Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mohammad Ali Asar's Photo'

محمد علی اثر

1949 - 2024 | حیدر آباد, انڈیا

محقق، نقاد اور دکنی ادب کے مدون

محقق، نقاد اور دکنی ادب کے مدون

محمد علی اثر کا تعارف

تخلص : 'اثر'

اصلی نام : محمد علی

پیدائش : 22 Dec 1949 | حیدر آباد, تلنگانہ

وفات : 24 Apr 2024 | حیدر آباد, تلنگانہ

رشتہ داروں : راحت سلطانہ (اہلیہ)

شناخت: ماہرِ دکنیات، محقق، نقاد اور دکنی ادب کے مدوّن

محمد علی اثر 22 دسمبر 1949ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ تعلیم حیدرآباد کے قدیم تعلیمی اداروں مدرسہ تحتانیہ شاہ گنج اور مدرسہ اردو شریف میں حاصل کی۔ 1965ء میں اردو شریف ہائی اسکول سے دسویں جماعت دوسری پوزیشن کے ساتھ پاس کی، پھر انوارالعلوم کالج سے بی اے مکمل کیا۔ 1974ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ بعد ازاں پروفیسر غلام عمر خاں کی نگرانی میں "دکنی غزل کی نشوونما" کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی۔

1975ء میں جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ اردو سے تدریسی وابستگی اختیار کی، 1982ء میں مستقل لکچرر، 1987ء میں ریڈر اور 1998ء میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ دسمبر 2009ء میں وظیفۂ حسنِ خدمت پر سبکدوش ہوئے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی میں تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دیں۔

پروفیسر محمد علی اثر کا شمار ماہرینِ دکنیات میں ہوتا ہے۔ وہ محقق، نقاد، شاعر، مخطوطہ شناس اور مدوّن کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ دکنی ادب کی تحقیق، تدوینِ متن، تنقید اور تفہیم کے میدان میں ان کی خدمات غیر معمولی ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔

ان کی اہم تصانیف میں غواصی: شخصیت اور فن، دکنی غزل کی نشوونما، دکنی شاعری: تحقیق و تنقید، دکن کی تین مثنویاں، کلیاتِ ایمان، دیوان عبداللہ قطب شاہ، قدیم اردو غزل، قطب شاہی دور میں اردو غزل، دکنی ادب کی تحقیق، بصارت سے بصیرت تک اور اشراقِ ادبیاتِ دکن شامل ہیں۔ انہوں نے متعدد دکنی مخطوطات کی تدوین و ترتیب بھی کی اور تذکرۂ مخطوطات و کتب خانۂ سالار جنگ کے مخطوطاتی ذخیرے پر اہم علمی کام انجام دیا۔

وفات: 24 اپریل 2024ء کو حیدرآباد میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے