پریم چند کے مضامین
مختصر افسانہ کا فن!
ایک ناقد کا کہنا ہے کہ تواریخ میں سب کچھ واقعہ ہوتے ہوئے بھی حقیقت نہیں ہوتا اور افسانوی ادب میں سب کچھ تمثیلی ہوتے ہوئے حقیقت ہوتا ہے۔ اس مقولے کا مدعا اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ تواریخ میں شروع سے آخر تک جبر و تشدد اور مکر و فریب کا ہی مظاہرہ
ادب کی غرض و غایت
حضرات! یہ جلسہ ہماری ادب کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے، ہماری سمیلنوں اور انجمنوں میں اب تک عام طور پر زبان اور اس کی اشاعت سے بحث کی جاتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ اردو اور ہندی کا جو لٹریچر موجود ہے، اس کا منشا خیالات اور جذبات پر اثر ڈالنا نہیں بلکہ محض
گالیاں
ہر قوم کا طرز کلام اس کی اخلاقی حالت کا پتہ دیتا ہے۔ اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہندوستان روئے زمین کی تمام قوموں میں سب سے نیچے نظر آئے گا۔ طرز کلام کی متانت اور شستگی، قومی عظمت اور اخلاقی پاکیزگی ظاہر کرتی ہے۔ اور بدزبانی اخلاقی سیاہی اور قومی پستی
کلام اکبر پر ایک نظر
ولیؔ اور میرؔ سے لے کر امیرؔ و داغؔ تک اردو زبان نے جو رنگ بدلے ہیں وہ ایشیائی شاعر کے ماہرین سے مخفی نہیں ہیں۔ بیشک تخیلات شاعری میں بجز غالبؔ کے کوئی جدید روش نہیں اختیار کی گئی۔ تاہم محاورات، بندش، اور اسلوب بیان میں مختلف شعرا میں نمایاں فرق پایا
ناول کا فن
ناول کی تعریف نقادوں نے کئی طرح سے کی ہے لیکن یہ قاعدہ ہے کہ جو چیز جتنی آسان ہوتی ہے اس کی تعریف اتنی ہی مشکل ہوتی ہے۔ شاعری کی تعریف آج تک نہ ہوسکی، جتنے نقاد ہیں اتنی ہی تعریفیں ہیں۔ کسی دو نقادوں کی رائیں اک دوسرے سے نہیں ملتیں۔ ناول کے بارے
مختصر افسانہ
افسانہ حکایت یا مختصر کہانی لکھنے کی روایت قدیم زمانہ سے چلی آتی ہے۔ مذہبی کتابوں میں جو تمثیلی حکایتیں بھری پڑی ہیں وہ مختصر کہانیاںہی ہیں لیکن کتنے اعلیٰ پایہ کی۔ مہابھارت، اپنیشد بدھ جاتک، بائبل سبھی مقدس کتابوں میں عوامی تعلیم کا یہی وسیلہ مفید
اردو، ہندی، ہندوستانی (۱)
یہ سبھی مانتے ہیں کہ قومی استحکام کے لئے معاشرتی اتحاد لازمی ہے اور کسی قوم کی زبان اور رسم الخط اس معاشرتی اتحاد کا ایک خاص جزو ہے، محترمہ خالدہ ادیب خانم نے اپنی ایک تقریر میں ترکی قوم کے اتحاد کو ترکی زبان سے منسوب کیا ہے اور یہ ایک امر مسلمہ ہے کہ
پریم چند کی شخصیت
بات ہے ۱۹۰۹ء یا ۱۹۱۰ء کی یا اس سے پہلے کی بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت ہندوستان بھر میں اردو کے شاید تین چار ماہانہ رسالے شائع ہوتے تھے۔ اب تو شاید سوسے زیادہ رسائل شائع ہوتے ہیں۔ ان دنوں کانپور سے شائع ہونے والا رسالہ ’’زمانہ‘‘ سب سے اچھا اردو رسالہ سمجھا
پریم چند دور حاضر کے افسانہ نگار کی نظر سے
تخلیقی فن کار کی شخصیت اتنی الجھی ہوئی اور پیچیدہ ہوتی ہے کہ کسی ایک زمانے میں اس کی تخلیقات کو جو اس کی شخصیت کا عکس ہوتی ہیں، پوری طرح سمجھ لینا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر سادہ اسلوب اختیار کرنے والے پریم چند کی تصنیفات کی بہت سی گھتیاں ہمارے ناقدین
ناول کا موضوع
ناول کا میدان اپنے موضوع کے اعتبار سے دوسرے فنون لطیفہ سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ والٹر بسنٹ نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار ان لفظوں میں کیا ہے، ’’ناول کے موضوع کی وسعت انسانی زندگی سے کسی طرح کم نہیں۔ ان کا تعلق اپنے کرداروں کے فکر و عمل، ان کی انسانیت
پریم چند کی ترقی پسندی
ترقی پسند ادیب اور نقاد پریم چند کو اپنی صف میں شمار کرتے رہے ہیں لیکن بعض حلقوں سے اکثر یہ آواز بلند ہوتی سنائی دی ہے کہ اگر ترقی پسندی وہی چیز ہے جس کی بنیاد تاریخ کے مادی تصور پر ہے تو پریم چند ترقی پسند نہیں ہو سکتے۔ معترضین کا مقصد یہ ہے کہ سیاسی
پریم چند کی فکری اور تخلیقی روایت
اردو افسانے نے اپنی عمرکے سو برس پورے کر لیے ہیں۔ پریم چند کے جنم (۱۸۸۰ء) پر ایک سو پچیس برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو پریم چند اور افسانے کی روایت کا سفر تقریبا ًساتھ ساتھ جاری ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے سائے میں سانس لیتے ہیں اور ایک
جامی کی مثنوی زلیخا
فارسی دنیائے حسن و عشق میں زلیخا کو جو شہرت عام حاصل ہے، وہ محتاج بیان نہیں۔ اس کی زندگی حسن و عشق کی ایک بے نظیر اور دلآویز داستان ہے۔ ایک افسر تاج و تخت کے محل میں پیدا ہوئی۔ ناز و نعمت میں پرورش پائی۔ اور بہار عمر آتے ہی قید عشق میں مبتلا ہوگئی۔
فن تصویر
شاعری کی طرح مصوری بھی انسان کے نازک احساسات کا نتیجہ ہے۔ جو کام شاعر کرتا ہے وہی مصور کرتا ہے۔ شاعر زبان سے، مصور پنسل یا قلم سے، سچی شاعری کی تعریف یہ ہے کہ تصویر کھینچ دے۔ علیٰ ہذا سچی تصویر کی صفت یہ ہے کہ اس میں شاعری کا مزہ آئے۔ شاعر کانوں کے
میں افسانہ کیوں کر لکھتا ہوں
میرے قصے اکثر کسی نہ کسی مشاہدہ یا تجربہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس میں ڈرامائی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر محض واقعہ کے اظہار کے لئے میں کہانیاں نہیں لکھتا۔ میں اس میں کسی فلسفیانہ یا جذباتی حقیقت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ جب تک اس قسم کی کوئی
قوت بیانیہ
اس میں شاید ہی کسی کو کلام ہوگا کہ ہماری قوت بیان میں اب وہ رنگینی اور رنگ آمیزی نہیں رہی جو پہلے تھی، یا جو فارسی زبان کی خصوصیت ہوگئی ہے۔ کسی فارسی کتاب کو اٹھا کر دیکھ لیجئے زور بیان کا جلوہ اول سے آخر تک نظر آئے گا۔ جہاں جنگ کا تذکرہ آیا ہے وہاں
ہندوستانی مصوری
ہندوستان کی قومی بیداری کا سب سے اہم اور مبارک نتیجہ وہ بینک اور کارخانے نہیں ہیں جو گزشتہ چند سالوں میں قائم ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں۔ نہ وہ تعلیم گاہیں جو ملک کے ہر ایک حصہ میں وجود پذیر ہوتی جاتی ہیں بلکہ وہ فخر جو ہمیں اپنے قدیم صنعت وحرفت اور علم