- کتاب فہرست 182701
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1607
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4894
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اے۔ ڈوک۔ بارنٹ کا تعارف
تخلص : 'اے۔ ڈوک۔ بارنٹ'
اصلی نام : آرتھر ڈوک بارنیٹ
پیدائش : 08 Oct 1921
وفات : 17 Mar 1999 | واشنگٹن ڈی سی, کولمبیا
شناخت: چین کے امور کے ممتاز محقق اور امریکہ۔چین تعلقات کے مؤثر دانش ور
آرتھر ڈوک بارنیٹ (Arthur Doak Barnett) امریکہ کے ممتاز ماہرِ سیاسیات، صحافی، محقق اور چین کے امور کے بین الاقوامی شہرت یافتہ دانش ور تھے۔ انہوں نے چین کی داخلی سیاست، خارجہ پالیسی اور امریکہ۔چین تعلقات پر اپنی گہری تحقیق اور غیر جانب دار تجزیوں کے ذریعے جدید چینی مطالعات (China Studies) میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ ان اولین امریکی اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ایسے دور میں، جب امریکہ اور عوامی جمہوریۂ چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے، دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔
آرتھر ڈوک بارنیٹ 8 اکتوبر 1921 کو شنگھائی، چین میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والدین مسیحی مشنری خدمات انجام دے رہے تھے۔ بچپن چین میں گزرا، اسی لیے انہوں نے چینی زبان پر عبور حاصل کیا۔ 1942 میں ییل یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں امتیازی کامیابی کے ساتھ گریجویشن کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکی میرین کور میں خدمات انجام دیں، جس کے بعد دوبارہ ییل یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور مشرقِ بعید کی زبانوں کی خصوصی تربیت بھی حاصل کی۔
1947 میں وہ صحافی کی حیثیت سے دوبارہ چین گئے اور Chicago Daily News کے نمائندے کے طور پر چینی خانہ جنگی کے اہم واقعات کی رپورٹنگ کی۔ انہوں نے چین کے مختلف علاقوں کا سفر کیا، عوامی زندگی کا قریب سے مشاہدہ کیا اور ماؤ زے تنگ کی قیادت میں عوامی جمہوریۂ چین کے قیام کے ابتدائی مراحل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بعد ازاں ہانگ کانگ میں امریکی قونصل خانے، Ford Foundation اور دیگر اداروں سے وابستہ رہتے ہوئے چین سے متعلق تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی کی۔
1961 میں بارنیٹ کولمبیا یونیورسٹی میں شعبۂ حکومت (Government) کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں Brookings Institution اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے School of Advanced International Studies (SAIS) میں George and Sadie Hyman Professor of Chinese Studies کی حیثیت سے تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے متعدد علمی اداروں کے ساتھ مل کر National Committee on United States–China Relations کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان علمی اور ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے ایک اہم ادارہ ثابت ہوا۔
بارنیٹ نے بیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں اور متعدد علمی کتابوں کی ادارت بھی کی۔ ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیت تاریخی حقائق، عینی مشاہدے، سادہ اسلوب اور غیر جانب دار تجزیہ ہے۔ چین کی سیاست، کمیونسٹ انقلاب، ایشیائی سفارت کاری اور امریکہ۔چین تعلقات پر ان کی تحقیقات آج بھی معتبر مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں National Committee on U.S.–China Relations نے ان کی یاد میں A. Doak Barnett Essay Contest کا آغاز کیا، جس کا مقصد امریکہ اور چین کے نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
وفات: 17 مارچ 1999 کو واشنگٹن، ڈی سی میں ان کا انتقال ہوامددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/A._Doak_Barnett
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
