تنقید کیا ہے؟

آل احمد سرور

تنقید کیا ہے؟

آل احمد سرور

MORE BYآل احمد سرور

    مغرب کے اثر سے اردو میں کئی خوشگوار اضافے ہوئے، ان میں سب سے اہم فن تنقید ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ مغرب کے اثر سے پہلے اردو ادب میں کوئی تنقیدی شعور نہیں رکھتا تھا، یا شعروادب کے متعلق گفتگو، شاعروں پر تبصرہ اور زبان و بیان کے محاسن پر بحث نہیں ہوتی تھی۔ بڑے تخلیقی کارنامے بغیر ایک اچھے تنقیدی شعور کے وجود میں نہیں آ سکتے۔ تخلیقی جوہر بغیر تنقیدی شعور کے گمراہ ہو جاتا ہے اور تنقیدی شعور بغیر تخلیقی استعداد کے بے جان رہتا ہے۔

    اردو میں وجہی سے لے کر حسرت موہانیؔ تک ہر اچھے شاعر کا ایک واضح اور کارآزمودہ تنقیدی شعور بھی ہے، پھر بیاضوں، تذکروں، تقریظوں، دیباچوں اور مکاتیب کا سرمایہ شروع سے موجود ہے۔ مشاعروں اور ادبی صحبتوں میں شاعروں اور شعروادب پر تبصرے برابر ہوتے رہتے تھے۔ میرؔ، جرأتؔ کی چوما چاٹی سے بیزار تھے۔ خان آرزوؔ، سوداؔ کے شعر کو ’’حدیث قدسی‘‘ کہتے تھے۔ آتشؔ، دبیر کے مرثیوں کو لندھور بن سعد ان کی داستان بتاتے تھے، شیفتہؔ، نظیرؔ کے کلام کو سوقیانہ بتاتے تھے اور اسلوب میں متانت کے اس قدر قائل تھے کہ کیسے ہی معنی ہوں، متانت کے بغیر نامعقول سمجھتے تھے، غالب کے نزدیک شاعری معنی آفرینی تھی، قافیہ پیمائی نہیں۔ وہ شعر میں ’’چیزے دگر‘‘ کے بھی قائل تھے اور آتشؔ کے یہاں ناسخ سے تیزتر نشتر پاتے تھے۔

    یہ تنقیدی شعور بھی اچھی روایات کا حامل تھا، اس میں فن کی نزاکتوں کا احساس تھا اور اس کی خاطر ریاض کرنے کا احترام، یہ قدرے محدود اور روایتی تھا اور ضبط و نظم کا ضرورت سے زیادہ قائل، یہ ہر نشیب و فراز کو ہموار کرنا چاہتا تھا اور ہر ذہن کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنا چاہتا تھا، یہ بات اشاروں میں کرتا تھا، وضاحت صراحت، تفصیل کا قائل نہ تھا، اس میں مدح ہوتی تھی یا قدح، اس کا معیار ادبی کم تھا فنی زیادہ۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ تنقید صحیح معنی میں حالیؔ سے شروع ہوئی۔ حالیؔ سے پہلے شاعر استادوں کو مانتے تھے نقادوں کو نہیں، ان سے پہلے کسی میں اعلیٰ درجے کی تنقیدی صلاحیت اگر ملتی ہے تو وہ شیفتہؔ ہیں جن کی پسند کے بغیر غالبؔ بھی غزل کو غزل نہیں سمجھتے تھے مگر وہ بھی مانوس اور مہرشدہ حسن کے قائل ہیں، حسن کی دریافت نہیں کر سکتے۔

    حالیؔ نے شاعری، ادب، زندگی، اخلاق، سماج غزل اور نظم کے متعلق اصولی سوال کئے۔ انہوں نے شاعری کا ایک معیار متعین کرنا چاہا اور اس معیار سے ہمارے ادبی سرمائے کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ اس معیار میں وہ مغرب سے بھی متاثر ہوئے۔ اگرچہ ان کا معیار خالص مغربی نہ تھا۔ اس میں انہوں نے فن کا بھی لحاظ رکھا مگر فطرت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ انہوں نے بعض روایات کی نکتہ چینی کی مگر ادب کی روایات کو نظرانداز نہیں کیا۔ حالیؔ کا یہ طریقہ مفید ثابت ہوا اور تنقید اور اس کے اصول پر گفتگو شروع ہو گئی۔ چنانچہ اردو میں اس قسم کے مضامین، رسالے اور کتابیں بکثرت ہیں جن میں تنقید کے اصولوں سے بحث کی گئی ہے۔ یا بعض ادیبوں یا ادبی تحریکوں پر تنقید ہے یا کسی ادبی اصول کی تشریح و تفسیر ہے۔

    مغرب میں تنقید نے کئی کروٹیں بدلی ہیں اور ان کا اثر بھی ہمارے یہاں محسوس ہو رہا ہے، پھر بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ تنقید کے مفہوم، منصب، اس کی ضرورت، اس کی بنیادی شرائط، اس کے میدان اور خصوصیات کے متعلق آج بھی بہت سی غلط فہمیاں عام ہیں، اس لئے واضح کرنے کی بھی بڑی ضرورت ہے کہ تنقید کیا ہے اور ادب اور زندگی میں اس کی کیا اہمیت ہے؟

    کولرجؔ نے ایک جگہ ایک مرد اور ایک عورت کا ذکر کیا ہے جو کسی آبشار کا نظارہ کر رہے تھے۔ مرد نے کہا، ’’یہ کیسا جلال رکھتا ہے!‘‘ عورت نے جواب دیا، ’’ہاں بہت خوبصورت ہے۔‘‘ یہ نہ تھا کہ بے چاری عورت حسن کا احساس نہ رکھتی ہو، احساس تھا ذوق نہ تھا، شعور تھا مگر تربیت یافتہ اور مہذب نہ تھا، اس لئے وہ حسن اور حسن میں فرق نہ کر سکتی تھی اور دلیری اور قاہری کے فرق کو نہیں جانتی تھی یا جانتی تھی تو بیان نہ کر سکتی تھی۔ یہ مرض عوام ہی میں نہیں خواص میں بھی ہے، کتنے ہی بزرگ، ’’نظارے‘‘ سے نہیں ذوق نظر سے سروکار رکھتے ہیں۔ وہ چیزوں کا حسن نہیں دیکھتے، ان چیزوں میں ایک خاص خیال کا حسن دیکھتے ہیں۔

    اب بھی کتنے ہی ترقی پسند ادب اور نئے ادب کو ایک ہی سمجھتے ہیں۔ کتنے ہی حسن کو ایک خاص لباس میں دیکھتے ہیں اور لباس کو حسن سمجھتے ہیں، کتنے ہی روایت کے پجاری ہیں، کتنے صرف بغاوت کے علم بردار ہیں، کچھ ایسے بھی ہیں جو فانیؔ و جگرؔ کی طرح غزل کو اصل شاعری سمجھتے ہیں اور نظم کو فقط قافیہ پیمائی، کچھ کلیم الدین کی طرح غزل کو نیم وحشیانہ صنف شاعری کہتے ہیں، کچھ کرشن چندر کی طرح ہیں جو راشدؔ کی شاعری میں فرار اور جنسی الجھنیں دیکھتے ہوئے بھی اس کی ترقی پسندی پر اصرار کرتے ہیں، کچھ انقلابی شاعری کے معنی بغاوت اور خون کی ہولی کے لیتے ہیں۔ کچھ اختر رائے پوری کی طرح اپنے جوش میں اکبرؔ کے کلام کو طنزیہ تک بندی کہہ جاتے ہیں، کچھ ادب کو پروپیگنڈہ بنانا چاہتے ہیں، کچھ اصول بناتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کر سکتے اور کچھ علیحدہ علیحدہ تصویریں اچھی بنا لیتے ہیں مگر کثرت سے وحدت نہیں دیکھ سکتے۔

    اس افراط و تفریط کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ادب کو در اصل ادب کم رہنے دیا گیا ہے یا اسے تصوف اور فلسفہ بنایا گیا ہے یا پروپیگنڈہ۔ ظاہر پرستوں نے اقبالؔ کی زبان میں اس کے ’’اندرون‘‘ کو نہیں دیکھا، اسے محض فن سمجھا۔ اس کے خون جگر کی رنگینی کو نظرانداز کیا، دوسروں نے ردعمل کے طور پر فن کے نکات کو نظر انداز کرنا چاہا اور اس طرح اپنی بات کا وزن کھو بیٹھے۔ اردو میں تنقیدیں اچھی اچھی لکھی گئیں مگر صحیح تنقید جس کا راستہ بال سے زیادہ باریک ہے، اسی وجہ سے زیادہ ترقی نہ کر سکی۔ مختلف ٹولیوں نے اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا، اس کی خاطر ریاض کم کیا۔

    حالیؔ کے بعد اردو میں کوئی ایسا نقاد نہیں ہے جوٹی، ایس ایلیٹؔ کے الفاظ میں آفاقی ذہن (Universal Intelligence) رکھتا ہو، آفاقی ذہن سے مراد بین الاقوامی نہیں ہے۔ کتنے ہی نقاد اپنے حقیقی منصب کو بھلا کر دنگل میں داد شجاعت دینے لگے، کتنے ہی فلسفہ بگھارنے کے شوق میں رسوا ہوئے، کتنے ہی آمریت پر اتر آئے، کتنے ہی ایک اسکول، ایک دور، ایک روایت کے ترجمان ہوکر رہ گئے۔ نظریے اچھے اچھے پیش کئے گئے مگر ایسے کم جو تین سو سال پہلے کی شاعری، آج کی اور تین سو سال بعد کی شاعری، تینوں کے مطالعہ میں مدد دے سکیں، چاہے حرف آخر نہ ثابت ہوں۔

    افسوس ہے کہ اردو میں کوئی ارسطوؔ پیدا نہ ہو، حالیؔ کی مشرقیت اور ان کی شرافت بعض اوقات معاصرین پر اظہار رائے میں انہیں ضرورت سے زیادہ نرم بنا دیتی ہے۔ بقول برنارڈشاؔ کے ادیب کو پہلے ادب کا خیال کرنا چاہئے بعد میں شرافت اور مروت کا۔ مقدمہ اور مقالات کے حالیؔ میں یہی فرق ہے۔

    اردو میں تنقید کی کمی کی سب سے بڑ ی وجہ یہ ہے کہ تنقید کو عام طور پر دوسرے درجہ کی چیز سمجھا گیا ہے۔ علی گڑھ میں میرے ایک کرم فرما ہیں جو کوئی تنقید پڑھتے ہیں تو فرماتے ہیں، ’’یہ بات کیا ہوئی؟ کچھ ایسے اشعار لکھے، کچھ ان کا خلاصہ بیان کیا، کچھ افتتاحی الفاظ یا حواشی بڑھائے اور تنقید تیار ہو گئی۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ ادبی رسالوں میں ایسی تنقیدیں کثرت سے ملتی ہیں مگر تنقید محض اس کا نام نہیں۔ شبلیؔ نے موازنہ انیس و دبیر میں طول طویل اقتباسات اس لئے دیے تھے کہ مرثیوں کی خوبی کا اندازہ دو ایک بندوں سے نہیں ہو سکتا۔ اقبال کے بہت سے نقادوں نے اقبال کے اشعار زیادہ لکھے اپنے خیالات کم بیان کئے۔

    انتخاب تنقید تو نہیں ہے مگر انتخاب سے تنقیدی شعور زیادہ ہوتا ہے۔ انتخاب میں اپنی پسند سے زیادہ شاعر کی نمائندگی ضروری ہے۔ شاعری کی نمائندگی آسان کام بھی نہیں ہے مگر جو لوگ اقتباسات کی کثرت سے بدگمان ہو جاتے ہیں انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ تنقید ہوائی نہیں ہو سکتی۔ اقتباسات تنقید کی صحت سے قریب رکھتے ہیں۔ جو لوگ اقتباسات کو دیکھتے ہیں، اس تلاش اور جستجو کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو اقتباسات میں صرف ہوتی ہے اور ہونی چاہئے، وہ ادب کا کوئی اچھا تصور نہیں رکھتے اور ان کی ذہنی استعداد کے متعلق کوئی اچھی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

    اب بھی کچھ لوگ اس کے قائل ہیں کہ تخلیقی ادب براہ راست زندگی کے شعور کو ظاہر کرتا ہے اور تنقیدی ادب چونکہ اس تخلیق کی ترجمانی، تحلیل یا تجزیے کا فرض انجام دیتا ہے، اس لئے اس کی برابری نہیں کر سکتا، بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ چونکہ نقاد خود شاعر کم ہوتے ہیں اور اگر ہوتے ہیں تو اچھے شاعر نہیں ہوتے اس لئے ان کی رائے پر زیادہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ آخر یہ کبوتر ان بام حرم مرغان رشتہ برپا کے متعلق کیا جان سکتے ہیں، اور کیا بتا سکتے ہیں ان دونوں تصورات پر غور کرنا ہمارا فرض ہے۔

    اقبال کی شاعری پر یوسف حسین نے روح اقبال لکھی، جس میں ان کے کلام کی ترجمانی کی کوشش کی، کسی نے روح اقبال پر تنقید لکھی، جس میں یوسف صاحب کے نظریے سے اختلاف کیا، کسی نے اختلاف سے اختلا ف کیا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تعبیروں کی کثرت سے بعض اوقات خواب پریشاں ہو جاتا ہے۔ ٹیگورؔ پر بھی ایک دفعہ یہی واقعہ گزرا تھا، انہوں نے اپنے حلقے میں ایک نئی نظم سنائی، ایک صاحب نے کہا اس کا یہ مطلب ہے، دوسرے نے کہا، یہ نہیں ہے یہ ہے۔ اس پر دونوں میں بحث ہونے لگی اور ٹیگورؔ بیچ سے غائب ہو گئے۔ ہمارے قدیم نظام تعلیم میں شرحوں، حاشیوں اور تفسیروں کے سمجھنے کا جو دستور تھا اس کی وجہ سے جزوی چیزیں اصل سے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتی تھیں اور نظر محدود ہو جاتی تھی۔ ذاتی، شخصی اور داخلی تنقیدوں سے اس قسم کا امکان ضرور ہے۔

    کبھی کبھار یہ بھی ہوتا ہے کہ نقاد کی غیرمعمولی شخصیت، اس کے شاندار اصول اور دلچسپ فقرے پڑھنے والے کو مرعوب کر لیتے ہیں۔ وہ نقاد کی عینک سے ہر چیز کو دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے (گو عام پڑھنے والوں کے لئے ایسے ذہنی رفیق بہتر ہیں بجائے اس کے کہ وہ ادبی مزاج کا شکار ہوں) مگر اچھی تنقید تخلیقی ادب کی طرف مائل کرتی ہے، وہ خود تخلیقی ہوتی ہے، وہ پڑھنے والے کے ذہن پر مہر نہیں لگاتی، اس کے ذہن کی تربیت کرتی ہے۔ تخلیقی ادب پر کوئی تنقید تخلیقی ادب سے بے نیاز نہیں کر سکتی، دونوں کے درمیان کوئی خلیج نہیں ہے۔ تخلیقی ادب میں تنقیدی شعور کی کارفرمائی ہوتی ہے، تنقید اس کو واضح کر دیتی ہے۔ تنقید خلاصہ یا تنقیض نہیں مگر اس کا تخلیق کے بنیادی خیال تک پہنچنا ضروری ہے، یہ تخلیق پر عرف عام میں عمل جراحی بھی کرتی ہے مگر یہ عمل شاعرانہ طور پر ہوتا ہے اور اسی فضا کے اندر رونما ہوتا ہے۔

    تنقید کی طرف سے بدگمانی عام طور پر ان لوگوں کو ہوتی ہے جو ادب کو بہت گہری نظر سے دیکھنے کے عادی نہیں ہیں، جو اس میں تفریح یا اقبالؔ کے الفاظ میں ’’کوکنار کی لذت‘‘ ڈھونڈتے ہیں۔ اگر وہ سطحی فرق کو نظر انداز کر دیں اور غور کریں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ تخلیقی ادب کی زندگی کے لئے کتنا ضروری ہے کہ وہ تنقید سے مدد لے۔ بعض اوقات بدگمانی اس وجہ سے بھی ہوتی ہے کہ تبصروں، دیباچوں، مقدموں اور تعارفوں میں عام طور پر جو تنقید ملتی ہے اس میں تنقید کے علیحدہ علیحدہ رنگ ہیں۔ دراصل ان میں سے ہر ایک کا میدان الگ ہے۔

    دیباچہ یا تعارف، کتاب یا صاحب کتاب کا تعارف کراتا ہے، اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے، اس کی قدر و قیمت متعین بھی کرتا ہے اور قول فیصل بھی پیش کردیتا ہے۔ تبصرہ یا ریویو بعض اہم خصوصیات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مگر عام طور پر مقدموں میں بالغ نظری سے زیادہ شرافت کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ ان میں سے یقیناً بعض گمراہ کن ہوتے ہیں، محدود تنقید تو خیر محدود قسم کی ہوتی ہے زیادہ مضر نہیں ہوتی۔ لیکن وہ تنقید جس میں دعویٰ جامعیت کا کیا جائے مگر ہو محدود اور مخصوص، گمراہ کن اور فریب ہے۔ مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ داخلی تنقید میں اس قسم کا فیصلہ ناگزیر ہے اور یہ فریب مشرق و مغرب میں بہت عام ہے، اس لئے میں داخلی تنقید کو ناقص تنقید کہتا ہوں، وہ تحسین (Appreciation) کے درجے میں آتی ہے اس کی علیحدہ قدروقیمت ہے مگر اسے بڑی تنقید کا درجہ نہیں مل سکتا۔ بڑی تنقید تخلیقی ادب سے کسی طرح کمتر نہیں ہوتی بلکہ وہ تخلیق ہو جاتی ہے۔

    رہا یہ سوال کہ جو نقاد شاعر نہیں ہوتے وہ شاعری کے متعلق کیا بتا سکتے ہیں یا خود ناولسٹ نہیں وہ ناول کے متعلق کیا رائے قائم کر سکتے ہیں۔ تو یہ سوال ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ مولوی عبد الحق کے متعلق دنیا جانتی ہے کہ وہ شاعر نہیں لیکن یہ بات ان کے ایک اچھے نقاد ہونے میں خلل انداز نہیں ہے۔ جگرؔ ایک اچھے شاعر ہیں مگر وہ ایک اچھے نقاد نہیں کہے جا سکتے، شاعری کے لئے ایک شیریں دیوانگی اور تنقید کے لئے ایک مقدس سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آرنلڈ نے اس کو (High Seriousness) کہا ہے۔ کبھی کبھی یہ دونوں چیزیں ایک ہی شخص کے یہاں مل جاتی ہیں۔ ہر اچھا شاعر ایک فنی شعور بھی رکھتا ہے مگر یہ فنی شعور اسے ادب کے دوسرے اصناف کی قدر متعین کرنے میں چنداں مدد نہیں دیتا بلکہ ایک رکاوٹ ہی ثابت ہوتا ہے۔ ایک شعبے کی طاقت دوسرے کی کمزوری ہو ہی جایا کرتی ہے۔ غزل کے شاعر اکثر نظم کی تعمیری صلاحیتوں کا اندازہ نہیں کر پاتے، اشاروں کے دلدادہ تفصیل اور صراحت اور وضاحت کے حسن کو نہیں دیکھ پاتے، جس گہرائی اور سپردگی کی تخلیق میں ضرورت ہوتی ہے، تنقید میں اس سے ابھرنا بھی ہوتا ہے۔

    ہر فنکار کی شخصیت کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک حصہ تجربہ حاصل کرتا ہے، دکھ بھوگتا ہے اور تکلیف اٹھاتا ہے یا راحت اور مسرت حاصل کرتا ہے، دوسرا اس رنج و راحت کو ذرا بلندی سے دیکھتا ہے اور اس کی قدر و قیمت متعین کرتا ہے۔ اس لئے فنکار اگر بعض اوقات اپنے رنج و راحت کو ذرا بلندی سے دیکھ پائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے مگر اس سے نقاد کی اہمیت اور عظمت کم نہیں ہوتی اور مسلم ہو جاتی ہے۔ میرؔ نے نکات الشعراء میں اپنا جو انتخاب کیا ہے اس سے میرؔ حسن کا انتخاب اچھا ہے۔ جنوری ۱۹۴۱ء کے نگار میں شاعروں نے اپنا جو انتخاب کیا تھا وہ یقیناً ہر جگہ کلام کا بہترین انتخاب نہیں تھا، اس لیے یہ بات واضح ہے کہ نقاد شاعر نہ ہوتے ہوئے بھی یا اس پائے کا شاعر نہ ہوتے ہوئے بھی اچھا نقاد ہو سکتا ہے۔ ہاں اس کے لئے سخن فہم ہونا ضروری ہے، اس کے لئے اس روح تک پہنچنا ضروری ہے جو شاعری کی ہے، اس کے یہاں اس وسیع ہمدردی کی، اس لچک دار ذہن کی، اس ہمہ گیر طبیعت کی موجودگی ضروری ہے جو شاعری کی فضا میں شاعر کے ساتھ بلکہ کبھی اس سے بھی آگے پرواز کر سکے، فنکار تجربوں کو جنم دیتا ہے، سخن فہم نقاد فنکاروں کو صحیح معنی میں فنکار بناتا ہے۔

    ٹی ایس ایلیٹ نے غلط نہیں کہا ہے کہ ’’جب تخلیقی ذہن میں دوسرے سے بہتر ہوتا ہے تو اکثر اس کی وجہ یہ ہوتی ہے، جو بہتر ہوتا ہے وہ تنقیدی صلاحیت زیادہ رکھتا ہے۔‘‘ ہڈسن نے تو اور صاف کہا ہے کہ ’’سچی تنقید بھی چونکہ اپنا مواد اور جذبہ زندگی سے لیتی ہے اس لئے اپنے رنگ میں وہ بھی تخلیقی ہے۔ اس لئے تنقیدی ادب سے اس وجہ سے بھڑکنا کہ وہ کتابوں کی مہک رکھتا ہے، صحیح نہیں۔ اچھی تنقید کسی طرح اچھی تخلیق سے کم نہیں بلکہ بعض وجوہ سے اس پر فوقیت رکھتی ہے۔‘‘

    غرض تنقید کو دوسرے درجے کی چیز سمجھنا ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ اچھی تنقید محض معلومات ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ وہ سب کام کرتی ہے جو ایک مؤرخ، ماہر نفسیات، ایک شاعر اور ایک پیغمبر کرتا ہے۔ تنقید ذہن میں روشنی کرتی ہے اور یہ روشنی اتنی ضروری ہے کہ بعض اوقات اس کی عدم موجودگی میں تخلیقی جوہر میں کسی شے کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ انیسویں صدی کے شروع کا زمانہ انگلستان میں کس قدر غیرمعمولی تخلیقی پیداوار کا زمانہ تھا مگر آرنلڈؔ کے نزدیک یہ شاعری باوجود اس قدر خلاقی کے، ذہن نہ رکھتی تھی، جانتی نہ تھی۔ اس کے بڑے بڑے شاعر تہی مغز تھے یا مبہم، یا ان میں تنوع اور رنگارنگی کی کمی تھی۔ یہ بات ہماری شاعری پر بھی ایک بڑی حد تک صادق آتی ہے۔ ہمارا قدیم ادب مغز کم رکھتا ہے، اس میں تنوع کی بھی کمی ہے مگر فن کے ایک خاص شعور کی وجہ سے یہ مبہم نہیں ہے۔

    ہمارا جدید ادب اس کے مقابلہ میں مغز بھی رکھتا ہے اور وزن بھی اور تنوع بھی مگر اس میں ابہام زیادہ ہے۔ پہلے چاشنی یا چٹخارے پر زور تھا اب سنسنی پھیلانے یا چونکانے پر توجہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو ذہن زیادہ نمایاں نہیں ہے جذبہ زیادہ نمایاں ہے۔ دوسرے ذہن میں روشنی کم ہے دھندلکا یا الجھن زیادہ (اس الجھن کے وجوہ اور ہیں، تنقید کی وجہ سے یہ الجھن نہیں) ذہن اور جذبے کے فرق پر ماہر نفسیات مسکرائیں گے مگر میں نے ان کو یہاں مستعار معنی میں استعمال کیا ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگ ہرسؔ کی طرح صرف جذبے ہی کو شاعری سمجھتے ہوں مگر میں فکر و جذبے کی ہم آہنگی کو ضروری جانتا ہوں۔ ادب میں علم اور علمیت کی کمی، اس علم میں تہذیب و تربیت کی کمی ہے۔ یہاں محض کتابوں کا علم نہیں بلکہ زندگی اور کائنات کا علم مراد ہے۔ تنقیدی شعور کی طرف توجہ نہ کرنے اور ذوق کی صحت و اصلاح سے بےنیاز رہنے کی برکت ہے۔

    ہر انسان میں حسن سے متاثر ہونے اور حسن کاری کا اثر قبول کرنے کی تھوڑی بہت صلاحیت ہوتی ہے مگر ہر شخص کا ذوق مہذب، پختہ اور رچا ہوا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کی ذہنی نشوونما ان کی عمر کے ساتھ نہیں ہوتی، کچھ کو غم دوراں اس نشوونما کا موقع نہیں دیتا، کچھ اد ب میں سستا نشہ ڈھونڈتے ہیں اور اس پر قانع ہو جاتے ہیں جس طرح کتنے ہی تن آسانی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور ’’درد و داغ و سوزوساز اور آرزو و جستجو‘‘ اقبالؔ کے ابلیس کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ بیسویں صدی، مست قلندر، کہکشاں اور اس قسم کے دوسرے رسالوں کی مقبولیت کا یہی راز ہے۔

    مگر یہاں میرا خطاب ان لوگوں سے نہیں ہے جو ادب میں بے ادبی کی تلاش کرتے ہیں، بلکہ ان سے جو ادب کے ذریعہ سے آلام روزگار کو آسان ہی بناتے، آلام و روزگار سے کشمکش کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں اور انسانیت اور زندگی کے امکانات کو بلند کرتے ہیں۔ یہ لوگ اچھے ادب سے محظوظ ہوتے ہیں۔ کسی ادبی شخصیت کے دوچار ہونے سے کسی ادبی کارنامے یا کسی ادبی فتح سے آشنا ہونے سے، انہیں مسرت حاصل ہوتی ہے لیکن ان کی اس مسرت اور خوشی میں تحسین اور تعریف کا رنگ غالب ہوتا ہے۔ کسی دوسرے ادبی کارنامے سے دوچار ہونے پر یہ تحسین دوسرا رنگ اختیار کر لیتی ہے، اس تحسین میں توازن نہیں ہوتا، یہ گمراہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے ہر نئی دریافت کو اس کی مناسب جگہ دینا ہر نئے سچ کو زندگی کی بڑی صداقت کے سانچے میں سمونا، جھوٹ کو پہچاننا، جب وہ سج کا قالب پہن کر سامنے آئے اور بھی ضرری ہو جاتا ہے۔ گویا تنقید ادیبوں اور ادیب سے مسرت اور خیروبرکت حاصل کرنے والوں اور خود ادب کے لئے مشعل ہدایت ہے۔

    تنقید کے منصب کو واضح کرنے کے بعد اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ تنقید کا کام کیا ہے؟ یہاں بھی یہی مشرق و مغرب کے سرمائے میں مختلف نظریے، سیکڑوں اقوال اور ہزاروں الگ الگ رجحان دکھائی دیتے ہیں۔ تنقید کا کام فیصلہ ہے، تنقید دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دیتی، تنقید وضاحت ہے، صراحت ہے، ترجمانی ہے، تفسیر ہے، تشریح ہے، تحلیل ہے، تجزیہ ہے۔ تنقید قدر ہی نہیں متعین کرتی ہے ادب اور زندگی کو ایک پیمانہ دیتی ہے، تنقید انصاف کرتی ہے، ادنیٰ اور اعلیٰ، جھوٹ اور سچ، پست و بلند کے معیار قائم کرتی ہے۔ تنقید ہر دور کی ابدیت اور ابدیت کی عصریت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تنقید ادب میں ایجاد کرنے اور محفوظ رکھنے دونوں کا کام انجام دیتی ہے۔ وہ بت شکنی بھی کرتی ہے اور بت گری بھی۔ تنقید کے بغیر ادب ایک ایسا جنگل ہے جس میں پیداوار کی کثرت ہے، موزونیت اور قرینے کا پتہ نہیں۔ یہ اور اس قسم کی بہت سی باتیں کہی جا سکتی ہیں اور ان میں سے کوئی بات غلط نہیں ہے۔

    اگر اچھے نقادوں کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ کچھ نقاد فیصلے کی طرف مائل رہے ہیں، کچھ تحلیل اور تجزیے پر زور دیتے رہے ہیں۔ کچھ ترجمانی کا حق ادا کرتے رہے ہیں اور غیرجانبداری کی کوشش کرتے ہیں مگر ادب میں مستقل غیرجانبداری مشکل ہی نہیں قریب قریب ناممکن ہے۔ تنقید محض تصویر کے دونوں رخ دکھانے کا نام نہیں ہے، نہ اس میں آدمی مفاہمے یا مصالحت کی کوشش کرتا ہے اور محض ’’عیبش نیز بگو‘‘ سے عہدہ برآ ہوتا ہے، بلکہ دونوں پہلوؤں پر نظر رکھنے کے بعد کسی کی اہمیت کا اعتراف ضروری ہے۔

    لفظی تنقید بھی تنقید کی معمولی قسم ہے، الفاظ کے اندر فن کا جو شعور اور فن میں حیات و کائنات کا جو احساس ہے وہ زیادہ ضروری ہے۔ فاعلاتن فاعلات کی گردان اگرچہ تنقید نہیں ہے مگر اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ کوئی بھی اچھا نقاد عروض اور اس کے قواعد سے بے نیاز ہو سکتا ہے۔ ادب کا اچھا نقاد زبان کا بھی اچھا نباض ہوتا ہے، وہ نہ صرف عروض، روزمرہ اور محاورے سے واقف ہوتا ہے بلکہ یہ بھی جانتا ہے کہ بعض اوقات ان کی فروگزاشت کے باوجود اچھی اور بڑی شاعری ممکن ہے۔ افسانہ نگاری میں اب بھی کچھ لوگ انشائے لطیف کی تلاش کرتے ہیں اور بیدیؔ کی غیر معمولی فنی بلندی سے اسی لئے انکار کر دیتے ہیں، یہ صحیح نہیں۔ شاعری میں بھی رومیؔ سے لے کر اقبالؔ تک محض شاعری کو سب نے اپنے اوپر تہمت قرار دیا ہے، محض شاعری سے یہاں غالباً محض فن کی بہار مراد ہے۔

    زبان کے اس علم کے بعد اسالیب کا علم بھی ضروری ہے اور ہر اسلوب میں خلوص، انفرادیت، بیان اور حسن بیان کا احساس بھی۔ زبان و بیان کے حسن سے آب و رنگ آ سکتا ہے، روح نہیں آ سکتی۔ پہلی چیز مواد کی صحت یا واقعات کی صداقت ہے، اگر نقاد یہ علم نہیں رکھتا یا اس کا علم ناقص ہے تواس کی بنیادیں ناقص ہیں، یہی وجہ ہے کہ جدید تنقیدوں میں بکثرت غلطیاں ناواقفیت یا غلط فہمی کی وجہ سے ملتی ہیں۔ نقاد محض واقعات تو بیان نہیں کرتا اس لئے وہ مسل بندی پر مجبور نہیں ہے اور تنقید ہرگز مسل بندی یا واقعات کی کھتونی نہیں ہے مگر واقعات کے صحیح بیان اور صحیح احساس کے بغیر، یعنی صحیح تاریخی شعور کے بغیر اس کا ہر قدم اسے ترکستان کی طرف لے جائےگا۔

    نقاد کے لئے ضروری ہے کہ ماضی کے کسی کارنامے کا تجزیہ کرتے وقت وہ خود ماضی میں پہنچ جائے، ماضی سے منہ موڑ کر بیٹھنا کسی حال میں صحیح نہیں۔ جدید تنقید میں پہلی کمزوری یہ ہے کہ وہ بعض واقعات کو نظر انداز یا مسخ کر دیتی ہے اور اپنے خلاف باتیں سننا گوارا نہیں کرتی۔ دوسری کمزوری یہ ہے کہ ماضی کا صحیح احساس نہیں رکھتی۔ اگرچہ ہمارے ادب میں ماضی پرستی بہت زیادہ رہی ہے اور برسوں شاعروں اور ادیبوں کے سامنے ایجاد کے بجائے تنقید، اپج کے بجائے رسمی اور روایتی اسلوب اور ادب کے بجائے فن، زیادہ اہم رہا ہے مگر اس کے معنی یہ نہ ہونا چاہئیں کہ ہم جلاپے کی ضد میں ماضی کے کارناموں سے بالکل بے نیازی برتیں۔ ترقی پسند تنقید شروع میں تبلیغ زیادہ تھی تنقید کم، اس لئے کہ ماضی کی قدر کرنا اس نے اس وقت تک نہ سیکھا تھا مگر اب جو تنقیدیں لکھی جا رہی ہیں ان میں تاریخی شعور ارتقا کا لحاظ اور ماضی کا صحیح احساس ملتا ہے۔

    اچھی تنقید محض کلاسیکل یا رومانی کے پھیر میں نہیں رہ سکتی۔ وہ اس طرح تنگ خانوں میں نہیں بٹ سکتی۔ کتنے ہی نقاد اب بھی شاعروں اور ادیبوں کا تجزیہ اس طرح کرتے ہیں کہ وہ ان باتوں میں اپنے پیش روؤں سے علیحدہ ہیں۔ یہ ٹھیک ہے مگر ناکافی ہے، یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ وہ کس حد تک اس سرمائے کے امین، اس روایت کے آئینہ دار، اس مزاج کے مظہر ہیں، جو تہذیب و تمدن نے دیا ہے۔ وہ کس حد تک نئے اور کس حد تک پرانے ہیں، اور یہی نہیں ان کے نئے پن میں کس حد تک پراناپن ہے۔ یعنی ان کی قدروقیمت کا اندازہ محض ان کی خدمت وندرت سے نہیں، ان کی ادبیت سے بھی کرنا چاہئے اور ادبیت سے یہاں مراد اس ادبی معیار سے ہے جو اس عرصے میں بن چکا ہے۔ اقبالؔ کی مثال سے یہ بات واضح ہو جائےگی۔

    اقبالؔ کے شمع و شاعر میں یا بال جبریل کی غزلوں میں ہمیں نئے خیالات ملتے ہیں مگر یہ نئے خیالات اس شعریت کے ساتھ ملتے ہیں جو مانوس ہے اور مقررہ سانچوں کے مطابق، یعنی اقبال جدید ہیں مگر ان کی جدت انہیں قدیم شعریت سے بے پرواہ نہیں کرتی، جس بادہ و ساغر کے پردہ میں مشاہدہ حق بیان ہوتا تھا، اسی کو مشاہدۂ حیات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اقبال باوجود جدت کے محض باغی نہیں ہیں، نہ حالی محض باغی ہیں۔ دونوں ایک نئی روایت ضرور قائم کرتے ہیں مگر یہ روایت جبر سے زیادہ اختیار اور ترک سے زیادہ توسیع اور اضافے کی ہے۔ حالیؔ اور اقبالؔ، بجنوری اور عظمت اللہ خاں سے اس لئے بلند ہیں کہ وہ اپنے دور میں آزاد ہونے کے باوجود ماضی سے اتنے بیگانہ نہیں ہیں، نہ اتنے انتہا پسند ہیں، نہ اس قدر (Exclusive)۔

    کلیم الدین بہت سے نقادوں سے زیادہ نئی باتیں، سوچی ہوئی باتیں اور خیال آفریں باتیں کرتے ہیں مگر ان کی تنقید اور بلند ہوتی، اگر وہ اپنے قدیم سرمائے سے اس قدر بیزار نہ ہوتے اور ان کے یہاں تاریخ و ادب کے تسلسل کا شعور اور زیادہ نمایاں ہوتا اور ان کی تنقید گلستاں میں کانٹوں کی تلاش نہ بن جاتی۔

    مگر ماضی کا احساس اور چیز ہے اور ماضی کا پابند ہونا اور چیز۔ اگر نقاد محض روایات کا احترام کرتا ہے، محض لکیر کا فقیر ہے، محض بیسویں صدی کے ذہن کو سترہویں صدی کی طرف لے جانا چاہتا ہے تو وہ اپنے مقام سے گر جائےگا، ماضی کا احساس اور ماضی کے دھندلکے میں ایک ادبی تسلسل کا جلوہ بھی اسے تجربے، انوکھے پن، نئے پن اور اپج سے بے نیاز نہیں کر سکتا۔ آزاد شاعری کی ضرورت کیا ہے، نظم کافی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ خود نظم کی کیا ضرورت ہے۔ غزل میں کیا برائی ہے، آخر کمرے کی ترتیب کے لئے جب کوئی ایک طریقہ نہیں ہے، جب حسن دائروں میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے اور سیدھی لکیروں میں بھی، جب مصور کاغذ پر اپنا عکس ذہن سیکڑوں طریقوں سے اتار سکتا ہے تو الفاظ کی ترتیب اور موزونیت کا ایک ہی سانچہ کیوں نہ ہو، کیوں ہر خیال کے لئے ضروری ہو کہ وہ قافیہ کی تنگنائے سے گزرنے کے لئے اپنے آپ کو سکیڑ سکے، کیوں ایک خیال تک پہنچنے کے لئے کئی مصرعوں کو عبور کرنا پڑے۔

    حالی نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ شاعری کے لئے قافیہ و ردیف ضروری نہیں صرف وزن ضروری ہے اس لئے ہر تجربے پر یہ اعتراض کہ وہ کیوں کیا گیا صحیح نہیں۔ تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مانوس سانچوں سے لوگ مطمئن نہیں ہیں۔ تجربہ حسن کو محدود نہیں رہنے دیتا، تجربہ نئے حسن کو آشکار کر کے ذہن کو وسیع کرتا ہے۔ ہر ادب میں تجربے ضروری ہیں، مگر تجربوں کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ صرف نئے فارم میں ظاہر ہوں، نئے موضوعات، نئے تصورات، نئے عنوانات میں بھی ظاہر ہونے چاہئیں۔ ہر اچھے نقاد کے لئے پرانے پن کی طرح اس نئے پن کا احترام بھی ضروری ہے، اس کے جاننے کی خواہش کو بھی مردہ نہ ہونا چاہئے۔

    مداواؔ میں نئی شاعری پر جو تنقید کی گئی تھی اس میں سب سے قابل اعتراض نئے پن سے اس قدر بیزاری تھی اور مانوس راہوں سے اس قدر اندھی محبت اور اس کی سطحیت۔ نقاد اور پجاری دو الگ مخلوق ہیں، نقاد پجاری نہیں ہوتا نہ محتسب یا کوتوال ہوتا ہے۔ اس دور کی نظموں یا انسانوں پر یہ اعتراض کہ ان میں تلخی کیوں ہے، اس میں مسکراہٹ یا امید پروری کیوں نہیں، ان کے لکھنے والے جنسی بھوک کے کیوں شکار ہیں، یہ روتے کیوں ہیں، ہنستے کیوں نہیں، ان میں کلبیت کیوں ہو گئی ہے، ظاہر کرتا ہے کہ معترض اس دور کے مخصوص مسائل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اس دور کی ایک خصو صیت میں ذرا تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔

    پہلے جنگ اس طرح سے ہوتی تھی کہ پیشہ ور سپاہی لڑتے تھے یا ان کے سردار باہم زور آزمائی کرتے تھے، سردار کی شکست پر یا فوج کی ہار جیت پر لڑائی فیصل ہو جاتی تھی۔ سب لوگوں کا کام لڑنا نہ تھا، نہ سب کا حسن سے محظوظ ہونا، کچھ لوگ چاندنی، سبزے، حسن اور عورت سے لطف اٹھانے کے لئے پیدا ہوتے تھے، کچھ ہل جوتنے، قرضہ ادا کرنے اور بھیڑ بکری کی طرح زندگی بسر کرنے کے لئے۔ اب صلح و جنگ کے پیمانے بدل گئے، لڑائی سب کی ہوتی ہے، صلح بھی سب کے لئے۔ چرچل انگلستان کا بچانے والا تھا، مگر صلح ہوتے ہی عوام نے اسے دودھ کی مکھی کی طرح پھینک دیا۔ جنگ نے دکھا دیا ہے کہ ہر خواب کی تعبیر ممکن ہے اور ہر جھونپڑا محل بن سکتا ہے۔ اس نے خوابوں کو اور رنگین اور ناکامیوں کو اور تلخ بنا دیا ہے، اس نے تعمیر و تخریب دونوں کے پیمانے بدل دیے ہیں، داغ حسرت دل کا شمار زیادہ ہو گیا ہے، اس کا اثر ادب پر پڑنا قدرتی ہے اور کوئی نقاد اس سے بے بہرہ نہیں رہ سکتا۔

    قدیم تنقید ہر شاعر کو علیحدہ علیحدہ دیکھتی تھی۔ یہ یاسیات کا امام ہے، یہ رجائیت کا پیغمبر، یہ صوفی ہے، یہ دنیادار، ذاتی حالات اور شخصی تجربات کا تذکرہ ہوتا تھا۔ شخصیت کا احساس بھی موجود تھا مگر ماحول کس حد تک تخلیقی کارناموں کو متاثر کرتا ہے، شخصیت میں کیسے چھپ چھپ کر ظاہر ہوتا ہے، کیسے کیسے عجیب و غریب راستوں سے فن میں راہ پاتا ہے، اس کی اسے خبر نہ تھی۔ جدید تنقید نے خارجیت، واقعیت، سماجی شعور، تمدنی تنقید جیسی اصطلاحوں کو عام کیا ہے، اس نے جزئیات کی مصوری سے کل کے احساسات تک رہنمائی کی ہے، اس نے جذبات کی پرچھائیوں کو فکر کی روشنی دی ہے، ادب کو اس روشنی کی ضرورت تھی۔

    حالی کی شاعری کو غدر اور سرسید کی تحریک سے علیحدہ کرکے دیکھئے تو بے روح نظر آئےگی اور اس کی عظمت کا راز سمجھ میں نہ آ سکےگا، چکبستؔ اور اقبال اور موجودہ ترقی پسند شعراء میں اور پریم چند اور ان کے مقلدوں میں جو فرق ہے وہ ماحول کے احساس کے بغیر سمجھ میں نہ آ سکتا۔ تنقید کا کام اس کی وجہ سے اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اسے فنکار کی شخصیت کو سمجھنا، اس کے اپنے تجربات کا تجزیہ کرنا ہے، پھر اس کے عناصر کو ماحول کی روشنی میں دیکھنا ہے تب جاکر صحیح ادبی بصیرت حاصل ہو سکتی ہے۔ اسی وقت فانی کی قنوطیت، اور جدید شعرا کی مایوسی، اداسی، تلخی، بیزاری بلکہ موت کی آرزو سمجھ میں آ سکتی ہے۔

    نقاد اپنے دور کو سمجھتا ہوا اور دوسرے دوروں سے واقف ہو تو بھی اس کے لئے ایک خطرہ باقی رہ جاتا ہے۔ وہ آسانی سے فلسفے، سیاست یا نفسیات کی آغوش میں پہنچ سکتا ہے۔ آرنلڈ نے جب ادب کے لئے قیدیں متعین کرنا چاہیں تو ان کو عام کرنے کے لئے اپنے دور کے گم کردہ راہ لوگوں کے خلاف بھی جہاد کرنا پڑا۔ وہ جہاد کامیاب ہوا یا نہیں مگر آرنلڈؔ کے لکھنے سے ادب کی محرومی آشکار ہو گئی۔ یہ خطرہ صرف معلم اخلاق کو ہی نہیں سیاست کے علمبرداروں کو بھی ہے۔

    تنقید کو سیاست کی غلامی نہیں کرنی چاہئے، سیاست کا ساتھ دینا چاہئے، اس کی رفاقت کرنی چاہئے، اسی طرح تنقید نفسیات کی دلدل میں بھی گرفتار نہیں ہو سکتی۔ نفسیات کا علم ہمارے لئے بڑا مفید ہے مگر وہ بڑا پر فریب بھی ہے، وہ اس آئینے کی طرح ہے جو بڑی چیزوں کو چھوٹا اور چھوٹی چیزوں کو بڑا کر دیتا ہے، چہروں کو چپٹا اور لمبوترا بنا دیتا ہے، وہ رائی کو پہاڑ کر کے دکھاتا ہے، وہ ایک گرہ کھولتا ہے مگر سیکڑوں ڈال دیتا ہے۔ نفسیاتی تنقید ہلدی کی گرہ لے کر پنساری بن بیٹھی ہے، یہ سائنس ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور سائنس کے بعض حربے بھی مستعار لیتی ہے مگر ابھی سائنس نہیں بن سکی۔ اسی لئے میں نفسیاتی شعور کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے موجودہ نفسیاتی تنقید کو گمراہ کن سمجھتا ہوں ابھی تک نفسیات کے پیمانے سمندر کو کوزے میں بھرنے کی کوششیں ہیں۔

    غرض نقاد محض فلسفی یا مبلغ یا ماہر نفسیات نہیں ہوتا، وہ صاحب نظر ہوتا ہے۔ وہ بقول رچرڈس کے ذہن کے ساتھ وہی عمل کرتا ہے جو ڈاکٹر جسم کے ساتھ۔ وہ قدروں کا خالق، برتنے والا اور پھیلانے والا ہے۔ قدروں کے خالق کی حیثیت سے وہ قدروں کے برتنے کے تماشے کو ذرا بلندی سے بھی دیکھ سکتا ہے اور برتنے والے کی حیثیت سے وہ محض پھیلانے والے (یا مبلغ) سے اونچا مقام رکھتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی تبلیغ دوسرے کی تبلیغ سے بہتر ہوتی ہے۔ اس میں زیادہ ابدیت ہوتی ہے۔

    یہ واضح کرنے کے بعد کہ تنقید میں روایت اور بغاوت، ماضی و حال، ماحول اور انفرادیت، فن اور فلسفہ میں توازن قائم کرنا ہوتا ہے، اتنا اور کہنا ضروری ہے کہ کچھ نقادوں نے اس توازن کو قربان کرکے بھی اہمیت حاصل کی ہے۔ شیفتہؔ اپنے دور کے بڑے اچھے نقاد تھے، وہ کلاسیکل ضبط و نظم کے قائل تھے اور ادب کو فن شریف سمجھتے تھے، عوام سے انہیں سروکار نہ تھا، نظیرؔ کو نظرانداز کر کے انہوں نے اپنا نقصان کیا مگر ان کی اہمیت کا اعتراف بھی ضروری ہے۔ وہ حالیؔ سے پہلے نقادوں میں سب سے اچھا تنقیدی شعور رکھتے تھے اور ان کا گلشن بے خار اپنے زمانہ کا بہترین کارنامہ ہے۔ عظمت اللہ خاں نے نئے پن کے جوش میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’غزل کی گردن بے تکلف مار دینی چاہئے۔‘‘ اس وجہ سے ان کا درجہ زیادہ بلند نہ ہوسکا۔ مگر نئے راستے پر چلنے والوں میں بھی ان کا بڑا درجہ ہے لیکن ان سے بڑا درجہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اپنا توازن ذہنی قائم رکھا۔ جن کا ایک قدم یہاں ہے اور ایک وہاں، جو اپنے زمانے کے بھی ہیں اور ہر زمانے کے بھی، یعنی جو آفاقی ذہن رکھتے ہیں۔

    اب صرف سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا تنقید کے لئے کوئی ایک جامع اصطلاح وضع کی جا سکتی ہے یا نہیں، میرے خیال میں اس کے لئے پرکھ کا لفظ سب سے زیادہ موزوں ہے۔ اس میں تعارف ترجمانی اور فیصلہ، سب آ جاتے ہیں۔ پرکھ کے لفظ کے ساتھ ہمارے ذہن میں ایک معیار یا کسوٹی آتی ہے۔ نقاد کے ذہن میں ایک ایسا معیار ضروری ہے۔ پرکھنے اور تولنے کے لئے ترجمانی اور تجزیہ ضروری ہے، مبصر یا پارکھ اپنا فیصلہ منوانے کے درپے نہیں رہتا اور تمام نقاد اس بات سے متفق ہیں کہ نقاد کو بھی آمر نہیں ہونا چاہئے۔ ایلیٹ کہتا ہے کہ ’’اہم معاملات میں نقاد کو زبردستی نہیں کرنی چاہئے اور نہ اسے اچھے یا برے کا فیصلہ (جھٹ سے) صادر کرنا چاہئے، اسے صرف وضاحت کرنی چاہئے اور پڑھنے والا خود ہی ایک صحیح نتیجے پر پہنچ جائےگا۔‘‘

    نقاد جب کسی کا تعارف کرتا ہے تو اس کا تعارف کسی نقیب کی پکار نہیں ہوتا۔ ایک سیاح کی دریافت ہوتا ہے۔ نقاد بھی اپنی دنیا کا کولمبس ہے، وہ پڑھنے والوں کو ایک ہی فضا لے جاتا ہے جس کا حسن اس نے دریافت کیا ہے۔ ہر تنقید ایک ذہنی سفر کا آغاز ہے، تعارف کا اعلان نہ ہونا چاہئے اور نہ ترجمانی کو فلسفہ۔ نقاد کو ترجمانی کے فرض سے اچھی طرح عہدہ بر آ ہونے کے لئے خارجیت سیکھنی چاہئے۔ خارجیت کو بعض لوگ اخلاق کی بنیاد کہتے ہیں۔ اگر نقاد مصنف کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس کی آواز سے بولے اور اس کے قلم سے لکھے، اسے تھوڑی دیر کے لئے اپنے اندر سما جانے دے اور اس طرح اس کے ساتھ انصاف کرے تو وہ اچھا نقاد ہے۔ سائنس ہمیں ایک بڑی حد تک یہ خارجیت سکھاتی ہے۔ اس لئے نقاد کو سائنٹفک اصولوں سے مدد لینی چاہئے۔ اس ترجمانی کے لئے بعض اوقات اپنے خلاف بھی بولنا پڑتا ہے۔ اس میں ’’ہونا چاہئے‘‘ کو تھوڑی دیر کے لئے ’’ہے‘‘ کی خاطر پس پشت بھی ڈالنا پڑتا ہے اس مرحلے سے گزرنے کے بعد نقاد کو حق حاصل ہے کہ وہ ’’چاہئے‘‘ پر بھی اصرار کرے۔

    مثلاً عصمت چغتائی کے بہت سے افسانوں میں جنسی میلان ہی نہیں، جنسی کج روی بھی ہے، ان کے افسانے بقول پطرسؔ کے جسم کی پکار ہیں اور ان کا مرقع دو زخمی، باوجود اپنی بے مثل حقیقت نگاری کے کچھ مریض (Morbid) سا ہے، مگر اس کے باوجود عصمت کی حقیقیت نگاری، خلاقی، کردار نگاری، فنی پختگی، زبان پر قدرت، اپنے ماحول سے واقفیت اور ادبیت میں کلام نہیں۔ ان کی اتنی خوبیوں کو تسلیم کرنے کے بعد ان پر اعتراض کرنے کا حق پہنچتا ہے۔ نقاد معلم اخلاق بھی ہوتا ہے مگر محض معلم اخلاق نہیں ہوتا، وہ جج بھی ہوتا ہے مگر محض جج نہیں، وہ مبصر یا پارکھ ہوتا ہے۔ تنقید میں بھی جوش اور جذبے کی ضرورت ہے مگر بری تنقید محض جوشیلی یا جذباتی ہوتی ہے، اچھی تنقید میں جذبے کو ایک نازک، پختہ اور مہذب احساس کا نکھار مل جاتا ہے، اسی لئے اچھی تنقید محض تخریبی نہیں ہوتی، محض خامیوں کو یا کوتاہیوں کو نہیں دیکھتی، وہ بلندیوں کو دیکھتی ہے اور یہ اندازہ لگاتی ہے کہ یہ بلندی کیسی ہے۔

    حالیؔ کے الفاظ میں وہ حیرت انگیز جلوؤں کا پتہ لگاتی ہے، وہ پستی کا احساس رکھتی ہے مگر پست نہیں ہوتی، وہ میرؔ کے اشعار میں امردپرستی کی طرف اشارے دیکھ کر میرؔ کے مزاج اور تحت الشعور کی ادھیڑبن میں کھو نہیں جاتی، شاعر کی بلندیوں پر بھی نظر رکھتی ہے۔ اچھا نقاد پڑھنے والے کو شاعر سے شاعری کی طرف لے جاتا ہے۔ معمولی نقاد شاعر میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اردو میں بھی اب تک خواص و عوام دوسرے کی رائے کے پابند ہوتے ہیں، وہ ہر فیصلے کو آنکھ بند کرکے قبول کر لیتے ہیں، اس میں ہیرو پرستی کے علاوہ ذہنی کاہلی بھی شامل ہے، اسی لئے تصویر کے دورخ دیکھنے کی تکلیف نہیں گوارہ کرتے، ایک رخ، ایک فیصلہ، ایک فارمولہ انہیں مطمئن کر دیتا ہے، وہ ہر چیز کو پرکھنے کی تکلیف نہیں گوارہ کرتے۔ پارکھ بننے کے لئے بڑے ضبط و نظم، بڑے ریاض اور رسا ذہن کی ضرورت ہے، جب ہی تو اردو تنقید میں مبلغ اور نقیب بہت ہیں، پارکھ اور مبصر کم۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY