Yaqoob Yawar's Photo'

یعقوب یاور

1952 | بنارس, ہندوستان

پہاڑ جیسی عظمتوں کا داخلہ تھا شہر میں

کہ لوگ آگہی کا اشتہار لے کے چل دیے

شہر سخن عجیب ہو گیا ہے

ناقد یہاں ادیب ہو گیا ہے

لہو مہکا تو سارا شہر پاگل ہو گیا ہے

میں کس صف سے اٹھوں کس کے لیے خنجر نکالوں

تو لا مکاں میں رہے اور میں مکاں میں اسیر

یہ کیا کہ مجھ پہ اطاعت تری حرام ہوئی

آج بھی زخم ہی کھلتے ہیں سر شاخ نہال

نخل خواہش پہ وہی بے ثمری رہنا تھی

اگر وہ آج رات حد التفات توڑ دے

کبھی پھر اس سے پیار کا خیال بھی نہ آئے گا