Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Waqar Azeem's Photo'

وقار عظیم

1910 - 1976 | لاہور, پاکستان

معروف ادیب، نقاد، محقق اور ماہر تعلیم

معروف ادیب، نقاد، محقق اور ماہر تعلیم

وقار عظیم کا تعارف

تخلص : 'وقار عظیم'

اصلی نام : سید وقار عظیم

پیدائش : 15 Aug 1910 | الہٰ آباد, اتر پردیش

وفات : 17 Nov 1976 | لاہور, پنجاب

شناخت: نقاد، ادیب، محقق

سید وقار عظیم اردو ادب کے ممتاز نقاد، محقق اور استاد تھے، جنہوں نے افسانہ، ناول اور داستان کے میدان میں بنیادی نوعیت کا کام کیا۔ آپ اردو تنقید میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں اور اپنے دور میں ادبی حلقوں میں خاصے مؤثر سمجھے جاتے تھے۔

سید وقار عظیم 1910ء میں الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ والد مقبول عظیم محکمہ پولیس میں ملازم تھے اور خود بھی شاعر تھے، "عرش" تخلص کرتے تھے۔ آپ کا خاندانی تعلق گنگوہ (یوپی) سے تھا، جبکہ ننھیال میرٹھ میں تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر ہی میں ہوئی، والدہ نے اردو، دینیات اور کچھ فارسی پڑھائی، جبکہ ایک پنڈت سے ہندی سیکھی جس میں آپ نے خاص مہارت حاصل کی۔

بعد ازاں اناؤ کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی اور یہیں سے مڈل پاس کیا۔ اسی زمانے میں مطالعے کا شوق پیدا ہوا اور ایک مقامی اخبار میں پہلا مضمون شائع ہوا۔ پھر گورنمنٹ جوبلی کالج میں داخلہ لیا اور افسانہ نگاری کا آغاز کیا۔ 1933ء میں لکھنو یونیورسٹی سے بی اے کیا اور بعد میں الہ آباد سے اردو میں ایم اے کی سند حاصل کی، جہاں سید اعجاز حسین جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ اسی دوران فراق گورکھپوری اور دیگر اساتذہ سے بھی علمی تعلق قائم ہوا۔

تعلیم کے بعد معاشی مشکلات کے باعث جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسکول میں تدریس شروع کی، پھر ڈاکٹر ذاکر حسین کی معاونت سے پولی ٹیکنک میں ملازمت اختیار کی۔ 1946ء میں رسالہ "آجکل" کے ایڈیٹر بنے، مگر تقسیمِ ہند کے بعد کراچی منتقل ہو گئے، جہاں "ماہ نو" کے مدیر رہے۔

1950ء میں اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی میں اردو کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ بعد میں ترقی کرتے ہوئے ریڈر، پروفیسر اور کالج کے پرنسپل بنے اور اسی عہدے سے سبکدوش ہوئے۔

سید وقار عظیم نے افسانہ، ناول اور داستان پر تنقیدی و تحقیقی کام کیا۔ ان کی نمایاں تصانیف میں:

ہمارے افسانے

افسانہ نگاری

داستان سے افسانے تک

ہماری داستانیں

شامل ہیں۔ ان کتابوں نے اپنے زمانے میں طلبہ اور ادبا کو بہت فائدہ پہنچایا۔ آپ نے ادبی اصناف کے اصول و مباحث کو ایک منظم اور سائنسی انداز میں پیش کیا اور اردو تنقید میں ایک مستقل مقام حاصل کیا۔ مالک رام کے مطابق، وقار عظیم حالی اور ترقی پسند نقادوں کے درمیان ایک "برزخ" کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ حالی سے متاثر تھے مگر ان کی اصلاحی مقصدیت سے دور رہے، اور ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہونے کے باوجود اس کے انتہاپسند نظریات سے اتفاق نہیں کیا۔

آپ نے علامہ اقبال پر بھی کام کیا اور "اقبال: شاعر اور فلسفی" کے نام سے کتاب لکھی۔ کچھ شاعری بھی کی، مگر اصل شہرت تنقید کے میدان میں حاصل ہوئی۔

وفات: 17 نومبر 1976ء کو لاہور میں وفات پائی۔

موضوعات

Recitation

بولیے