- کتاب فہرست 180494
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ918 تعلیم344 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1586 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4752 تحقیق و تنقید6591افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب450 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عبدالمغنی کا تعارف
تخلص : 'عبدالمغنی'
اصلی نام : ابو المبرد سید عبد المغنی
پیدائش : 04 Jan 1936 | اورنگ آباد, بہار
وفات : 05 Sep 2006 | پٹنہ, بہار
LCCN :n84007539
شناخت: ممتاز اردو نقاد، ماہرِ اقبالیات، استاد اور مشرقی افکار کے نمائندہ مفکر
پروفیسر عبد المغنی (پورا نام: ابو المبرد سید عبد المغنی) 4 جنوری 1936ء کو صوبہ بہار، ضلع اورنگ آباد کے ایک علمی سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی عبد الرؤف ندوی ایک جید عالمِ دین تھے۔ انہوں نے روایتی اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید انگریزی تعلیم میں بھی کمال حاصل کیا۔ انہوں نے مدرسہ شمس الہدیٰ سے 'فاضل' کیا اور بعد ازاں انگریزی میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ پٹنہ کالج میں انگریزی کے پروفیسر رہے اور انجمن ترقی اردو، بہار کے صدر کی حیثیت سے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
عبد المغنی بنیادی طور پر ایک مشرقی افکار کے نقاد ہیں جنہوں نے کلیم الدین احمد کے مغربی طرزِ فکر کے مقابلے میں اپنی منفرد راہ نکالی۔ ان کی نمایاں تصانیف میں نقطہ نظر، جادہ اعتدال، اقبال اور عالمی ادب، تنویر اقبال، اقبال کا نظریہ خودی، عظمت غالب، میر کا تغزل، فیض کی شاعری وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے ٹی ایس ایلیٹ کے تصورِ ثقافت پر تحقیقی مقالہ T.S. Eliot’s Concept of Culture لکھا، لیکن ان کا اصل میدان اقبالیات رہا۔ انہوں نے اقبال کو دنیا کا عظیم ترین شاعر ثابت کرنے کے لیے کلیم الدین احمد کے اعتراضات کا بھرپور جواب دیا اور 'اقبال اور عالمی ادب' جیسی ضخیم کتاب تصنیف کی۔
ان کی تنقید میں اسلامی تہذیب و ثقافت سے اٹوٹ وابستگی اور مشرقی مطالعات کا غلبہ نمایاں ہے۔ ان کو اکثر 'کلیم الدین احمد کی ضد' کہا جاتا ہے؛ جہاں کلیم الدین منطقی استدلال پر زور دیتے ہیں، وہاں عبد المغنی اپنی ذاتی رائے اور وجدانی نکات پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ ان کی رائے زنی میں اکثر 'غلو' اور 'اغراق' کا عنصر پایا جاتا ہے، جیسے قرۃ العین حیدر کو جیمز جوائس اور ورجینیا وولف سے برتر قرار دینا۔ اس کے باوجود، عربی، فارسی اور انگریزی ادبیات پر ان کی بیک وقت دسترس ان کے فن کو ایک وقار عطا کرتی ہے۔
وفات: 5 ستمبر 2006 کو پٹنہ میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%BA%D9%86%DB%8C_(%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1)
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n84007539
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
