Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ashfaq Ahmad's Photo'

اشفاق احمد

1925 - 2004 | لاہور, پاکستان

ممتاز فکشن نویس — اپنی کہانی 'گڈریا' کے لیے مشہور

ممتاز فکشن نویس — اپنی کہانی 'گڈریا' کے لیے مشہور

اشفاق احمد کا تعارف

اصلی نام : اشفاق احمد

پیدائش : 22 Aug 1925 | مکتسر, پنجاب

وفات : 07 Sep 2004 | لاہور, پنجاب

رشتہ داروں : بانو قدسیہ (اہلیہ)

شناخت: ممتاز افسانہ نگار، ڈراما نویس، ناول نگار، براڈ کاسٹر اور مقبولِ عام ٹی وی شو 'زاویہ' کے میزبان

اشفاق احمد 22 اگست 1925ء کو برطانوی ہندوستان کے ضلع ہوشیارپور کے گاؤں خان پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک روایتی پٹھان گھرانے سے تھا۔ ابتدائی تعلیم فیروزپور میں حاصل کی، جہاں سے میٹرک، ایف اے اور بی اے مکمل کیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کرکے لاہور آگئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو میں ایم اے کیا۔ اسی دوران بانو قدسیہ ان کی ہم جماعت تھیں، جن سے بعد میں ان کی شادی ہوئی۔

اشفاق احمد نے اٹلی کی روم یونیورسٹی اور فرانس کی گری نوبل یونیورسٹی سے اطالوی اور فرانسیسی زبانوں میں ڈپلومے حاصل کیے، جبکہ نیویارک یونیورسٹی سے براڈ کاسٹنگ کی خصوصی تربیت بھی حاصل کی۔ تدریسی زندگی کا آغاز دیال سنگھ کالج لاہور سے کیا، بعد ازاں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہوئے۔ وطن واپسی پر انہوں نے ادبی رسالہ ’’داستان گو‘‘ جاری کیا اور ہفت روزہ ’’لیل و نہار‘‘ کی ادارت بھی کی۔ 1967ء میں وہ مرکزی اردو بورڈ (بعد میں اردو سائنس بورڈ) کے ڈائریکر مقرر ہوئے اور طویل عرصے تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔

اشفاق احمد کا شمار اردو کے اُن ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے افسانہ، ناول، ڈراما، ریڈیو، ٹیلی وژن اور کالم نگاری ہر میدان میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ 1953ء میں ان کا افسانہ ’’گڈریا‘‘ شائع ہوا، جس نے انہیں غیر معمولی شہرت دلائی۔ انہوں نے اردو نثر میں پنجابی لہجے، دیہی فضا اور شگفتہ مکالمے کو ایک نئی ادبی جہت عطا کی۔

ان کی نمایاں تصانیف میں ’’ایک محبت سو افسانے‘‘، ’’اجلے پھول‘‘، ’’توتا کہانی‘‘، ’’من چلے کا سودا‘‘، ’’سفر در سفر‘‘، ’’شہرِ آرزو‘‘، ’’گلدان‘‘، ’’بند گلی‘‘ اور ’’زاویہ‘‘ شامل ہیں۔ ان کا ٹی وی ڈراما سیریل ’’ایک محبت سو افسانے‘‘ پاکستان ٹیلی وژن کی کلاسیکی ڈراما سیریز میں شمار کیا جاتا ہے۔

1965ء میں انہوں نے ریڈیو پاکستان سے ’’تلقین شاہ‘‘ کے نام سے ہفتہ وار پروگرام شروع کیا، جو اپنی منفرد مزاحیہ اور علامتی اندازِ گفتگو کے باعث بے حد مقبول ہوا اور تین دہائیوں سے زائد عرصے تک نشر ہوتا رہا۔ بعد کے برسوں میں ’’زاویہ‘‘ کے نام سے ان کا فکری و روحانی پروگرام بھی بے حد مقبول ہوا، جس میں وہ قصوں، حکایتوں اور روزمرہ تجربات کے ذریعے زندگی، اخلاقیات، تصوف اور انسانی نفسیات پر گفتگو کرتے تھے۔

اشفاق احمد کی تحریروں میں انسان دوستی، روحانیت، مشرقی اقدار اور باطنی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے ڈراموں اور افسانوں میں مکالمے کو خاص اہمیت حاصل ہے، جبکہ ان کے کردار عام زندگی سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

وفات: اشفاق احمد کا انتقال 7 ستمبر 2004ء کو لاہور میں ہوا۔

Recitation

بولیے