Mohammad Kazim's Photo'

محمد کاظم

1971 | دلی, ہندوستان

پیدائش :بہار

LCCN :no2001030527

ڈاکٹر محمد کاظم دہلی یونیورسٹی کے شعبئہ اردو میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ایم اے، ایم فل، ماس میڈیا اور پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ اپنی تعلیم کے زمانے میں ہی اردو اخبارات سے منسلک رہے اور کئی اخباروں کے لیے کالم لکھے۔ 1998 میں وزارت اطلاعات و نشریات ، حکومت ہند کی انفارمیشن سروس میںبذریعہ یوپی ایس سی ملازمت اختیار کی اور 2002تک وزارت کے شعبہ پبلی کیشنز ڈویزن سے شائع ہونے والے اردو کے باوقار رسالہ ماہنانہ ”آجکل“ کی ادارتی ٹیم کے رکن رہے۔ اس درمیان انھوں نے مدیر محبوب الرحمن فاروقی صاحب کے ساتھ مل کر ”آجکل کے ڈرامے، آجکل کے مضامین، آجکل کے افسانے، آجکل اور صحافت اور آجکل اور غبار کارواں “ جیسی اہم کتابیں ترتیب دیں۔2001 میں ان کی کتاب ”مشرقی ہند میں نکڑ ناٹک“ شائع ہوئی۔2002 میں ان کا تقرر شعبہ اردو ، دہلی یونیورسٹی میں بحیثیت لکچرر ہوا۔ان کا خاص میدان ڈراما اور اس کی تنقید ہے۔ان کی شائع شدہ کتابوں میں ”ہندوستانی نکڑناٹک اور اس کی سماجی معنویت، بنگال میں اردو نکڑ ناٹک، داستان گوئی (اردو اور ہندی) ، مجتبیٰ حسین: فن اور شخصیت، یوگ راج کی کہانیاں،نصر غزالی: فن اور شخصیت، اشاریہ ماہنامہ سائنس اردو ، ہنرک ابسن کے تین ڈرامے اہم ہیں۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے شائع ہونے والی تیس سے زیادہ کتابوں میں ان کے مضامین شامل ہیں۔ پچاس سے زیادہ مضامین ہندوستان و پاکستان کے مختلف مقامات سے نکلنے والے رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ساٹھ سے زیادہ نیشنل اور انٹرنیشنل کانفرنسوں میں شرکت کرچکے ہیں۔ حکومت ماریشش کی اردو اسپیکنگ یونین کی خصوصی دعوت پر ماریشش میں اردو ڈرامے کے فروع کے لیے دس دن کا ورک شاپ کیا جس میں اسکرپٹ رائٹنگ اور اداکاری کے فن کی باریکیوں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ اس کی مشق بھی کرائی۔ ان کی ہدات میں تیار کئے گئے ڈرامے ملک کے مختلف فیسٹیول بشمول دہلی اردو اکادمی اور ساہتیہ کلا پریشد میں ایک سے زائد بار شریک ہو چکے ہیں۔ماریشش، مصر اور ازبکستان کا علمی و ادبی سفر کر چکے ہیں۔ ان کی تحقیقی ، تنقیدی اور تھیئٹر کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے دہلی اردو اکادمی، مغربی بنگال اردو اکیڈمی، راجستھان اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی نے انعام و اکرام سے نوازا ہے۔ ڈراما اور تھیئٹر کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ نے انھیں 2017 کا ہم سب غالب ایوارڈ برائے ڈراما پیش کیا۔

موضوعات