- کتاب فہرست 180696
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1656 صحت108 تاریخ3344طنز و مزاح604 صحافت201 زبان و ادب1145
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4276 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6699افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
عبدالمغنی کا تعارف
تخلص : 'عبدالمغنی'
اصلی نام : ابو المبرد سید عبد المغنی
پیدائش : 04 Jan 1936 | اورنگ آباد, بہار
وفات : 05 Sep 2006 | پٹنہ, بہار
LCCN :n84007539
شناخت: ممتاز اردو نقاد، ماہرِ اقبالیات، استاد اور مشرقی افکار کے نمائندہ مفکر
پروفیسر عبد المغنی (پورا نام: ابو المبرد سید عبد المغنی) 4 جنوری 1936ء کو صوبہ بہار، ضلع اورنگ آباد کے ایک علمی سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی عبد الرؤف ندوی ایک جید عالمِ دین تھے۔ انہوں نے روایتی اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید انگریزی تعلیم میں بھی کمال حاصل کیا۔ انہوں نے مدرسہ شمس الہدیٰ سے 'فاضل' کیا اور بعد ازاں انگریزی میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ پٹنہ کالج میں انگریزی کے پروفیسر رہے اور انجمن ترقی اردو، بہار کے صدر کی حیثیت سے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
عبد المغنی بنیادی طور پر ایک مشرقی افکار کے نقاد ہیں جنہوں نے کلیم الدین احمد کے مغربی طرزِ فکر کے مقابلے میں اپنی منفرد راہ نکالی۔ ان کی نمایاں تصانیف میں نقطہ نظر، جادہ اعتدال، اقبال اور عالمی ادب، تنویر اقبال، اقبال کا نظریہ خودی، عظمت غالب، میر کا تغزل، فیض کی شاعری وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے ٹی ایس ایلیٹ کے تصورِ ثقافت پر تحقیقی مقالہ T.S. Eliot’s Concept of Culture لکھا، لیکن ان کا اصل میدان اقبالیات رہا۔ انہوں نے اقبال کو دنیا کا عظیم ترین شاعر ثابت کرنے کے لیے کلیم الدین احمد کے اعتراضات کا بھرپور جواب دیا اور 'اقبال اور عالمی ادب' جیسی ضخیم کتاب تصنیف کی۔
ان کی تنقید میں اسلامی تہذیب و ثقافت سے اٹوٹ وابستگی اور مشرقی مطالعات کا غلبہ نمایاں ہے۔ ان کو اکثر 'کلیم الدین احمد کی ضد' کہا جاتا ہے؛ جہاں کلیم الدین منطقی استدلال پر زور دیتے ہیں، وہاں عبد المغنی اپنی ذاتی رائے اور وجدانی نکات پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ ان کی رائے زنی میں اکثر 'غلو' اور 'اغراق' کا عنصر پایا جاتا ہے، جیسے قرۃ العین حیدر کو جیمز جوائس اور ورجینیا وولف سے برتر قرار دینا۔ اس کے باوجود، عربی، فارسی اور انگریزی ادبیات پر ان کی بیک وقت دسترس ان کے فن کو ایک وقار عطا کرتی ہے۔
وفات: 5 ستمبر 2006 کو پٹنہ میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%BA%D9%86%DB%8C_(%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1)
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n84007539
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
