Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تبصرہ : ’’روحِ سماع‘‘

ریان ابوالعلائی

تبصرہ : ’’روحِ سماع‘‘

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    خانقاہ امجدیہ، سیوان کے ڈاکٹر شاہ التفات امجدی کی مرتب کردہ کتابِ مستطاب ’’روحِ سماع‘‘ کو شمارِ بہترین کتب میں کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ یہ نہایت خوب صورت انداز میں سماع میں پڑھے جانے والے اشعار کا ایک لاجواب انتخاب پیش کرتی ہے۔

    سماع ایک ایسی روحانی غذا ہے جس کا تعلق دل و روح کی پاکیزگی سے ہے، عہدِ رسالت سے آج تک اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا ہے اور کیوں نہ ہو؟ اچھی آواز، پاکیزہ اشعار اور دل کو چھو لینے والا راگ، یہ سب اہلِ دل کے لیے نعمت ہیں، سماع سے دل پاکیزہ ہوتا ہے اور یہ اپنے اہل کو روحانی فوائد پہنچاتا ہے۔

    امام محمد غزالی فرماتے ہیں:

    ’’آدمی کے دل میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کا ایک سر اس طرح مخفی ہے جیسے آگ آہن و سنگ میں، جسے آہن و سنگ کے رگڑنے سے آگ ظاہر ہوتی ہے، اسی طرح سے سماع کی اچھی آواز، خوش اور موزوں اشعار انسان کے دل کو ہلا دیتی ہے اور ایک خاص حالت پیدا ہوتی ہے‘‘

    (دل، ص 78)

    کہا جاتا ہے کہ جس دل میں خدا کے عشق کی آگ مخفی ہے، سماع اس کے لیے اس آگ کو مشتعل کرنے کا خاص ذریعہ ہے اور جس شخص کے دل میں باطل کی دوستی ہو، اس کے لیے سماع زہرِ قاتل ہے۔

    اکابرینِ صوفیہ نے سماع کی تعریف یوں بیان کی ہے کہ سماع اس شے کو حرکت دیتا ہے جو دل میں اچھی آواز اور موزوں الحان رکھتی ہو، یہ اللہ کے افضال میں سے ایک فضل ہے، حضرت داؤد علیہ السلام کو خوش آواز اور موزوں الحان عطا فرمائے گئے، جسے کلام میں ’’فضل‘‘ کہا گیا، حضرت داؤد علیہ السلام اپنی قوم کے سامنے نوحہ و بکا کے لیے بھی یہ معمول رکھتے تھے اور زبورِ مقدس کی تلاوت کے وقت جماعت بے ہوش ہو جاتی تھی، ایسی سیکڑوں مثالیں سماع کے جواز کی تصدیق کرتی ہیں۔

    تفصیل کے لیے مستند کتب، جیسے ’’احیاؤالعلوم‘‘ (امام محمد غزالی)، ’’فوائد الفواد‘‘ (ملفوظات حضرت نظام الدین اؤلیا)، ’’مکتوباتِ صدی‘‘ (حضرت مخدوم جہاں) اور ’’دل‘‘ (ملفوظات حضرت شاہ اکبر داناپوری) کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

    التفات امجدی کا یہ عظیم کارنامہ جو عربی و فارسی اشعار پر مشتمل ہے، ایک عمدہ اور قابلِ قدر انتخاب ہے، انہوں نے حضرت عمر و علی سے لے کر مشہور و معروف شعرا کی تخلیقات کو اس میں شامل کیا ہے، کتاب میں عربی کی اہم نعتیں بھی شامل ہیں جس سے اس انتخاب کی معنوی و ادبی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    ’’روحِ سماع‘‘ میں جن شعرا کو شامل کیا گیا ہے، ان کے نام یہ ہیں۔ جامؔ، حافظؔ، نظامیؔ، جامیؔ، رومیؔ، سعدیؔ، ابو سعیدؔ، عثمانؔ، عراقیؔ، عطارؔ، خسروؔ، قدسیؔ، بیدلؔ، مغربیؔ، سرمدؔ اور ہندوستان کے فارسی شعرا میں نیازؔ، غالبؔ، فردؔ، فانیؔ، اقبالؔ، محسنؔ، عزیزؔ، جگرؔ، اسدؔ وغیرہ خصوصی طور پر شامل ہیں۔

    کتاب کے ابتدائی حصے میں ’’توقیرِ سماع‘‘ کے عنوان سے حضرت مخدوم جہاں، شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری (متوفیٰ 782ھ) کا ایک قیمتی مضمون بھی موجود ہے جو ’’روحِ سماع‘‘ کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔

    سماع کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد خاص شعری انتخابات بھی مرتب کیے گئے ہیں، جیسے ’’نغماتِ سماع‘‘، ’’گلدستۂ قوالی‘‘، ’’محفلِ سماع‘‘، ’’اصلی گلدستۂ قوالی‘‘، ’’اصلی کشکول قوالی کامل‘‘، ’’بہارِ قوالی‘‘، ’’مجموعۂ قوالی‘‘، ’’سُرودِ روحانی‘‘، ’’شعرِ ناب‘‘، ’’نغماتِ عندلیبِ رومی‘‘، ’’تصویرِ صنم‘‘، ’’نغمۂ شیریں‘‘، ’’گلشنِ جاں فزا‘‘، ’’نغمات الانس فی مجالس القدس‘‘۔ ان تمام انتخابی مجموعوں میں ’’روحِ سماع‘‘ سماع کی دنیا میں ایک قیمتی اور قابلِ ذکر اضافہ ہے۔

    زیرِ نظر کتاب محفلِ سماع میں پڑھے جانے والے اشعار کا ایک خوب صورت مجموعہ ہے، اس میں صحابۂ کرام سے لے کر متاخرین مشائخ تک 74 صوفی شعرا کی مشہور و مقبول غزلیں شامل ہیں، نیز 5-6 نامعلوم شعرا کا بھی مشہور کلام اس میں موجود ہے، 192 صفحات پر مشتمل 228 غزلوں کا یہ خوب صورت انتخاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے لاجواب ہے۔

    ڈاکٹر التفات امجدی سلسلۂ چشتیہ صابریہ سے ہیں اور شاعری میں ان کی امجدی نسبت حضرت امجد علی صابری (متوفیٰ 1328ھ) سے ہے، جنہوں نے مین پوری سے شمالی بہار کے سیوان شہر میں خانقاہ کی بنیاد ڈالی اور رشد و ہدایت میں مشغول ہوئے، حضرت امجد علی کے مجاز و خلیفہ حضرت شاہ تصدق علی (متوفیٰ 1347ھ) بڑے عالم، فاضل اور عارف تھے، موصوف اسی خاندان کی چوتھی پشت میں پوتے ہیں اور صوفیانہ و علمی ماحول میں نشو و نما پانے کے بعد سماع اور شعر و سخن میں معروف ہوئے۔

    ڈاکٹر التفات امجدی کی علمی و ادبی شخصیت کی تشکیل میں ان کے خانوادے کے روحانی اور علمی ماحول کا نمایاں کردار ہے، ’’روحِ سماع‘‘ اسی علمی ذوق، صوفیانہ وابستگی اور شعر و سخن سے گہری دل چسپی کا ایک خوب صورت مظہر ہے، اس کتاب کے ذریعے انہوں نے سماع کی محفلوں میں پڑھے جانے والے منتشر شعری سرمائے کو یکجا کرکے اہلِ ذوق کے لیے ایک قیمتی دستاویز فراہم کی ہے۔

    خداوندِ تعالیٰ سے دعا ہے کہ التفات امجدی کی اس علمی کاوش کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور انہیں اس خدمت کا اجرِ عظیم عطا کرے، امید ہے کہ ’’روحِ سماع‘‘ کی دوسری جلد بھی پہلی جلد کی طرح ہماری روح کے لیے تسکین اور روحانی تسلی کا سبب ہوگی اور اہلِ ذوق و اہلِ دل اس سے بھرپور استفادہ کریں گے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے