر بنی تھی۔ یہی تحریک آگے چل کر ساری دنیا کے لیے حقوق انسانی اور آزادی کی تحاریک کے لیے روح رواں ثابت ہوئی۔

    ملک میں آج بھی آپ کو احترام سے مہاتما گاندھی اور باپو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ حکومت کی جانب سے آپ کو بابائے قوم (راشٹر پتا) کے لقب سے نوازا گیا۔ گاندھی جی کی یوم پیدائش یعنی دوا کتوبر گاندھی جینتی کے موقع پر بھارت میں قومی تعطیل ہوتی ہے اس دن ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں یوم عدم تشد دو اہنسا کے طور پر منایا جاتا ہے۔

    مہاتما گاندھی کی تعلیمات پر اگر غور و خوض کریں تو اس کے تین بنیادی پہلو سامنے آتے ہیں ان میں سب سے پہلے عدم تشد د یا آہنسا، دوسرے سچائی پر مضبوطی سے جمے رہنا اور اس کے ساتھ ہی انفرادی سیاسی حق رائے دہی یا سوراج کا حصول۔ گاندھی جی امن پسندی اور صلح جوئی کے قائل تھے۔ انہوں نے ہندو مذہبی کتب کے علاوہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور بدھ مت کی تعلیمات کا مطالعہ گہرائی سے کیا تھا۔ گاندھی جی نے اپنے خیالات کا اظہار ایک مرتبہ کچھ اس انداز میں کیا:

    ’’مجھے پہلے سے زیادہ اس بات کا یقین ہو چلا ہے کہ اسلام نے تلوار کے زور پر اپنا مقام پیدانہیں کیا، بلکہ اس کا سبب پیغمبر کا اپنی ذات کو کاملاً فنا کرنا،حد درجہ سادگی، اپنے وعدوں کی انتہائی ذمہ داری سے پابندی، اپنے دوستوں سے انتہائی درجے کی عقیدت، دلیری، بے خوفی، اپنے مشن اور خدا پر پختہ ایمان ہے۔‘‘

    انہیں روایات سے متاثر ہو کر عدم تشدد کے پیشوا کے طور پر پوری دنیا میں اپنی منفر دوممتاز حیثیت رکھنے والے گاندھی جی نے سچ بولنے کی قسم کھائی تھی اور دوسروں کو بھی ایسا ہی کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ وہ سابرمتی آشرم میں رہتے اور سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ لباس کے طور پر روایتی ہندوستانی دھوتی اور شمال کا استعمال کرتے رہے، اور ایک دن یعنی ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ ء ؁ کویہ عظیم شخصیت کا نتھورام گھڑسے نے گولی مارکر قتل کردیا۔

    حوالہ جات

    ۱) میری آپ بیتی : مہاتما گاندھی ، مترجم عائشہ شمس، صفحہ ۳

    ۲) تلاش حق : مہاتما گاندھی ، مترجم ڈاکٹر سید عابد حسین، صفحہ ۳۴

    ۳) مہاتما گاندھی کی تقاریر و تجاویز، صفحہ ۳۱۰

    ۴) مہاتما گاندھی ، منصف بی آرنندا، ص۱۹۴

    ۵) مہاتما گاندھی : جے بی کرپلانی، مترجم لکشمی چندرداس، صفحہ ۳۹۳

    ۶) سوارج ہند، مہاتما گاندھی ، مترجم سید نجیب اشرف ندوی، صفحہ ۵۲

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے