تمام
تعارف
غزل95
نظم59
شعر114
ای-کتاب21
ٹاپ ٢٠ شاعری 20
تصویری شاعری 22
آڈیو 43
ویڈیو 77
گیلری 1
بلاگ2
دوہا1
شاعری کے تراجم4
منیر نیازی
غزل 95
نظم 59
اشعار 114
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ
اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دوہا 1
شاعری کے تراجم 4
کتاب 21
تصویری شاعری 22
آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی کھل گئے شہر_غم کے دروازے اک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی کون تھا تو کہ پھر نہ دیکھا تجھے مٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے ماہ_شب_تاب کے نکلتے ہی تو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے عکس_دیوار کے بدلتے ہی خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں چڑھ گیا زہر گل مسلتے ہی
بے_خیالی میں یوں_ہی بس اک ارادہ کر لیا اپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیا جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا غیر سے نفرت جو پا لی خرچ خود پر ہو گئی جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا شام کے رنگوں میں رکھ کر صاف پانی کا گلاس آب_سادہ کو حریف_رنگ_بادہ کر لیا ہجرتوں کا خوف تھا یا پر_کشش کہنہ مقام کیا تھا جس کو ہم نے خود دیوار_جادہ کر لیا ایک ایسا شخص بنتا جا رہا ہوں میں منیرؔ جس نے خود پر بند حسن و جام و بادہ کر لیا