- کتاب فہرست 181123
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1383 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1705 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6596افسانہ2679 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1261
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عبد الحق کے ذریعے کیے گئے تراجم
نجات کا راستہ
جارج ورگیج ککانادان
میں ایک راستہ ڈھونڈ رہا ہوں۔ نجات کا راستہ! چلتے چلتے بہت دیر ہو گئی۔ میں تھک گیا ہوں، سارا جسم دردسے چور ہے۔ پاؤں دکھ رہے ہیں۔ ہاتھ کیلے کے ریشہ کی مانند کمزور ہو گئے ہیں، گوشت اور مغز خشک ہو گئے ہیں، ہڈیاں اتنی پتلی اور سوکھی ہو گئی ہیں کہ وہ کسی
صبح سے صبح تک
ایم مکندن
اس کو اسٹیشن پر اتار کر ریل نے سیٹی دی اور’’چھک چھک چھک چھک‘‘ کے ساتھ شمال کی سمت چل دی۔ ریل تو آنکھوں سے اوجھل ہو گئی مگر اس کا پھینکا ہوا دھواں ابھی سامنے بکھرا ہوا تھا۔ کالا دھواں اپنی صورت بدلتا ہوا ا ٓسمان پر چھا گیا۔ دھواں دیکھ کر وہ خودبھی حیران
گزری یادیں
گزری یادوں کا آغاز ہوا۔ آغاز ہوا، یعنی ابھی شروع ہی ہوا۔ اس ایک لمحہ میں اس کی دو زندگیاں ختم ہوئیں۔ تیسری زندگی کا بھی آخری وقت آ پہنچا۔ بیچارے بندر نے ایک مندر کے سامنے برگد کے درخت کی شاخ پر بیٹھے بیٹھے سوچا۔ اس زندگی میں جو کچھ وہ حاصل
یشپورم لائبریری کی شکایت
عالی جناب! صدیوں پراناایک عظیم ادارہ ہے، یشپورم عوامی کتب خانہ۔ یہ ادارہ اب خستہ حالت میں ہے۔ موجودہ حالت اگرجاری رہی تواس کے تباہ ہونے میں زیادہ وقت نہ لگے گا۔ افسران اورعام لوگوں کی توجہ فوراً مبذول کرانے کے لیے میں یشپورم کتب خانہ کے بارے میں کچھ
فرشتہ موت
موت کے بارے میں مجھے سب سے پہلے کارتّونام کی ایک دائی نے ہی بتایاتھا۔ جھریاں پڑاہواچہرہ اورلٹکے ہوئے پستان والی کارتّودائی۔ بیس سال پہلے برسات کی بھیگی ہوئی ایک رات کومیں اپنی ماں سے لپٹاپڑاتھا۔ میرے چاروں طرف زچگی کی بوتھی۔ زچگی کی تکلیف سے بے
ہم شکل
جے نے اس تکلیف دہ سچائی کوسمجھ لیا تھا کہ اس کا ہی ہم شکل ایک دوسرا آدمی اس چھوٹے سے شہرمیں کہیں ہے۔ سائیکل والاکھڑی ڈھلان سے اترکرمشکل سے بریک پکڑے جے سے پوچھتا ہے، ’’تم ایم ہونہ؟ہماری ملاقات ہوئے کتنے دن ہوئے؟‘‘ سرخ آنکھیں، بڑی مونچھیں، چہرے پرچوٹ
فرد جرم کا جواب
میں کہ ستیہ روپ گزشتہ پندرہ سالوں سے آپ کے دفترمیں ایک چپراسی ہوں۔ میرا دل گواہ ہے کہ اس عرصے میں جوبھی کام دیاگیا، اسے میں نے پوری وفاداری اور لگن سے کیا۔ چالیس سال کی اس ملازمت میں میری جوبری حالت ہوئی ہے، اس کے لیے میں اپنی بدقسمتی کوہی کوستا ہوں،
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
