- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عبد الماجد دریابادی کے مضامین
پیام اکبر یعنی حضرت اکبر الہ آبادی کی کلیات سوم پر ایک نظر
لسان العصرحضرت اکبر مغفور زمانہ حال کے ان چندر بزرگوں میں تھے جن کا مثل و نظیر کہیں مدتوں میں جا کر پیدا ہوتا ہے۔ ان کی ذات ایک طرف شوخی و زندہ دلی اور دوسری طرف حکمت و روحانیت کا ایک حیرت انگیز مجموعہ تھی یا یوں کہئے کہ ایک طرفہ معجون۔ آخر آخر
اردو کا واعظ شاعر
آج سے کوئی ۲۵ سال ادھر کی بات ہے۔ الہلال افق کلکتہ سے نیا نیا طلوع ہوا تھا اور ملک کی ساری فضا ابو الکلامی ادب و انشاء کے غلغلہ سے گونج رہی تھی، کہ ایک روز اس کے کسی مقالہ کے ذیل میں یہ شعر نظر سے گزرا، تعزیر جرم عشق ہے بے صرفہ محتسب بڑھتا ہے اور
غالب کا فلسفہ
(لکھنو ریڈیو اسٹیشن سے نشریہ، 16 فروری 42ء کو غالب کی برسی کے موقع پر) فلسفہ کے نام سے گھبرائیے نہیں۔ فلسفہ موٹے موٹے نامانوس لغات کا ثقیل، مغلق اصطلاحات کا نام نہیں۔ فلسفہ نام ہے خود شناسی کا۔ زینہ ہے خدا شناسی کا۔ ہم کون ہیں؟ کیا ہیں؟ ہمارے
مرزا رسوا کے قصے کچھ ادھر سے کچھ ادھرسے
مرنے کے دن قریب ہیں شاید کہ اے حیات تجھ سے طبیعت اپنی بہت سیر ہو گئی جس نے موت کو دعوت ان الفاظ میں ۳۱، ۳۲ سال قبل دی تھی، اس کی شمع حیات واقعتاً اکتوبر۱۹۳۱ء میں گل ہوکر رہی۔ موت کو جب آنا ہوتا ہے جب ہی آکر رہتی ہے۔ شاعر کی طبیعت ممکن ہے حیات
اردو کا ایک بدنام شاعر یا گنہگار شریف زادی
لکھنؤ ہے اور واجد علی شاہ ’’جان عالم‘‘ کا لکھنؤ۔ زمانہ یہی انیسویں صدی عیسوی کے وسط کا۔ آج سے کوئی ستر پچھتر سال قبل۔ ہر لب پر گل کا افسانہ، ہر زبان پر بلبل کا ترانہ، ہر سر میں عشق کا سودا، ہر سینہ میں جوش تمنا، ہر شام میلوں ٹھیلوں کا ہجوم، ہر رات
الفاظ کا جادو
اگر آپ کا تعلق اونچے طبقہ سے ہے تو کسی ’’سرا‘‘ میں ٹھہرنا آپ کے لیے باعث توہین، لیکن کسی ’’ہوٹل‘‘ میں قیام کرنا ذرا بھی باعث شرم نہیں، حالانکہ دونوں میں کیا فرق بجز اس کے ہے کہ ’’سرا‘‘ مشرقی ہے، ہندوستانی ہے، دیسی ہے اور ’’ہوٹل‘‘ مغربی ہے، انگریزی
غالب کا ایک فرنگی شاگرد آزاد فرانسیسی
پچھلے نمبر کے شذرات (معارف) میں اردو کے چند فرنگی شاعروں کا جو مختصر تذکرہ آ گیا تھا، ناظرین کرام نے اس سے دلچسپی کا اظہار کیا اور احباب کو یہ داستان خوشگوار اور پر لطف معلوم ہوئی۔ ان حضرات کی ضیافت ذوق کے لئے ایک فرنگی شاعر کا ذکر کسی قدر تفصیل
میری محسن کتابیں
(اس عنوان سے رسالہ الندوہ (لکھنؤ) میں ایک سلسلہ مضامین مختلف اصحاب کے قلم سے شائع ہو رہا ہے، ذیل کا مضمون مدیر صدق کے قلم سے اسی سلسلہ کی ایک قسط ہے) حکم ملا ہے ایک رند خراباتی کو، ایک گمنام اور بد نام، گوشہ نشین قصباتی کو کہ وہ بھی اہل
پریم چند
الف لیلہ اور داستان امیر حمزہ کے دور اقبال کا آفتاب جب غروب ہونے کو آیا اور بوستان خیال اور طلسم ہوشربا کے دفتر جب زمانے کے ہاتھوں داخل دفتر ہونے لگے تو ’’صاحب‘‘ کے قدموں کی برکت سے ایک نئی دنیا دلوں اور دماغوں کی خیالات اور جذبات کی سزمین ہند میں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
