اُردو کو ناز جن پر: پروین شغف
”پروین شغف کی شاعری سے گزرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے شگفتہ تخیلات کو اداسی کا جامہ پہنا دیا گیا ہو۔ یہ ایک قوی نسوانی آواز ہے جس میں زندگی کے نشیب فراز، دکھ درد اور دوسرے بہت سے تجربات کو بڑی سنجیدگی سے پرو دیا گیا ہے۔ کہیں کہیں بہت سادہ سے انداز میں بہت گہرائی نظر آتی ہے اور کہیں کہیں قدرے مشکل پسندی کو شعار بنایا گیا ہے۔“ (شارق کیفی)
پروین شغف کی شاعری کو پڑھنے اور حتی الوسع اصلاح کرنے کے سفر میں مجھے اس خوش فکر شاعرہ کے کلام میں جن عناصر نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے، وہ ان کی سادگی، کرب کے مختلف پہلو، زندگی کے بیشتر تلخ و شیریں تجربات ہیں۔ انتہائی سادگی کے ساتھ محبت اور درد کے جذبات کو بیان کرنے کی صلاحیت قابل ستائش ہے۔۔۔ ایک طرف عزم اور استحکام کے جذبات کو پرویا گیا ہے تو دوسری طرف عشق میں خود سپردگی کا انداز اپنایا گیا ہے۔ مگر من جملہ یہ کہ پروین شغف کی شاعری میں نہ وقار کا دامن چھوٹتا نظر آتا ہے نہ سنجیدگی کا۔ محبت کے عناصر بہرحال اجزائے پیش بہا کی صورت رکھتے ہیں جن سے شاعرہ ہمہ وقت نبرد آزما نظر آتی ہے۔ وہ کبھی اپنے محبوب سے شکوہ کرتی ہے، کبھی التماس کرتی ہے اور کبھی اظہارِ بے نیازی کرتی نظر آتی ہے۔ مگر ہر رنگ میں نہ تو شعر کا حسن مجروح ہوتا ہے اور نہ اس کا ذاتی وقار۔ اس خوبی کو برتنا اور توازن کے ساتھ برتنا مشکل کام ہے۔“
(سہیل آزاد)
سوانحی خاکہ
اصل نام شگفتہ پروین، قلمی نام پروین شغف۔یوم ولادت 14 مئی 1980، صوبہ بہار کے نالندہ ضلع کے ایک قصبہ بہار شریف میں ولادت ہوئی۔
والد محمد ابرار عالم پیشے سے انجینیئر اور بزنس مین تھے وہ کلکتہ میں رہتے تھے سو پرورش کلکتہ میں ہوئی۔ والد کی تربیت کا گہرا اثر پڑا۔انہوں نے ایک بیٹے کی طرح انھیں پالا اور سماج سے لڑنے کے قابل بنایا۔ اپنی خود نوشت میں پروین شغف لکھتی ہیں کہ، ”میرے والد صاحب نے میری تعلیم میں کسی طرح کی کمی نہیں کی لیکن انہوں نے وعدہ بھی لیا کہ میں تمہیں اس لیے پڑھا رہا ہوں کہ اس سے تمہیں نوکری یا پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں بنانا ہے بلکہ اس لیے پڑھا رہا ہوں تاکہ تم آئندہ کی نسلوں کو تعلیم یافتہ کرو۔ والدہ شاہدہ خاتون ایک مشفق ماں کی طرح ہمیشہ دستیاب رہتی تھیں۔اب دونوں اس عالم فانی سے کوچ کر چکے ہیں۔
اپ کا وطن کل کا کلکتہ اور آج کا کولکاتا ہے۔ فی الحال گزشتہ ربع صدی سے دہلی میں مقیم ہیں۔ تعلیم کلکتہ میں ہوئی جہاں سے اپ نے اردو میں بی اے کیا۔مزید پڑھائی کا موقع نہیں ملا لیکن اب جب کہ کچھ فرصت ملی ہے، اپنی صلاحیتوں کو اجالنے کے لئے پھر سے آگے کی پڑھائی وہ بھی اس عمر میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
2001 میں ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا اور اس سال یعنی 2026 میں ماشاء اللہ سلور جوبلی کا موقعِ بیش بہا بھی پیش آیا۔ آپ کے شوہر کا نام عتیق الرحمان اوگانوی ہے جو خود انتہائی ادبی ذوق رکھتے ہیں اور انگریزی زبان میں متعدد کتابوں کے مصنف ایڈیٹر اور مترجم ہیں۔دو لختِ جگر ہیں مبشر رحمٰن اور صارم رحمٰن۔
پروین شغف کا قلم صرف میدان شاعری میں ہی گل بوٹے نہیں کھلاتا بلکہ نثر میں بھی قابل قدر کام کیا ہے۔ پہلا شعری مجموعہ 2024 میں ”زنداں“ عنوان سے شائع ہوا، جسے اہلِ نظر کی توجہ حاصل ہوئی۔ مختلف سوشل سائٹس پر آپ کافی متحرک رہتی ہیں اور اپنی نگارشات سے محظوظ فرماتی ہیں۔ نیز قومی اور بین الاقوامی مشاعروں میں اپنی پرباوقار موجودگی اور شاندار شاعری سے سامعین کو مسرور و مسحور کرتی ہیں۔
نثری کاوشات میں افسانچے بھی لکھے ہیں اور بہت سے افسانے بھی۔ ان کے علاوہ متعدد شخصیات پر مضامین تواتر سے ملک کے موقر رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپ نے تالیف کا فرض بھی نبھایا ہے۔ اسعد بدایونی کے کلام کا مجموعہ ”تجھ سے بچھڑ کے“ ترتیب دی ہے جو دیوناگری رسم الخط میں ہے۔ یہ مجموعہ کلام 2025 میں شائع ہوا۔اس کے علاوہ اسعد بدایونی کی حیات و خدمات و تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب ”غمزدہ اور بھی ہیں شہر میں“ زیرِ اشاعت ہے۔ جلد ہی زیور طباعت سے آراستہ ہو کر ہم تک پہنچے گی۔
پروین شغف کے کلام کو متعدد معروف گلوکاروں نے اپنی آواز بھی دی ہے جن کو یوٹیوب اور دیگر سائٹس پر دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ کا آڈیو البم ”تمام رات مسلسل ایاغ چلتا رہا“ کو بھی سنا جا سکتا ہے۔ آکاش وانی اور ٹیلی ویژن کے کئی پروگراموں میں آپ نے شرکت کی ہے مثلًا دہلی دوردرشن کا پروگرام ”کوئی حاضر ہے“ اور اردو اکیڈمی دہلی کا پروگرام ”نئے پرانے چراغ“ میں آپ نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ مختلف ادبی نشستیں، سیمینار وغیرہ وغیرہ میں اپنے مقالوں، اپنی تقاریر سے ایک سنجیدہ ادیب ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ ادبی کاوشات کا اعتراف ادیب کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہوتا ہے اس ضمن میں انھیں بہت سے تحائف ملے ہیں مثلًا عالمی ادبیات اردو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ برطانیہ 2023 اور انڈیا پوئٹس کانفرنس قطر 2023 ایوارڈز، شانِ ادب سمان، بھارتی سمان اور دیگر متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات۔ اس کے علاوہ سماجی اور ادبی کاموں میں بے پناہ دلچسپی لیتی ہیں۔ سولٹیئر لٹریچر فاؤنڈیشن جو ایک ادبی تنظیم ہے اس کی صدر ہیں۔ سہ ماہی ڈیجیٹل رسالہ ”موجِ خیال“ کی مجلس مشاورت میں شامل ہیں۔
پروین شغف کی ادبی کاوشات کا سلسلہ انہی حالاتِ ناگفتہ بہ سے گزرا جیسا کہ عموماً کسی بھی خاتون ادیبہ کے ساتھ گزرتا ہے یعنی لکھنا پڑھنا، محفلوں میں آنا جانا گھر والوں کے طعنوں کا نشانہ بنتا رہا۔ حالانکہ شوہر نامدار خود انگریزی زبان کے لکھاری ہیں پھر بھی پروین شغف کی کوششوں کو حوصلہ افزائی نہیں ملی شاید انگریزی داں ہونے کی وجہ سے زعم میں مبتلا رہے ہوں۔ گویا پریوار نے بہت سازگار ماحول فراہم نہیں کیا، نہ آگے کی تعلیم کے بارے میں ہمت افزائی کی گئی۔ اپنی خود نوشت میں لکھتی ہیں،
”چونکہ شادی کے بعد مجھے ایک غیر اخلاقی پریوار ملا، تعلیمی معیار بھی صفر رہا۔ خاندان (کے لوگ) ہم مزاج نہیں تھے تو زندگی کا سفر بیشتر تنہا اور مشکل کن رہا۔ بچوں کی تعلیم اور پرورش میں 22 سال کیسے گزر گئے معلوم ہی نہیں پڑا۔ بچوں کی اپنی (اپنی) مصروفیات جب ہوئیں تو مجھ میں پھر سے خالی پن کا احساس ہونے لگا اور ایک بار پھر میں نے اپنے قلم کو سنبھالا۔ اس بار قلم خود کے لیے اٹھایا اور ایک بار پھر سے ”زندان“ کا دروازہ کھولنے کی کوشش میں لگی ہوں۔“
پہلا شعری مجموعہ جس کا عنوان ”زندان“ ہے یہ صرف ایک معنی خیز لفظ ہی نہیں ہے بلکہ پروین شغف کے حصارِ زندگی کا منظر نامہ ہے۔ لکھتی ہیں،
”زندان“ کیا ہے یہ کسی سے پوچھیں تو وہ کہے گا ایک ایسی چار دیواری جہاں کسی بھی ملک کے قوانین یا دستور کے مطابق گنہگاروں کو ان کے جرم کی پاداش میں پابندِ سلاسل کیا جاتا ہے۔۔۔ لیکن کیا اپ جانتے ہیں کہ زندان کا مفہوم کچھ اور بھی ہوتا ہے۔ ایک ایسا تہ خانہ جسے ہم اپنی ذات کے اندر خود تعمیر کرتے ہیں، اپنی خوشیاں، آنسو، درد و الم، ضرورتیں، قربانیاں، نو عمر شوخ جوانی۔۔۔ ایک لمبی زندگی بسر کر دیتے ہیں اس قید خانے میں ! خود کو خود میں ہی قید کر لیتے ہیں۔ جانتے ہیں کیوں؟ یہ ہمارا خوفِ خدا نہیں ہوتا۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا تو رحیم ہے،غفور ہے، اپنانے اور بخشنے والا ہے۔ ہمیں خوف ہوتا ہے ہمارے اپنوں سے، پیاروں سے، جو ہماری ایک خطا پہ، کسی غفلت پر نہیں بخشتے۔ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ ہمارا وہ عزیز از جان ہمیں چھوڑ جائے گا جس سے ہم بے حد محبت کرتے ہیں۔ اسے کھو دینے کا خوف۔۔۔ اس کے بغیر زندہ رہنے کا تصور، ہمیں اس زندان سے رہا ہونے نہیں دیتا۔
ہر دن رسوائی کا طوق گلے میں سجانے کے باوجود ہم اپنی زنجیروں کو توڑنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں اس قید سے رہائی کی کوشش ہمیں سماج کے ٹھیکیداروں کی نظر میں مجرم نہ بنا دے، ہمارا فیصلہ سماج میں رسوا کر دے۔۔۔ اور اسی خوف کی زد میں زندگی گھسیٹتے ہوئے جب ہم اپنی ساری لطافت اپنے پیاروں پر دونوں ہاتھوں سے لٹا رہے ہوتے ہیں اور ہمارے یہی عزیز ہماری عزت نفس اور محبت کی دولت لوٹ کر خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں ہم خود کو اس خوش گمانی میں مبتلا رکھتے ہیں کہ ان کے دستِ مبارک ہماری پشت پر ہے وہ ہمیشہ ہماری پشت پناہی اور پذیرائی کریں گے لیکن جب ہوش آتا ہے تو زندگی ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل چکی ہوتی ہے۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے پاس ایک ہی زندگی تھی جسے ہم نے نااہلوں پر برباد کر دی!“
زندگی بھر ان نام نہاد اپنوں کی ستم ظریفیوں کے یاد کرتے ہوئے پروین شغف اور زیادہ مغموم اور رنجور نظر آتی ہیں اور دل خراش انداز میں لکھتی ہیں،
”ان کی خواہش اور منصوبے کے مطابق آپ اپنے ہی بنائے ہوئے زندان میں عمر قید کاٹ رہے ہوتے ہیں اور آپ کے وہ اپنے منتظر ہوتے ہیں کہ آپ کی روح جسم کی قید سے آزاد ہو اور وہ اس بے جان جسم کو دو گز مٹی کی زمین میں داب کر اپنے آنسوؤں کو چار قیمتی قطروں سے سینچ کر جہاں میں سرخرو ہو جائیں۔ یہی دو گز زمین اور چار قطرے گھڑیالی آنسو ہیں جو آپ نے زندگی کے تمام انمول لمحوں کی خوشیاں گنوا کر کمائی ہیں۔“
اپنی شاعری کے مجموعے ”زندان“ کے منصۂ شہود پر لانے کے بارے میں فرماتی ہیں،
”اپنی اس مختصر زندگی میں تلخ تجربات اور حوادث سے متاثر ہو کر یہ کتاب زندان لکھنے کا حوصلہ کر پائی ہوں۔ کسی بھی حسّاس انسان کے لیے اس کے گرد و پیش ہونے والے کرب، درد و الم، اپنوں کے فریب و ستم، سماج و معاشرے کی جہالت،سڑی گلی روایات اور تنگ نظری انسان کو بالخصوص خواتین کی زندگی کو جس طرح متاثر کرتی ہیں اور اس پر کسی طرح نفسیاتی دباؤ ڈالتی ہیں اس کی میں جیتی جاگتی مثال ہوں۔۔۔ میں نے اپنی کتاب زندان میں ہر وہ احساس پرونے کی کوشش کی ہے جس سے ہماری زندگی متاثر ہوتی ہے اور ہم اپنے معاشرے میں کسی نہ کسی طرز پر اسے محسوس کرتے ہیں۔“
پروین شغف کے اپنے پریوار میں کوئی بھی ادبی شغف نہیں رکھتا تھا البتہ اپنے مرحوم دادا کے بارے میں سن رکھا تھا کہ وہ باقاعدہ شاعری کرتے تھے مگر کوئی بیاض دستیاب نہیں۔ ایک شاعرہ ہونا تو پریوار کے لئے تعجب خیز امر تھا مگر شادی کے بعد ماحول سازگار نہ ہونے کی وجہ سے مدتوں یہ صلاحیت روپوش رہی۔ اب جبکہ فرصت کا کچھ وقت دستیاب ہے تو انھوں نے شاعری شروع کی نیز اردو کی اعلٰی تعلیم بھی حاصل کررہی ہیں جو ان کے ایک سنجیدہ صاحبِ قلم ہونے کی دلیل ہے۔
انھوں نے یہ اعتراف کیا کہ شاعری کے سفر میں راقم الحروف کی دیوناگری میں لکھی کتاب ”آسان عروض“ کافی سودمند رہی اور ہمیشہ ریفرینس کے کام آتی ہے۔ اس سے ہی بحور اور اوزان سیکھنے کا موقع ملا۔
خیر ! ان کے اردو ادب و شعر کے اسی جنون کے مدّ نظر اردو ادب کی شان پروفیسر خالد محمود صاحب نے دعائیہ کلمات سے کچھ یوں نوازا ہے،
”مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے کہ پروین شغف ایک ایسی شخصیت ہیں جو بظاہر ایک معصوم بچی معلوم ہوتی ہیں، مگر حقیقت میں دو بڑے بیٹوں کی ماں ہیں۔۔۔ اور حیرت یہ ہے کہ اپنے بیٹوں کی چھوٹی بہن لگتی ہیں۔ گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود اردو ادب کی خدمت کے لیے ان کا جو جذبہ ہے، وہ نہایت قابلِ رشک اور باعثِ فخر ہے۔
پروین شغف جس خلوص، وقت، محنت اور اپنے ذاتی وسائل کے ساتھ اردو کی خدمت کر رہی ہیں، اسے دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ جب تک ایسے مخلص لوگ موجود ہیں، اردو زبان کبھی زوال پذیر نہیں ہو سکتی۔
مجھے اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ وہ ہر لمحہ اردو کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ گویا اردو ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ سیمینارز اور ایوارڈ تقریبات کا انعقاد ہو یا شخصیات کے انتخاب کا مرحلہ—ہر جگہ ان کی بصیرت اور سلیقہ نمایاں نظر آتا ہے، اور ان کے فیصلے واقعی قابلِ ستائش ہوتے ہیں۔
شغف! میں نہیں جانتا کہ اردو ادب تمہیں کیا کچھ دے گا، مگر مجھے یقین ہے کہ تم اردو ادب کو بہت کچھ دے سکتی ہو۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں صحت، طویل زندگی، حوصلہ اور ہمت عطا فرمائے۔ آمین!“
پروفیسر خالد محمود
(سابق صدر شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، سابق چئیرمین دہلی اردو اکادمی)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.