پبلشر کا جال اور ای بک کی ڈھال!
عاشقین ادب اس کرۂ ارض کی معصوم ترین مخلوق ہیں۔ یہ واحد لوگ ہیں جو لاکھوں روپئے خرچ کر کے ایسی چیز تیار کرتے ہیں جسے بعد میں دوستوں کو منت سماجت کر کے مفت دینا پڑتا ہے۔ ادیب سرمایہ کاری اس لیے کرتا ہے کہ نقصان بھی خود اٹھائے اور شکریہ بھی دوسروں کا ادا کرے۔
کتاب لکھنا تو آسان ہے۔ اصل کہانی اس دن شروع ہوتی ہے جب لکھاری پبلشر کے دفتر میں داخل ہوتا ہے۔ پبلشر آپ کو بڑے تپاک سے بٹھاتا ہے، چائے منگواتا ہے۔ دو چار ادبی جملے بولتا ہے۔ نہایت محبت سے آپ کے خواب سنتا ہے۔ پھر ان خوابوں کی قیمت بتاتا ہے۔ پھر نہایت نرمی سے اخراجات کی وہ فہرست سامنے رکھ دیتا ہے جسے دیکھ کر مصنف کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ ادب واقعی قربانی مانگتا ہے۔ طباعت، کمپوزنگ، پروف، ڈیزائن، کاغذ، جلد، لیمینیشن، مارکیٹنگ اور نہ جانے کن کن مقدس رسومات کے بعد صرف نو دس لاکھ روپئے خرچ ہوں گے۔ ”صرف“ وہ اس اعتماد سے کہتا ہے جیسے بات نو دس ہزار کی ہو۔
مصنف بیچارہ بھی ادب اور نرگسیت کا مارا ہوا ہوتا ہے۔ جیب اجازت نہ بھی دے پھر بھی یہ سوچ کر اپنے دل کو تسلی دے دیتا ہے کہ نام اور شہرت قربانی کے بغیر نہیں ملتا۔ یا گاڑی بیچتا ہے یا بیوی کے زیور۔۔۔ کسی نہ کسی طرح پیسوں کا بندوبست کر ہی لیتا ہے۔ اس دوران پبلشر کتاب پر اٹھنے والا خرچہ بھی بڑھا دیتا ہے یہ حربہ استعمال کر کے کہ جی کاغذ شارٹ ہو گیا ہے یا اس کی قیمت عرشِ معلی سے باتیں کرنا شروع ہو گئی ہے۔
یہ کاغذ ایک عجیب مخلوق ہے۔ جب بھی کوئی نیا مصنف پیسے لے کر آتا ہے، کاغذ فوراً مہنگا ہو جاتا ہے۔ مجھے شبہ ہے کہ دنیا بھر کی کاغذی فیکٹریاں روز صبح پبلشروں سے پوچھتی ہوں گی، ”آج کوئی نیا ادیب یا شاعر تو نہیں پھنس گیا؟“
خیر، کتاب چھپ جاتی ہے اور کے ساتھ ہی مصنف کا نیا پیشہ شروع ہو جاتا ہے۔ اب وہ لکھاری کم اور اپنی کتاب کا نمائندہ زیادہ ہوتا ہے۔ اسے علم ہوتا ہے کہ کتاب چھپوانا صرف آدھا خرچ تھا۔ اب اتنے ہی پیسے اسے مفت تقسیم کرنے میں ہوں گے۔
وہ کتابوں کے ڈبے گاڑی میں رکھتا ہے۔ پٹرول اپنے پیسوں سے ڈلواتا ہے، ٹریفک میں گھنٹوں خوار ہوتا ہے اور ایک ایک کر کے دوستوں کے گھروں کا رخ کرتا ہے۔
گھنٹی بجتی ہے۔ دوست دروازہ کھولتا ہے۔ پہلے مصنف کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے، پھر اس کی نظر آہستہ آہستہ اس کتاب پر جا ٹھہرتی ہے جو مصنف نے دونوں ہاتھوں سے ایسے پکڑی ہوتی ہے جیسے نومولود بچہ ہو۔ اس ایک لمحے میں دونوں ایک دوسرے کی نیت سمجھ جاتے ہیں۔ مصنف جانتا ہے کہ یہ کتاب مفت جائے گی۔ دوست جانتا ہے کہ یہ کتاب مفت آئی ہے۔ پھر دونوں تہذیب کا فرض ادا کرتے ہیں۔
”ارے، اندر آئیے، بڑی خوشی ہوئی۔“
مصنف بھی اتنی ہی شائستگی سے کتاب آگے بڑھا دیتا ہے۔
”بس، ایک حقیر سی کاوش ہے۔“
دوست بھی برسوں کی ادبی تربیت کا ثبوت دیتے ہوئے فوراً کتاب ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ اس دوران نہ مصنف قیمت کا ذکر کرتا ہے، نہ دوست خریدنے کا۔ پھر حسبِ دستور ایک تصویر بنتی ہے، ایک سیلفی لی جاتی ہے، چائے آتی ہے، کبھی بسکٹ بھی آ جاتے ہیں اور مصنف اس غلط فہمی کے ساتھ واپس روانہ ہو جاتا ہے کہ شاید ایک اور قاری پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن چند دن بعد معلوم ہوتا ہے کہ کتاب ابھی تک اسی میز پر پڑی ہے جہاں تصویر کھنچوائی گئی تھی۔
میں نے آج تک کسی دوست کو یہ کہتے نہیں سنا، ”یار، مفت کیوں دے رہے ہو؟ میں خریدوں گا۔“ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ کہتا، ”یہ لو کتاب کی قیمت، یہ تمہارے پٹرول کے پیسے، اور یہ تمہاری محنت کا معاوضہ۔“ مگر ایسی حرکت ہماری ادبی روایت میں دوستی نہیں، ادیب کی توہین سمجھی جاتی ہے۔ ہم کتاب مفت لینے کو محبت اور خریدنے کو گستاخی سمجھتے ہیں۔
کتاب وصول کرنے والا خود کو محسن سمجھتا ہے۔ وہ دوسروں سے تعارف بھی یوں کراتا ہے، ”یہ ہمارے دوست ہیں۔ اپنی کتاب خود دے کر گئے تھے۔“
ایک اور دلچسپ بات دیکھیے۔ جس شخص نے کتاب کبھی نہیں خریدی، وہ کتابوں کے مستقبل پر سب سے زیادہ فکرمند ہوتا ہے۔ وہ بڑے دکھ سے کہتا ہے، ”یار، کتاب تو ہاتھ میں ہی اچھی لگتی ہے۔“ یہ وہی شخص ہوتا ہے جو گزشتہ دس برس سے کوئی کتاب ہاتھ میں لیے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ البتہ موبائل ضرور ہاتھ میں ہوتا ہے۔ صبح فیس بک، دوپہر واٹس ایپ، شام ایکس، رات یوٹیوب۔ چار ہزار الفاظ کی پوسٹ پوری پڑھ لے گا۔ تین سو کمنٹس بھی نہیں چھوڑے گا۔ لیکن اگر وہی مواد پی ڈی ایف کی شکل میں سامنے آ جائے تو اچانک اعلان کرتا ہے، ”مجھے تو کاغذ کی خوشبو پسند ہے۔“
میرے کئی دوست اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو کتابوں سے عشق کرتے تھے۔ زندگی بھر کتابیں جمع کرتے رہے، لکھتے رہے، چھپواتے رہے۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد ان کی اولاد نے ادب پر اپنا پہلا تحقیقی مقالہ یوں پیش کیا کہ سب کتابیں گھر سے نکال دیں۔ کچھ ردی والے کے پاس گئیں۔ کچھ فٹ پاتھ پر پہنچ گئیں اور قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ انہیں میں سے کئی کتابیں میں نے خود فٹ پاتھ سے خریدیں۔ کتاب کھولی تو پہلے صفحے پر میرے مرحوم دوست کی محبت بھری عبارت موجود تھی،
”اپنے عزیز دوست۔۔۔ کے لیے، خلوص کے ساتھ۔“
خلوص اپنی جگہ قائم رہا، کتاب فٹ پاتھ پر پہنچ گئی۔ اس دن مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ ہمارے ہاں بعض کتابوں کی آخری منزل لائبریری نہیں، ردی والا ہوتا ہے۔ وہ ردی والا جو غالب، منٹو، بیدی اور نئے لکھاری، سب کو ایک ہی ترازو میں تولتا ہے۔ اس سے بڑی ادبی مساوات شاید دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔
سن 2006 میں انڈیا کے نامور استاد شاہد پرویز پاکستان تشریف لائے۔ وہ جم خانہ لاہور میں قیام پذیر تھے۔ موسیقی کے ماہر پرویز پارس صاحب اپنی طبلے پر لکھی ہوئی کوئی ایک درجن کتابیں لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ گفتگو کے دوران شاہد بھائی نے مسکراتے ہوئے فرمایا،
”کچھ بجا کر بھی سنائیے۔“
یہ سن کر پارس صاحب کی سٹی گم ہو گئی۔ پھر شاہد بھائی نے کہا، ”اچھا، زبانی ہی کچھ طبلہ سنا دیجیے۔“ مگر پارس صاحب اس پر بھی کچھ نہ کر سکے۔ شاہد بھائی نے پھر وہی کام کیا جو ایک استاد ہی کر سکتا ہے۔ ڈھیر ساری طبلے کی گتیں، پرنیں سنا ڈالیں۔ پارس صاحب کے رخصت ہونے کے بعد یہ کتابیں ڈسٹ بن کی نذر ہو گئیں۔
ان تمام مسائل اور دشواریوں کا ایک ہی علاج ہے۔ اور وہ ہے، ”ای بک“ چند حضرات فرمائیں گے، ”کتاب تو کتاب ہوتی ہے، اسے ہاتھ میں پکڑ کر پڑھنے کا اپنا ہی لطف ہے۔“
میں ان کی بات سے متفق ہوں۔ بالکل اسی طرح جیسے خط ہاتھ سے ہی لکھنا چاہیے، گھوڑا سواری کا بہترین ذریعہ ہے اور سفر کے لیے اونٹ کی اپنی شان ہے۔ لیکن دنیا، ہماری رائے معلوم کیے بغیر، آگے بڑھ چکی ہے۔ آج ای کامرس پوری دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔ لوگ کروڑوں روپئے کی خرید و فروخت موبائل سے کر رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کتابیں لکھنے، ترجمے کرنے اور تحقیق میں مدد دے رہی ہے۔ بغیر ڈرائیور کے گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ ڈاکٹر روبوٹ سے آپریشن کروا رہے ہیں۔ مگر ہم ابھی تک کتابوں کی خوشبو میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ای بک کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ آپ اسے بغیر پیسے کے شائع کر سکتے ہیں۔ اس میں غلطیاں درست کر کے دوبارہ اپلوڈ کر سکتے ہیں۔ اپنی پسند کا متن کاپی کر کے کسی دوسری فائل میں بطور ریفرنس رکھ سکتے ہیں۔ آپکی کتاب دو منٹ میں دنیا کے ہر کونے میں پہنچ جاتی ہے۔ چاہیں تو روزانہ کتاب میں ایک نیا باب شامل کر دیں۔ چاہیں تو کل لکھا ہوا پورا باب نکال دیں۔ ای بک کی بے حرمتی نہیں ہو سکتی۔ یہ آپکو ردی والے کی دکان یا فٹ پاتھ پر نہیں مل سکتی۔
کاغذی کتاب کی قسمت میں یہ سب کچھ لکھا ہوتا ہے۔ پہلے الماری، پھر گودام، پھر ردی، اور آخرکار سموسے۔ ای بک کم از کم اس انجام سے محفوظ رہتی ہے۔
اگر آپ انگریزی میں لکھتے ہیں تو دنیا کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان آپ کے لیے پہلے ہی دروازہ کھول چکی ہے۔
Amazon Kindle Direct Publishing (KDP)
پر آپ اپنی کتاب مفت اپلوڈ کر سکتے ہیں۔ قیمت آپ خود مقرر کریں۔ جب چاہیں بدل دیں۔
جب چاہیں نئی اشاعت جاری کر دیں۔ اگر قاری ضد کرے کہ، ”مجھے کاغذ ہی چاہیے“، تو ایمیزون خود کتاب چھاپ کر اس کے گھر بھیج دیتا ہے۔ یعنی مشین آپ کے لیے وہ کام کر رہی ہے جس کے لیے ہمارے ہاں تین درمیانی آدمی کمیشن لیتے ہیں۔ فی الحال اردو کو یہ سہولت پوری طرح حاصل نہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ وہ دن بھی آئے گا۔
اگر سو لکھاری بھی مل کر ایک اچھی ویب سائٹ بنا لیں تو انقلاب آ سکتا ہے۔ ہر شخص اپنی کتاب وہاں اپلوڈ کرے۔ ایک لنک شیئر کرے۔ جسے پڑھنا ہو، وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے پڑھ لے۔ نہ مصنف کو کتابوں کے ڈبے اٹھانے پڑیں۔ نہ دوستوں کے دروازوں پر حاضری دینی پڑے۔ نہ تصویری سیشن۔ نہ مصنوعی مسکراہٹیں۔ نہ وہ تاریخی جملہ، ”ان شاء اللہ فرصت ملی تو ضرور پڑھوں گا۔“
کتاب کے کاروبار میں تین ہی لوگ نفع کماتے ہیں۔ پبلشر، کتب فروش اور ردی فروش۔ ای بک ان سب کی اجارہ داری ختم کر سکتی ہے جیسے اے آئی لکھاریوں، مترجمین، گرافک ڈیزائنرز، وائس اوور آرٹسٹ، ایڈیٹرز اور ایکٹرز کی کر چکی ہے۔
آخر میں صرف ایک سوال، اگر آپ کے پاس دو راستے ہوں۔ پہلے راستے پر نو دس لاکھ روپے خرچ ہوں، مہینوں کی دوڑ دھوپ ہو، کتابیں خود اٹھا کر تقسیم کرنی پڑیں اور آخرکار ان میں سے کچھ ردی والے کے پاس پہنچ جائیں اور دوسرے راستے پر آپ کی کتاب چند منٹ میں پوری دنیا تک پہنچ جائے تو آپ کس راستے کا انتخاب کریں گے؟
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.