Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Dinesh Kumar's Photo'

دنیش کمار

1977 | کیتھل, انڈیا

دنیش کمار کے اشعار

211
Favorite

باعتبار

شام کی چائے ان کے ساتھ پیوں

دل کی حسرت بہت پرانی ہے

دیکھو درخت کاٹنے سے پہلے ایک بار

ان سبز ٹہنیوں پہ کوئی گھونسلہ نہ ہو

مجھ کو سپھلتا بیٹھے بٹھائے نہیں ملی

میں نے گہر تلاشے ہیں دریا کھنگال کر

مراسم برف میں دبنے نہ پائیں

قریب آؤ دسمبر آ رہا ہے

کر کے تعریف وہ مری جھوٹی

زہر دھیما چٹا گیا ہے مجھے

ہاٹ پہ کیا بکتا تھا ہم کو کیا مطلب

اپنی جیب میں بس خوابوں کے سکے تھے

جڑا ہی رہتا ہے ممتا کی گربھنال سے وہ

وجود بیٹے کا ماں سے جدا نہیں ہوتا

دیکھو تو کام ایک بھی ہم نے کہاں کیا

پوچھو تو ایک پل کی بھی فرصت نہیں رہی

درد دل کی انتہا تھی ضبط ٹوٹا اور پھر

آنسوؤں کا رنگ میری شاعری میں آ گیا

ننھے لبوں نے ہنس کے جو پاپا کہا مجھے

دن بھر کی میری ساری تھکاوٹ اتر گئی

خود بہ خود چل کے سمندر ہی قریب آئے گا

ہو اگر پیاسے تو ہرگز نہ یہ سپنا دیکھو

جھوٹ بولا تو بچ گئی گردن

حق بیانی کا فائدہ کیا تھا

ملے گی آخری خانے میں موت ہی سب کو

بساط دہر پہ پیدل ہو یا ہو پھر وہ سوار

شاعری نام تصور میں چھلکتی مے کا

مر ہی جاتے جو نہ پینے کی اجازت ہوتی

اندھیرا شہر میں بے خوف رقص کرتا رہا

چراغ سارے ہواؤں کے اختیار میں تھے

میں تو مر کر بھی جیوں گا شان سے

میں نے غزلوں میں اتاری زندگی

دنیا میں مثل تاج نہایت حسیں تھا وہ

لیکن وفا کا رنگ اترنے سے پیشتر

جس کا نقش پا ہی میل کا پتھر ہے

کچھ تو خوبی ہوگی اس بنجارے میں

مرنے سے بھی گریز نہ مجھ جیسے رند کو

لیکن یہ ہو کہ مر کے مجھے مے کدہ ملے

مقرر کر رکھی ہے میں نے اپنے آنسوؤں کی حد

مرے دکھ درد کا پیکر مرا چہرہ نہیں ہوتا

اس کے مجمع کی کوئی سیما نہیں

آدمی درشک مداری زندگی

گیلی مٹی ہے شاید جڑ پکڑ بھی لیں

میں آنکھوں میں سپنے بونا چاہتا ہوں

Recitation

بولیے