پوسٹ کالونیل تناظر اور مزاحمتی ادب

نعیم بیگ

پوسٹ کالونیل تناظر اور مزاحمتی ادب

نعیم بیگ

MORE BYنعیم بیگ

     

    بیسویں صدی میں بعد از جنگ عظیم دوئم ایک ایسے دور کا آغاز ہوا، جہاں دنیا بھر میں نوآبادیاتی نظام نے دم توڑنا شروع کر دیا تھا۔ یورپی اقوام، بالخصوص اتحادیوں کی جملہ مقتدر سیاسی جماعتوں کو جنگ کی ہولناک تباہیوں کے پیش نظر ان اندیشہ ہائے فکر کا سامنا تھا، کہ انھیں اب ان کالونیز سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا، جہاں استعمار کی لوٹ مار اور بد اعمالیوں سے معاشی و سیاسی بدحالی اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ 

    یورپی جنگوں نے نوآبادیاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک ایسا زخم لگایا تھا، جس سے امپیریلزم کا اعصابی سسٹم انتشار و انتقاض کی لپیٹ میں آگیا تھا۔ اس سے پہلے بھی استعماریت اپنے طور پر کالونیل دور میں کمزور سیاسی، ثقافتی و سماجی مزاحمت کا سامنا تو کر رہی تھی، لیکن استعمار کی مائٹی طاقت کے سامنے علاقائی اور مقامی قوتیں ہیچ تھیں۔ 

    اس تناظر میں چالیس کی دھائی کے آخری برس بہت اہم تھے۔ تین بڑے براعظم ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ بالواسطہ طور پر نوآبادیاتی نظام کی جکڑ میں تھے، جہاں سیاسی و ادبی مزاحمت نوآبادیاتی ثقافتی پیراڈاکسز کو لئے ابھر رہی تھی، لیکن قطعیت قبول عام نہ تھی۔ ایسی صورت میں جب ۷۴۹۱ میں ایک طرف ہندوستان کی تقسیم اور آزادی کا اعلان ہوا، اور پاکستان کا قیام وجود میں آیا، وہیں مشرق وسطیٰ میں ۸۴۹۱ میں اسرائیل کا قیام ایک اہم پیش رفت تھی۔ 

    برصغیر میں ہر دو ممالک تقسیم و آزادی سے پہلے چونکہ سلطنت انگلیشیہ کے تحت تھے، لہذا یہاں پر مابعد نوآبادیاتی مسائل کی شاخیں ابھی نئی کونپلوں سے آشنا نہیں ہوئی تھیں، انہیں پھوٹنے کے لئے مسلسل کنفلکٹ اور مزاحمت جیسے جوہر کی آبیاری کی ضرورت تھی۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں کانگریس نے ایک دبیز ریاستی پردہ اوڑھ لیا اور فوری طور پر آئین سازی کی اور اس کے بعد اپنی زرعی و دیگر سوشل اصلاحات کی طرف متوجہ ہوگیا، جبکہ نومولود پاکستان نہ صرف لیڈر شپ کے بحران کا شکار ہوگیا، بلکہ اپنے معاشی مسائل اور شمال مشرقی اور شمال مغربی سرحدوں کی غیر متعینہ صورت حال سے دوچار رہا۔ 

    دوسری طرف اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطین کی تقسیم سے فلسطیوں کا ایک اکثریتی حصہ محروم الآرث کا شکار ہو گیا۔ جغرافیائی محرومی سے قطع نظر مذہبی اور متبرک مقامات، بیت المقدس کی غیر اعلانیہ تقسیم اور بعد ازاں اسرائیل کی انانیت مزاحمتی تحریک کے ہر اول دستے کا ہتھیار ثابت ہوئیں، چونکہ وہاں قیادت اپنی فکری سوچ کے ساتھ جواں تھی، یوں مزاحمت اپنی جڑیں مضبوط کرنے لگی۔ 

    تاہم ادب میں مزاحمتی اصطلاح کے طور پر ’ادب المقاومۃ‘ کی تاریخی اصطلاح اس وقت رائج ہوئی، Adab ul Muqawama meaning thereby (Literature of resistance) which later termed as doctrine of Muqawma۔ جب ۶۶۹۱ء میں فلسطینی ادیب و نقاد غسان کنفانی نے ”فلسطین میں مزاحمتی ادب ۶۶۔۸۴۹۱“ 1 کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔ غسان نے یہ مضمون ۷۶۹۱ کی جنگ سے پہلے لکھا، جس میں فلسطینی مجاہدین اور اسرائیل کے کنفلکٹ کو نہ صرف نمایاں عالمی ادب کا حصہ بنایا، بلکہ ہم عصر تحاریک جو اس وقت آزادی کی جد و جہد میں لاطینی امریکہ، مشرق بعید اور افریقہ میں جاری تھیں، کے ساتھ لا کھڑا کیا۔ 

    اس مقالے میں مغربی استعماریت کے خلاف ایک پوری تاریخ درج ہونے کے ساتھ ہی مزاحمتی ادب کا کردار، اس کے بنیادی عناصر اور وسیع تر مابعد نوآبادیاتی رحجانات، تفاوت کو زیر بحث لایا گیا۔ غسان نے ایک کام اور کیا کہ انہوں نے علامتی ابلاغیات (سیمیوٹک) سے ہٹ کر مزاحمت کے وسیع تر معنیاتی نظام کو بھی تشکیل دینے کی صراحت کی۔ مزاحمتی متون کی تثلیث کاری ’سیاق، تناظر و ثقافت‘ کو یک جا کرتے ہوئے اسے تجارب کی دنیا سے نکال کر ایک حقیقت کا روپ دینے کی بے مثال کوشش کی، جو بعد ازاں مزاحمتی محرکات کی متصورہ صورت متعین کرنے مد و معاون ثابت ہوئی۔ 

    جب ۶۶۹۱ میں یہ مقالہ لکھا گیا تب اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں سنسر شپ لگایا ہوا تھا، لہذا ایک عرصہ تک عرب دنیا اور عالمی دنیا مقبوضہ فلسطین میں لکھے جانے والے ادب سے ناآشنا تھی۔ اس زمانے میں غسان نے زیادہ تر ادبی ملفوظات کو محفوظ کرنے اور انھیں یک جا کر نے میں وقت گزارا۔ 

    غسان کا خیال تھا کہ مزاحمت ہمیشہ مقبوضہ اور غیر مقبوضہ علاقوں میں کسی ایک قوم کے منقسم ہو جانے پر منصہ شہود پر آتی ہے۔ جہاں ثقافت اور لسانی بنیادیں یکساں ہوں لیکن ایک حصہ تارک الوطن ہو جائے یا جلا وطن اور دوسرا مقبوضہ حصہ میں اپنی ثقافت و عقائد کے چھینے جانے پر اسکا محافظ بن جائے۔ غسان کے فکری مزاحمتی نظریے کے مطابق مقبوضہ حصے میں ثقافتی اور ادبی سرگرمیاں ”جبری ثقافتی حصار“ یا ”کلچرل سیج“ کی صورت اختیار کر جانے کی وجہ سے اپنی اسی حیثیت سے پہچانی جائیں گی، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے مزاحمتی ادب جنم لیتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے غسان بظاہر اس بات سے لاتعلقی اور ترک دعویٰ کا اظہار کرتا ہے لیکن درحقیقت یہ بنیادی حقائق ہیں، جہاں وہ مزاحمتی ادب کے ان جوہری عناصر کی نشان دہی کرتا ہے، اور ایسا کرتے ہوئے عالمی نقادوں کو ایک ایسا خلا (ویکیوم) مہیا کر دیتا ہے جسے پر کرنے کے لئے عالمی دانشور اپنے عمودی اور افقی تحقیقی و فکری سطح کے نئے خیالات تجسیم کریں۔ در اصل یہ حقیقت پسندانہ عمل خود اس بات کی گواہی دیتا ہے، کہ غسان کا ترک تعلق کا یہ بیان بذات خود ادبی تنقید و تحقیق کے ان ضوابط کے تحت ان تمام مضامین کو جو مزاحمتی ادب کے دائرہ کار میں آتے ہوں، پر بھرپور توجہ اور اضافت کا اظہار ہے۔ 

    اس پس منظر میں یہ قرین از قیاس ہے، کہ کوئی بھی عمومی نظریاتی فلسفہ اپنی اضافت اور قطعیت کے ساتھ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا بالخصوص مزاحمتی ادب کے حوالے سے، جب تک کہ متعلقہ تنقید نگار اس نظریاتی و فلسفیاتی معنیاتی نظام کے تفاوت کو جغرافیائی طور پر اپنی ذاتی موجودگی سے خود پرکھ نہ لے۔ مزاحمتی ادب میں قلمکار دور بیٹھ کر فکشنل انداز سے اپنی تحریر کو ضوابط سے مرصّع تو کر سکتا ہے، لیکن ان انتقادی تشکیلات کی حدود کو چھو نہیں سکتا، جو موجودات خارجی سے پیدا ہو تی ہوں۔ 

    معروف نقاد میلڈوناڈو ڈینس اپنے مزاحمتی ادبی کے مقالے ” اینٹیلکچوئلز رول ان پیرو ریکو ٹوڈے“ میں رقم طراز ہے کہ ”مزاحمتی ادب دانشوروں کا ایک مخصوص ادبی انداز ہے جس سے وہ سماجی و ثقافتی جبر کو آسولیشن میں دیکھتے ہیں۔“ 2

    تیسری دنیا کی قریبی تاریخ مزاحمتی منظر کو اپنے عدم وجودیت کی تناظر میں نہیں دیکھتی، بلکہ اسے ممکنہ حد تک کالونیلزم کے اثرات کے ابتدائی رول سے دیکھتی ہے۔ ”گلوبل رفٹ“ میں ایل۔ ایس۔ سٹاورنوس اس جملے سے اپنی بات شروع کرتے ہیں کہ ”نوآبادیاتی نظام در حقیقت پندرہویں صدی سے اٹھارویں صدی تک عالمی سرمایہ دارانہ تجارتی ظہور کی ایک شکل تھی جس نے جغرافیائی حدود کو اپنی لامحدود طاقت سے مقبوض کیا اور ان مقبوضہ سوسائٹیز کے ساتھ نئے اختلاط کی شروعات نتائجیت کی پروا کئے بغیر اختصام کی راہ پر مَنتج کیں۔“ 

    ایسی ہی صورت حال برصغیر کو اس وقت پیش آئی جب تقسیم ہند کے وقت کشمیر و دیگر سرحدی تنازعات کو حل طلب چھوڑ کر سلطنت برطانیہ یہاں سے نکل گئی۔ انکے ابتدائی خیال میں ہندوستان کو چھوڑ کر چلے جانے کے بعد یہ منقسم خطہ بوجہ اپنے سرحدی تنازعات رہائش کے قابل نہ ہونگے۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے وہی صورت حال پیدا کی جو غسان مزاحمتی ادب کے حوالے سے سیاسی تجزیہ کرتے ہوئے کہتا ہے، یعنی ’کلچرل سیج‘ کشمیر کی حق خودارادیت اور بعد ازاں تقسیم کا تنازع در حقیقت ایک ایسی ہی صورت حال تھی، جس کی بنیاد پر ایک بڑے کشمیری طبقے نے جلا وطن ہو کر پاکستان میں پناہ لی اور پھر دونوں جانب سے مزاحمتی تحریک کا احیاء ہوا۔ 

    مزاحمت در حققیقت ان آزاد سماجی و ثقافتی رویوں کے جبری استحصال سے انکار کا نام ہے، جو سیاسی و عمرانی دباؤ کے تحت انسانی زندگی میں در آتا ہے۔ اسی جبری برتاؤ اور دستور کو جب ایک ادیب و شاعر اپنے الفاظ میں ایک جد و جہد کا نام دیتا ہے، تو اسے ہم مزاحمتی ادب کی شرح میں قبولیت بخشتے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آزادی کا حصول ایک مرحلہ وار اور ہمہ جہت جنگ کی شکل میں ہوتا ہے۔ 

    ہندوستان سے نکلتے ہوئے سلطنت برطانیہ نے کس تیزی کے ساتھ مسائل کے انبار کو بالعموم اور سرحدی تنازعات کو بالخصوص دانستہ پیچھے چھوڑا، کہ کئی ایک دھائیوں تک مقبوضہ اور غیر مقبوضہ اقوام اس کنفکلٹ (Conflict) سے باہر نہ نکل سکیں۔ ایسی ہی صورت انہوں نے اسرائیل میں پیدا کی تھی۔ اور یہی وہ بنیادی سیاسی وجوہات ہیں جن سے تارک الوطنی اور جلا وطنی کا انکھوا پھوٹتا ہے، یوں مزاحمت اپنی پوری اخلاقی و مادی طاقت سے ابھر کر جنم لیتی ہے، اور پھر مزاحمتی ادب کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ 

    ان حقائق کے پیش نظر اس حقیقت سے بھی نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ دنیا بھر میں اکیسویں صدی کے آغاز سے عالمی طاقتوں نے ایک نیا منظر نامہ لکھنا شروع کیا ہے جس کے ابھی ابتدائی باب لکھے جا رہے ہیں۔ وہیں ادب کا نظریاتی و جدلیاتی پس منظر تیزی سے بدلتا جا رہا ہے۔ 

    اس سے پہلے چونکہ فکری و علمی سطح پر انقلاب فرانس اور انقلاب روس اور پھر کہیں بہت پہلے سولہویں صدی کی اولین دھائیوں میں مارٹن لوتھر کی مذہبی روایات سے رو گردانی کے ڈانڈے بہر طور ان نظریات سے متصادم نہ تھے، جو کسی بھی انسانی حقیقت کو اسکے علاقائی، لسانی اور ثقافتی جوہر سے الگ کر کے دیکھے جاتے ہوں۔ 

    بین ہی دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں نئے نظریات اور فکری پہلوؤں پر اس طرح مباحث ہوئی، کہ گلوبل ادب کارل مارکس کی داس کپیٹل سے سارتر کے وجودیت کے فلسفے اور کامیو کے ایگزسٹلزم تک کے نظریات کو دنیا بھر میں نہ صرف ادبی نقطہ نظر سے مقبولیت ملی، بلکہ یہ عالمی نظریات ایشیا اور دور دراز لاطینی امریکہ تک پہنچے اور اینلاٹنمنٹ کی ابتدا ہوئی۔ انسان جاگ گیا اور اس سے کہیں زیادہ ان ادباء و شعرا پر اثرات آئے، جو طلسماتی یا جادوئی دنیا کی فیٹاسی میں مبتلا ادب تخلیق کر رہے تھے۔ ہمارے ہاں یہ تبدیلی حقیقت نگاری کے جد امجد منشی پریم چند کی دیہی اور شہری مسائل پر مبنی ترقی پسند تحریروں سے اپنے قدموں پر پہلے سے ہی کھڑی ہو چکی تھی، جسے بعد میں ایک بڑے قافلے نے پروان چڑھایا۔ 

    لیکن اہم بات یہ دیکھنی ہے کہ عمرانی و سماجی و ثقافتی ارتقائی مدارج طے کرتے ہوئے مزاحمتی ادب کی معنوی تشکیلات کیا وہی رہیں، جہاں سے اس کے سوتے پھوٹے تھے یا پھر مابعد جدیدیت دور میں بکھر کر نئے تناظری متون نے جنم لے لیا ہے۔ ایشیا میں اور خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں عالمی مزاحمتی ادب اور اس کے اثرات کہاں کہاں تک پہنچے۔ انسانی زندگی میں جہاں ادب اسکی حقیقی تصویر دکھاتا ہے، وہیں ایک خاص نہج پر معاشرے کے اندر پنپنے والی برائیوں کو ایک ایسے آئینہ کے ذریعے منعکس بھی کرتا ہے جسے ہم ادب پارے کہتے ہیں جس کے ادبی و ثقافتی اثرات معاشرے پر بالعموم، اور سماجی زندگی میں بالخصوص نظر آتے ہیں۔ تاہم مزاحمتی ادب ایسے منظر نامہ کی تصویر کشی کرتا ہے جو مخصوص سیاق و تناظر سے ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ 

    اب اس سارے تقویمی اور ارتقائی ادبی مدارج کو اگر کوئی عمل سبوتاژ کرتا ہے، تو وہ مذہب کی اَن دیکھی روایات اور تشریحات ہیں، جنھیں ایک خاص مذہبی طبقے نے حقیقی و فطری بیانیوں سے کشید تو کیا، لیکن ان قانون پاروں اور صحیفوں کو فلسفہ اور منطق سے دور رکھے جانے پر، اور کسی بھی سائنسی سوال کو پیدا ہو نے سے روکے جانے پر، وہ تمام تشریحات کسی بند جوہڑ کے کائی زدہ پانی کی طرح بدبو دار، ناقابل استعمال اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن گئیں۔ 

    یہی وجہ تھی کہ مارٹن لوتھر نے اپنی تحریروں اور تقریوں سے سولہویں صدی میں بڑھتی ہوئی انسان دشمن کیتھولک فرقہ کی پاپائیت کو شدید مزاحمت سے روکا۔ بین ہی بیسیویں صدی میں مغرب نے کیمونزم کے خطرے سے نبٹنے کے لئے سرد جنگ کے بعد مسلمانوں کو جو عرصہ دراز سے ملوکیت کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے بیزاری کی طرف مائل تھے، انھیں کیمونزم کے خلاف جہاد کا نعرہ دیکر کھڑا کر دیا گیا۔ یہ مزاحمت کی ابتدائی خام شکل تھی، جسے عملی طور پر کیمونزم کے خلاف استعمال کرنے میں استعماریت نے ذرا بھر تامل نہیں کیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علم و فکر و عمل سے دوری کے باعث ایشیائی ثقافت کا اکثریتی مسلمان حصہ اس جہادی تنظیموں کا دلدادہ ہو گیا۔ 

    اکیسویں صدی کے اوائل میں جب یہ مبینہ جہادی مزاحمتی تنظیمیں دنیا بھر کے انسانوں کے لئے ایک عذاب بن کر اتریں، تو عالمی طاقتوں نے انہیں روکنا چاہا، لیکن خاطر خواہ حتمی کامیابی نہیں ہوئی۔ یہاں مروجہ جمہوری اقدار کے پس منظر میں اس خام مزاحمت کی توجیہہ کار دارد اور طویل تشریح کی متقاضی ہے۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس یک رخی خام مزاحمت نے مزاحمتی ادب کی تشکیل میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا، جیسا ہندوستان کی سرزمین میں تصوف کے علماء کرام نظام الدین اولیا، خوجہ معین چشتی، فرید الدین شکرگنج، بابا بلھے شاہ، سچل سرمست، لال شہباز قلندر نے اپنے دور میں اپنی شاعری اور نثری تحاریر و تقاریر سے کیا۔ 

    یہاں ہم برصغیر، بالخصوص پاکستان میں پیدا ہونے والے دیگر مزاحمتی محرکات کا ایک سرسری جائزہ بھی لیتے ہیں۔ پاکستان کے ابتدائی حالات میں ہی ایک بڑی امپیرئیلسٹک سٹرائک نے اس مزاحمتی تحریک کو دم توڑنے پر مجبور کر دیا، جو ابھی جاگتے خواب کی تشریح کرنے جا رہی تھی۔ اشتراکی نظریات کی کونپلیں ابھی اپنے انکھواء میں ہی تھیں، کہ ان شاخوں کو تنوں سے علیحدہ کر دیا گیا۔ ریاست کے خلاف سازش کا نام دیکر ادیبوں و شاعروں و دیگر کرتا دھرتاؤں کو پابند و سلاسل کر دیا گیا یا جلا وطن کر دیا۔ جو حقیقی طور پر استعمار (مابعد نو آبادیاتی عکس استعمار) کے ظلم و جبر کے خلاف ایک مزاحمت کا روپ دھار رہی تھیں۔۔۔ 

    یہی وہ وقت تھا جب انقلابی و مزاحمتی ادب نے پاکستان میں ایک نئی فضا قائم کی۔ فیض احمد فیض، حبیب جالب، جوش ملیح آبادی، سبط حسن سمیت دیگر کئی ایک ترقی پسند دانشوروں اور ادیبوں نے انسانی روحوں کو گرما دینے والے فن پارے جنم دیئے اور مزاحمتی ادب کا ابتدائی باب لکھا جانے لگا۔ 

    معروف شاعر اور دانشور ڈاکٹر ابرار احمد اپنے مضمون ”مزاحمتی ادب“ میں لکھتے ہیں۔ 3 ’’دوسرے طرف ژاں پال سارتر کہتا ہے، ’ادیب کا قلم اس کا ہتھیار ہے، بلکہ فرانسیسی ادیبوں نے تو دوسرے ہتھیاروں کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا، کہ وہ بحیثیت ادیب عملی جد و جہد کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو آزاد خیال نہیں کرتے تھے اور آزادی کا حصول انکا حق تھا، جس کے لئے انہیں ہر محاذ پر لڑنا تھا، لیکن ایسی جد و جہد ایک ایسے معاشرے میں ہی ممکن ہے جہاں آزادی کی کوئی نہ کوئی شکل پہلے سے موجود ہو یا پھر استحصالی قوتیں اپنی بالا دستی کی نتیجے میں محکوم طبقوں کو ”تنگ آمد، بجنگ آمد“ کی سطح پر لے جائیں۔“ 

    یہ وہی صورت حال ہے جیسے حبیب جالب نے ایوب خان کے عہد میں نئے نظام کی خلاف اپنی معرکۃ الآرا نظم کہی۔ 

    ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
    میں نہیں جانتا، میں نہیں مانتا

    ڈاکٹر ابرار آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ”دوسری طرف فیض احمد فیض اپنے مخصوص کلاسیکی اور دھیمے لہجے میں جبر و استبداد کے خلاف جہاد میں مصروف تھے۔‘‘ وہ خاموش رہنے والوں کو بول اٹھنے کا درس دیتے رہے۔ 

    بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
    جسم و زباں کی موت سے پہلے

    بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
    بول جو کچھ کہنا ہے، کہہ لے

    اور پھر
    چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں 
    تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں 
    آج بازار میں پابجولاں چلو

    ایسے میں ہمارے ہاں سیاسی مزاحمتی محرکات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ادب پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ ایوب خان کے عہد امریت میں ادیب نے علامت اور تجریدیت کا سہارا لیا، لسانی تجربات ہوئے لیکن مزاحمت کا عنصر غیر ملکی تراجم کی طرف مڑ گیا۔ پابلو نیرودا، ناظم حکمت محمود درویش کی تخلیقات کے تراجم سامنے آئے۔ خصوصی فروخ فرخ زاد جنہیں بعد ازاں موت کی سزا ملی۔ اسی طرح ن۔ م راشد نے ایران کے باغی شاعروں کا ترجمہ کیا۔ 

    ڈاکٹر ابرار احمد اپنے مقالے میں رقم طراز ہیں، ”ایوب خانی مارشل لاء نے یحییٰ خانی مارشل لاء کو جنم دیا اور ملک ایک اندھیرے سے دوسرے اندھیرے میں اتر گیا۔ ایک خونریز اور خوفناک جنگ کے بعد مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہو گیا۔۔۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ناصر کاظمی، مختار صدیقی، مجید امجد، یوسف ظفر اور باقی صدیقی اس صدمے کی تاب نہ لاکر اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔“ 

    اس سانحہ پر جن نثر نگاروں نے مزاحمتی ادب کے فن پارے تخلیق کئے ان میں انتظار حسین کا مجموعہ ”شہر افسوس“ مسعود اشعر کا افسانہ ”اپنی اپنی سچائیاں“، ”ابابیل“ اور ”بیلا نائی رے جولدی جولدی“، اے حمید کا ”جاگتے رہنا“، میرزا حامد بیگ کا ”تربیت کا پہلا دن“ اور ”رہائی“ شہزاد منظر کا ”یوٹوپیا“ و دیگر بے شمار نثری تخلیقات مزاحمتی ادب کا حصہ بنیں۔ 

    یہ ایک اتفاق ہے کہ ہندوستان میں مابعد نوآبادیاتی نظام ایک عرصے تک خاموشی رہی۔ تاہم عالمی منظر میں مڈل ایسٹ، وسطی ایشیا اور جنوب مغربی ایشیا میں جنم لیتی ہوئی غیر حقیقی مزاحمتی مذہبی تحاریک نے ہندوستان کی ہندو آبادی جو تقسیم پاک و ہند کے بعد کسی حد تک سیاسی بالیدگی اور عمرانی و سماجی شعور سے بازیافت ہو رہی تھی، کو شدید متاثر کیا جس کا اندازہ انکے ہاں اٹھنے والی مخصوص ذہن کی ہندو مت سیاسی پارٹیوں کے انتشار پسند رویوں سے کیا جا سکتا ہے۔ تحریر سے زیادہ تقریر کے ذریعے انسانی ذہن کی پیداواری روایات، جو اگلے وقتوں کے سماج میں رائج تھیں، کو ایکسپلائٹ کرتے ہوئے ہندو مت انتہا پسندی کو مزاحمت کا روپ دینے کی کو شش کرنے لگا۔ یہ انسانی زندگی کا وہ تاریک پہلو ہے، جس نے برسوں سے دیکھے گئے انسانی ترقی کے خوابوں کو زمین بوس کر دیا ہے۔ وہی خواب، جو اس سرزمین کے انسان نے استعماری فسطایت سے چھٹکارا پانے کے دیکھے تھے۔ انھوں نے یہ نہ سوچا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اس پورے خطے میں دو سو کروڑ کی آبادی کے چند ممالک جس کی اقلیتیں بھی دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے کئی ایک ملکوں سے بڑی ہیں، اپنی سلامتی و پرامن حیات کی ضمانت اپنی ریاست سے لے پائیں گی جس کی اساس میں آزادی کا ترانہ اقلیتوں کے ساتھ لکھا اور پڑھا جاتا ہے؟ 

    دلتوں کی بستیاں صرف اس بنیاد پر تہ تیغ کر دی گئیں کہ وہ معاشی طور پر اور روائتی ہندو مت کے مطابق شودر اور نیچ ذات ہیں۔ انہیں انسانوں کی فہرست سے نکالا جا رہا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ چالیس کروڑ سے زائد دلت معاشرے کا حصہ نہ رہیں۔ 4

    یوں اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے، کہ مزاحمت اپنی نئی جہت کی بازیافت کے مرحلہ میں آ گئی، ایک عام ہندو بھی اس انتہا پسند برہمناچاری سوچ سے بیزار نظر آنے لگا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہندو انتہا پسندوں کا نیا مزاحمتی بیانیہ تشکیل ہی نہیں ہو پایا ہے۔ 

    بالکل اسی طرح جیسے پہلے عرض کیا، گزشتہ دو دھائیوں سے پاکستان اور افغانستان میں جنم لینے والی کئی ایک ٹکڑیوں میں بٹی خام مذہبی مزاحمتی تحاریک نے دنیا کو اپنی طرف متوجہ تو کیا، لیکن ’مقبوضہ اور غیر مقبوضہ‘ اور ’کلچرل سیج‘ کی معنوی اصطلاح کے دائرہ کار میں واقع نہ ہونے کی وجہ سے اپنے قومی مزاحمتی بیانیہ کو تشکیل نہ دے سکیں ہیں اور یوں مزاحمتی تحریک سے زیادہ دہشت گردی کی عالمی تعریف کی زد میں آ گئیں۔ 

    دوسر ے انہوں نے مزاحمت کے معنیاتی نظام میں صرف عقائد کی بنیاد پر نئے متن کو جنم دینے کی کوشش کی، جس میں نسلی و لسانی تفرقہ بندی بھی سر فہرست رہی۔ یوں انکے ہاں بھی مزاحمتی قومی بیانیہ کی تشکیل نو نہ ہو سکی۔ چونکہ یہاں مزاحمت سیاسی و جغرافیائی گروہ بندی اور انتشار کا شکار ہو چکی تھی، جو حقیقی طور پر نتائجیت سے بظاہر بے پروا ایک کثیر لیکن خاموش پاکستانی آبادی، بوجہ اسکی ثقافتی طرز بود و باش، روایتی، فکری و لسانی وابستگی (اگرچہ سیاسی طور پر کمزور) کو سماج کی سطح پر متاثر نہ کر سکی۔ چنانچہ اٹھنے والی مزاحمتی مذہبی تحریک باوجود اپنی سخت ترین و مسلسل عملی مزاحمت کی قوت رکھنے کے ہر دو ریاستوں کے اپنے اپنے ریاستی بیانیہ و نظریات کو شکست دینے میں بری طرح ناکام ہو گئی، اور اسکی ایک بڑی وجہ انکے ہاں مزاحمتی ادب کا فقدان بھی ہے جس پر وہ غیر یقینی تناؤ اور مایوسی کا شکار ہیں۔ 5

     

    حوالاجات
    (اس مضمون کی تیاری میں مندرجہ ذیل عالمی میڈیا، اخبارات و جرائد و کتب سے مدد لی گئی ہے۔) 
    (۱) کتاب ”ریزسٹنس لٹریچر“ از باربرا ہارلو۔ میتھیون لندن، نیو یارک۔ 
    (۱) الف۔ مقالہ ”دی ریزسٹنس ٹو تھیوری“ از پال ڈی مین۔ تھیوری اینڈ ہسٹری آف لٹریچر یونیورسٹی آف منیسوٹا۔ امریکہ۔ 
    (۲) ب۔ انٹیلکچوئلز رول ان پیرو ریکو، از میلڈو ناڈو ڈینس 
    (۳) کتاب ”شیم فل فلائٹ“ از سٹینلے وولپرٹ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا۔ امریکہ
    (۴) مقالہ مزاحمتی ادب از ڈاکٹر ابرار احمد (ادبیات ۶۹۔ ۴۹۹۱) اکیڈمی آف لیٹرز پاکستان۔ دیپاچہ مزاحمتی ادب انتھالوجی مرتب رشید احمد
    (۵) بی۔ بی۔ سی یونائٹڈ کنگڈم
    (۶) وال سٹریٹ جرنل۔ نیویارک امریکہ


    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY