Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اردو ادب کے ناقدین!

محمد شہزاد

اردو ادب کے ناقدین!

محمد شہزاد

MORE BYمحمد شہزاد

    اگر آپ میں لکھنے کی صلاحیت بالکل بھی نہیں تو گھبرائیں مت۔ راستہ موجود ہے۔۔۔ ناقد بن جائیے۔ یہاں تخلیق کی شرط نہیں، صرف ”رائے“ کی طاقت درکار ہے۔ اور رائے بھی ایسی جو درست ہو یا غلط، یہ بعد کا سوال ہے۔ پہلے آپ لکھاری کے سامنے نہیں ہوتے، آپ اس کے پیچھے ہوتے ہیں۔ پھر اچانک آپ اس کے فیصلے بن جاتے ہیں۔ ادبی انجمنیں۔۔۔ جنہیں رسمی طور پر کچھ اور، اور غیر رسمی طور پر ”انجمنِ ستائشِ باہمی“ کہا جاتا ہے۔۔۔ آپ کو ایسے مرکز میں لا بٹھاتی ہیں جیسے ادب کا مدار آپ کے گرد گھومتا ہو۔۔۔ ہر تقریب آپ کی منظوری کی منتظر، ہر کتاب آپ کی توثیق کی محتاج، ہر محفل آپ کی موجودگی کی اسیر!

    پبلشر، جو عام لکھاری کو اکثر نظرانداز کرتا ہے، آپ کے سامنے مؤدب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اب کاروبار کتاب کا نہیں، رائے کا ہے۔ اور رائے وہ شے ہے جو کبھی نقدی سے زیادہ قیمتی اور کبھی اس سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ یہاں متن کی قدر اس کی سچائی سے نہیں، اس پر ہونے والی ”تائید“ سے طے پاتی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو آپ ردی کو ادب کا معیار بنا سکتے ہیں، اور اگر چاہیں تو ادب کو خاموش کر سکتے ہیں۔ اسی نظام میں بعض اوقات بڑے بڑے کام۔۔۔ ”پانی کا دریا“، ”خوش حال نسلیں“، ”شیطان کی بستی“، ”کئی سانڈ تھے زیرِ زمین“ اور ”راجہ گدھا“۔۔۔ ادب کے سنگِ میل کہلائے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کیا تھے۔ سوال یہ ہے کہ انہیں کس نے کہا تھا۔

    تقریب رونمائی میں لکھاری کو اپنے خرچے پر آنا ہوتا ہے۔ بسوں میں دھکے کھانے ہوتے ہیں۔ لاری اڈوں پر ذلیل ہونا ہوتا ہے۔ کبھی کسی رشتہ دار کے صوفے پر، کبھی کسی منجی بسترے والے ہوٹل میں رات گزارنی ہوتی ہے۔ اور ناقد؟ اسے فرسٹ کلاس ٹکٹ بھی ملتا ہے اور فائیو اسٹار ہوٹل بھی۔ اور یہ سب ”ادب کی خدمت“ کے نام پر! مزید لطف یہ کہ ناقد بننے کے لیے علم کی بھی کوئی خاص شرط نہیں۔ نہ گہرا مطالعہ، نہ تخلیقی شعور، نہ تحقیق۔۔۔ بس چند گھسے پٹے جملے، چند محفوظ اصطلاحات، اور ذرا سا اعتماد۔ باقی نظام خود سنبھال لیتا ہے۔

    یہ ایک ایسا کارآمد ہنر ہے جو صدیوں سے کامیابی سے چل رہا ہے۔۔۔ بغیر سوال، بغیر احتساب۔ فرض کیجیے آپ مسٹر گھسیٹا کے ناول ”سمندر کا آٹھواں کنارہ“ کی تقریبِ رونمائی میں مہمانِ خصوصی ہیں۔ آپ نے سٹیج پر چند رسمی، محفوظ، اور پہلے سے آزمودہ جملے پھینکنے ہیں۔ بس! اس کے بعد وہی جملے کسی اخبار میں ”تفصیلی تجزیہ“ بن کر چھپ جائیں گے۔ یا اگر محفل اچھی ہو تو پورا سٹیج ہی ریویو بن جائے گا۔ نہ ناول پڑھنے کی ضرورت، نہ سمجھنے کی زحمت۔ کیونکہ یہاں مسئلہ پڑھنے کا نہیں۔۔۔ ”کہنے“ کا ہے۔ اور کہنے کے بعد سب کچھ خود بخود معتبر ہو جاتا ہے۔ اور ویسے بھی۔۔۔ یہاں پڑھتا کون ہے؟

    تو جناب، آغاز یوں کیجیے: ”گھسیٹا صاحب کا اندازِ بیاں بالکل منفرد ہے اور ان کا اپنا ہے۔“

    یعنی سادہ ترجمہ یہ کہ انہوں نے خود ہی لکھا ہے، کسی سے لکھوایا نہیں۔ یہ بھی ایک بڑی ادبی خوبی سمجھی جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ جملہ تعریف کم اور سرٹیفکیٹ زیادہ ہو۔۔۔ اور سرٹیفکیٹ بھی وہ جو کسی سوال کے بغیر جاری ہو جائے۔ یوسفی صاحب نے کیا خوب فرمایا تھا کہ ادیب دوسرے ادیب کی کتاب صرف اس وقت پڑھتا ہے جب اسے سرقے کا شبہ ہو۔ اور یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ شبہ اتنا عام ہے کہ پڑھنا بھی ایک قسم کی نگرانی بن گیا ہے۔ اگر فائدہ زیادہ نظر آئے تو بلا جھجھک یہ اعلان بھی کر دیجیے کہ ہم دراصل دنیائے ناول نگاری میں ”عہدِ گھسیٹا“ میں جی رہے ہیں۔ یعنی تاریخِ ادب اب ”قبل از گھسیٹا“ اور ”بعد از گھسیٹا“ میں تقسیم ہو چکی ہے۔۔۔ بس اعلان باقی ہے۔

    اور اگر مسٹر گھسیٹا نے کبھی دو ایک الٹے سیدھے اشعار بھی کہہ رکھے ہوں، تو پھر تذبذب کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے: ”یہ طے کرنا واقعی مشکل ہے کہ مسٹر گھسیٹا رواں صدی کے عظیم شاعر ہیں یا عظیم ناول نگار… یا دونوں، یا شاید ان میں سے کوئی بھی نہیں، مگر بحث اتنی خوبصورت ہے کہ فیصلہ غیر ضروری ہو جاتا ہے۔“

    اور اگر موصوف نے کبھی کبھار کسی اخبار میں دو چار کالم لکھ دیے ہوں، یا اتفاقاً چند اوٹ پٹانگ افسانے چھپوا لیے ہوں، تو پھر کمال کی منزل اور قریب آ جاتی ہے۔ تب آپ پورے اعتماد سے اعلان کرتے ہیں: ”مسٹر گھسیٹا ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت ہیں۔۔۔ شاعر بھی، ناول نگار بھی، کالم نگار بھی، اور کبھی کبھی افسانہ نگار بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ قاری کو ہر صورت میں یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ اصل شناخت آخر ہے کیا۔۔“

    یوں ادب نہیں رہتا۔۔۔ ادبی شناخت ایک مستقل ریسرچ پروجیکٹ بن جاتی ہے۔ اور پھر عقل دنگ رہ جاتی ہے جب ماہرین ادب سنجیدگی سے یہ فیصلہ کرنے بیٹھتے ہیں کہ مسٹر گھسیٹا آخر ہیں کیا چیز؟ کیا یہ صحافی ہیں؟ شاعر ہیں؟ ناول نگار ہیں؟ افسانہ نگار ہیں؟ یا سب کچھ ایک ساتھ۔۔۔ اور کچھ بھی واضح نہیں؟ اگر ٹی وی اسکرین پر نمودار ہو جائیں تو اچانک وہ ملک کے سب سے بڑے سیاسی تجزیہ کار بھی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ ایسا جامع, ہمہ گیر، ہمہ جہت ہنر آخر کسی ایک شخص میں کیسے سما سکتا ہے؟ یہ سوال خود اپنی جگہ ایک ادبی معمہ بن جاتا ہے۔ آخرکار نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسٹر گھسیٹا کوئی معمولی انسان نہیں۔۔۔ بلکہ ادب کے جن ہیں۔ اور وہ بھی ایسا جن جو ہر صنف میں یکساں مہارت کے ساتھ چراغ سے باہر نکلتا ہے اور آپ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں:

    ”میں نے کچھ دیر پہلے کہا تھا۔۔۔ اور آپ نے بھی اس کی تائید فرمائی۔۔۔ کہ ہم ناول نگاری میں ”عہدِ گھسیٹا“ میں جی رہے ہیں۔ مگر اب احساس ہوتا ہے کہ یہ بات بھی بہت محدود تھی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم شاعری، صحافت، کالم نگاری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری۔۔۔ ایک وسیع تر ادبی کائنات۔۔۔ میں مسٹر گھسیٹا کے زیرِ اثر نہیں، بلکہ ان کی ”زیرِ حراست“ ہیں۔“

    اس تعارفی ”چول“ کے بعد اب آپ کو کچھ اور بڑی بڑی چولیں مارنی ہیں۔۔۔ مگر اس انداز میں کہ تالیاں خود بخود بڑھتی محسوس ہوں۔ اور ہاں، اس بار چول کے اندر فلسفہ نظر آنا چاہیے، ورنہ بات نہیں بنے گی۔ اب آپ پورے اعتماد سے کہیں، مسٹر گھسیٹا انسانی ذہن میں سچ اور جھوٹ کی کشمکش کو غیر معمولی گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ وہ کسی سکوپا ڈائیور کی طرح اس سمندر میں کود پڑتے ہیں جہاں بڑے بڑے ٹائی ٹینک غرق ہوئے۔۔۔ وہ ٹائی ٹینک جن کے بنانے والوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ کبھی نہیں ڈوب سکتے۔ مگر مسٹر گھسیٹا کا کمال دیکھیے، وہ ایک ہی غوطے میں سچ کو جھوٹ سے جدا کر دیتے ہیں، اور پھر اسے معاشرے کے جگر میں تیر کی طرح پیوست کر دیتے ہیں۔ ان کا ”کاٹا“ ایسا ہے کہ پانی بھی شرما جائے اور وضاحت کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ ان کا یہ انداز بعض اوقات چارلی چپلن کی یاد دلاتا ہے۔۔۔ فن کا بادشاہ۔ مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ مسٹر گھسیٹا نے یہاں مسٹر چارلی کو بھی کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے، کیونکہ چارلی صرف ہنسانے تک محدود تھا، اور گھسیٹا صاحب ہنسی کے اندر فلسفہ چھپا دیتے ہیں۔

    چونکہ ہمارے یہاں نظریاتی چورن ”ہاٹ کیک“ کی طرح بکتا ہے، اس لیے یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ گھسیٹا جی کی تحریروں میں سماج کی مٹی کی خوشبو پوری طرح رچی بسی ہوتی ہے۔۔۔ یہ خوشبو کبھی کبھی قاری کو مٹی میں بھی لے جاتی ہے اور کبھی آسمان پر بھی۔ ان کی منظر نگاری اس طرح گھسٹتی جاتی ہے کہ کردار قاری کے ذہن میں چلتے پھرتے، بولتے اور کبھی کبھی اس سے زیادہ حقیقت پسند محسوس ہونے لگتے ہیں۔

    گھسیٹا جی کی غزل ہو، نظم ہو، افسانہ ہو، کالم ہو یا ناول۔۔۔ قاری بعض اوقات ”رضاکارانہ طور پر مجبور“ ہو جاتا ہے کہ ایک ہی نشست میں مکمل کر لے۔ اور اگر نہ بھی کرنا چاہے تو ادب خود اسے قائل کر لیتا ہے۔ یہی گھسیٹا جی کا خاصہ ہے کہ وہ وہاں بھی پڑھے جاتے ہیں جہاں اردو سرے سے بولی اور سمجھی جاتی ہی نہیں۔۔۔ اور بعض جگہ تو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اس دجالی دور میں گھسیٹا جی کی تحریریں امید کی ایک نئی مشعل ثابت ہوں گی۔۔۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو روشنی اور اندھیرے میں تمیز نہیں کر سکتے۔ بلاشبہ، مسٹر گھسیٹا اردو ادب کے دیومالائی ادیب ہیں۔ اور یہ کہنا شاید مبالغہ نہیں ہوگا کہ ناول، نظم، کالم، غزل، افسانہ اور کہانی کی تاریخ۔۔۔ سب کی سب۔۔۔ کسی نہ کسی طرح مسٹر گھسیٹا کے بغیر ادھوری ہی محسوس ہوتی ہے۔

    اس کے بعد آپ کو عینک کے شیشے اچھی طرح صاف کرنے ہیں۔ اگر عینک استعمال نہیں بھی کرتے تو کوئی بات نہیں۔۔۔ ایک عدد جعلی عینک لگا لیجیے، مگر شیشے اور فریم دونوں اپنی جگہ موجود ہونے چاہییں۔ اس سے سنجیدگی خود بخود بڑھ جاتی ہے۔

    اب آپ پورے اطمینان سے اعلان کیجیے: ناول کو کسی ایک موضوع یا مخصوص فنی سانچے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ نہ یہ سیاسی ہے، نہ سماجی، نہ رومانوی، نہ مذہبی، نہ تاریخی۔ یعنی مختصر الفاظ میں کچھ بھی واضح نہیں۔۔۔ مگر یہ بات کہنی نہیں ہے۔

    اسی نکتے کو ذرا اور آگے بڑھاتے ہوئے فرمائیے: فنی اعتبار سے بھی اس ناول کو روایتی خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا۔ نہ یہ حقیقی حقیقت ہے، نہ مافوق الفطرت، نہ علامتی، نہ استعاراتی، نہ تجریدی۔ پھر فوراً سوال اٹھائیے۔۔۔ اور فوراً خود ہی جواب بھی دے دیجیے: آخر اس ناول کو کس خانے میں رکھا جائے؟ اور پھر بڑے اطمینان سے نتیجہ اخذ کیجیے کہ مصنف نے بیانیہ کے مختلف النوع وسائل اور منفرد فنی طریقوں کو بروئے کار لا کر اس ناول کو ایک امتیازی حیثیت عطا کی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر غیر واضح چیز کو ”امتیاز“ کا درجہ دے کر محفوظ کر لیا گیا ہو۔ واقعات کی پیش کش کے نت نئے انداز اس ناول کو ”خالص ادبی نوعیت“ عطا کرتے ہیں۔۔۔ یعنی ایسی ادبی نوعیت جس کی وضاحت کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ جو پرانا، روایتی، اور بعض اوقات غیر واضح اسلوب بزرگوں نے وراثت میں چھوڑا تھا، وہ اس میں جگہ جگہ جھلکتا ہے۔۔۔ اور بڑی خوبی کے ساتھ جھلکتا ہے۔

    اس کے باوجود یہ ناول نہ صرف منفرد ہے بلکہ ممتاز بھی ہے۔ کیونکہ یہاں انفرادیت بھی اجتماعی تعریف کے ذریعے طے پاتی ہے۔

    اور آخر میں آپ بڑے اعتماد سے یہ بھی کہہ سکتے ہیں: مسٹر گھسیٹا کا تخیل اتنا زرخیز ہے کہ انہوں نے ”سمندر کا آٹھواں کنارہ“ نہ صرف دریافت کیا بلکہ قاری کو اس کی انگلی پکڑ کر اسے پورے سمندر کی سیر بھی کرا دیتے ہیں۔۔۔ وہ بھی بغیر لائف جیکٹ کے۔ اور یہ بھی ان کا کمال ہے کہ جب چاہیں قاری کی انگلی چھوڑ دیتے ہیں، اور پھر وہ اپنے ہی خیالات کے سمندر میں خود بخود ڈوبنے لگتا ہے۔

    پھر آپ بڑے اطمینان سے یہ بھی فرما سکتے ہیں کہ ناول کا سرورق نہایت حسین ہے، کتابت اغلاط سے پاک ہے، اور قیمت بھی مناسب رکھی گئی ہے۔ اور یہ کہ یہ ناول ہر گھر میں ہونا چاہیے۔۔۔ چاہے اس گھر میں روٹی ہو یا نہ ہو، پانی ہو یا نہ ہو۔ روٹی پانی تو کسی نہ کسی لنگر سے مل ہی جاتا ہے، مگر ایسا ناول ہر جگہ نہیں ملتا۔ پھر ذرا اعتماد کے ساتھ یہ جملہ بھی شامل کر دیجیے کہ مسٹر گھسیٹا نہایت ذی ہوش اور حساس قصہ گو ہیں۔ بظاہر پیچیدگی کے باوجود ان کے بیانیے کی خوبی یہ ہے کہ قاری قصہ گو سے دور نہیں ہوتا۔۔۔ بلکہ مزید قریب آ جاتا ہے، خواہ اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ قریب کیوں آ رہا ہے۔

    گھسیٹا صاحب کی ایک اور بڑی صفت ان کے موضوعات کا تنوع ہے۔ اس میں کوئی تامل نہیں کہ وہ ایسے موضوعات اور مسائل کو افسانوی قالب میں ڈھال دیتے ہیں جنہیں دوسرے ادیب صرف دیکھ کر آگے گزر جاتے ہیں۔ زیرِ بحث ناول اس کی بہترین مثال ہے، کیونکہ اس میں بیانیے کی تشکیل کے لیے جو جتن کیے گئے ہیں وہ بظاہر ایک مشکل عمل تھا۔۔۔ مگر بیان کرتے وقت وہ اتنا آسان معلوم ہوتا ہے کہ مشکل کا احساس بھی باقی نہیں رہتا۔

    مسٹر گھسیٹا نے اس ناول میں ایسا مخصوص اسلوب اختیار کیا ہے کہ مصنف کی شخصیت کہیں بھی ”دخل انداز“ محسوس نہیں ہوتی۔۔۔ حالانکہ ہر جگہ موجود رہتی ہے۔ یہ مسودہ ابتدا میں بظاہر آپ بیتی، روزمرہ یا کسی غیر مرتب روداد کی شکل میں تھا، مگر مصنف نے عام ڈگر سے ہٹ کر متعدد راویوں کی تشکیل، کردار نگاری میں شعوری پیچیدگی، اور براہِ راست بیان میں بالواسطہ پن پیدا کر کے اسے ناول کی شکل دے دی ہے۔ قاری اس ادبی سراب سے اس وقت نکلتا ہے جب وہ آخری سطر ”ختم شد“ پڑھ کر اچانک ”عرضِ گھسیٹا“ پر غور کرتا ہے، اور یوں پورا منظر دوبارہ ترتیب دینے لگتا ہے۔ اس طرح قاری خود بھی کسی نہ کسی سطح پر گھسیٹا صاحب کے تخلیقی عمل میں شریک ہو جاتا ہے۔۔۔ چاہے غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔

    آخر میں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس ناول کو پہلی سے پانچویں جماعت کے طلبہ کے لیے لازمی قرار دیا جانا چاہیے تاکہ گھسیٹا صاحب کا اسلوب ان کی نس نس میں سرایت کر جائے، اور آنے والی نسلیں بھی ”سمندر کا آٹھواں کنارہ“ جیسے شاہکار آسانی سے تخلیق کر سکیں۔۔۔ یا کم از کم اس کی تعریف کرنا سیکھ جائیں۔ جیسے ہی آپ کی یہ ”بکواس“ (ادبی اصطلاح میں اسے تبصرہ کہا جاتا ہے۔) ختم ہوتی ہے، ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے، اور بقول یوسفی صاحب، ناول نگار خود حیران رہ جاتا ہے کہ اس میں اتنی خوبیاں آخر آئیں کہاں سے۔

    یہی مقالات آپ کسی بھی کتاب کی رونمائی میں سن سکتے ہیں، اور یہی تبصرے آپ کو اخبارات کے ادبی صفحات میں پڑھنے کو ملیں گے۔ ہمارے ہاں اکثر ادب تخلیق نہیں ہوتا، بلکہ اس پر ”رائے“ تخلیق کی جاتی ہے۔ شاید اسی لیے اردو ادب میں اچھا کام کم اور اس پر تعریف زیادہ نظر آتی ہے اور جب کتابیں پیسے دے کر چھپیں، مفت بانٹی جائیں، اور پھر بھی ”شاہکار“ قرار پائیں۔۔۔ تو پھر مسٹر گھسیٹا جیسے کردار ہی پیدا ہوں گے۔ میں نے بھی ایسے ہی مقالات پڑھ کر کئی ناولوں کو بیسویں صدی کے شاہکار سمجھ کر پڑھا۔۔۔ اور بعد میں انہیں دیوار سے زور زور سے پٹخ کر ردی والے کے حوالے کر دیا۔ کیا بدنصیبی ہے اردو ادب کی کہ اس کی ردی فی کلو انگریزی ردی سے کہیں کم قیمت پر فروخت ہوتی ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے