اردو غزل میں سیاسی شعور کی اولیت: حسرت، فیض یا مجروح؟
ترقی پسند شعرا بالخصوص مجروح سلطان پوری اور فیض احمد فیض کو غزل میں سیاسی مضامین لانے کا بانی سمجھا جاتا ہے، لیکن تاریخی حقائق اس کا سہرا حسرت موہانی کے سر باندھتے ہیں۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں
چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ
مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے
آرزو تیری برقرار رہے
دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا
ترقی پسند شعرا بالخصوص مجروح سلطان پوری اور فیض احمد فیض کو غزل میں سیاسی مضامین لانے کا بانی سمجھا جاتا ہے، لیکن تاریخی حقائق اس کا سہرا حسرت موہانی کے سر باندھتے ہیں۔