- کتاب فہرست 177542
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1581 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب977 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4730 تحقیق و تنقید6592افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4243خواتین کی تحریریں5837-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4842
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عبدالمغنی کا تعارف
تخلص : 'عبدالمغنی'
اصلی نام : ابو المبرد سید عبد المغنی
پیدائش : 04 Jan 1936 | اورنگ آباد, بہار
وفات : 05 Sep 2006 | پٹنہ, بہار
LCCN :n84007539
شناخت: ممتاز اردو نقاد، ماہرِ اقبالیات، استاد اور مشرقی افکار کے نمائندہ مفکر
پروفیسر عبد المغنی (پورا نام: ابو المبرد سید عبد المغنی) 4 جنوری 1936ء کو صوبہ بہار، ضلع اورنگ آباد کے ایک علمی سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی عبد الرؤف ندوی ایک جید عالمِ دین تھے۔ انہوں نے روایتی اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید انگریزی تعلیم میں بھی کمال حاصل کیا۔ انہوں نے مدرسہ شمس الہدیٰ سے 'فاضل' کیا اور بعد ازاں انگریزی میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ پٹنہ کالج میں انگریزی کے پروفیسر رہے اور انجمن ترقی اردو، بہار کے صدر کی حیثیت سے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
عبد المغنی بنیادی طور پر ایک مشرقی افکار کے نقاد ہیں جنہوں نے کلیم الدین احمد کے مغربی طرزِ فکر کے مقابلے میں اپنی منفرد راہ نکالی۔ ان کی نمایاں تصانیف میں نقطہ نظر، جادہ اعتدال، اقبال اور عالمی ادب، تنویر اقبال، اقبال کا نظریہ خودی، عظمت غالب، میر کا تغزل، فیض کی شاعری وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے ٹی ایس ایلیٹ کے تصورِ ثقافت پر تحقیقی مقالہ T.S. Eliot’s Concept of Culture لکھا، لیکن ان کا اصل میدان اقبالیات رہا۔ انہوں نے اقبال کو دنیا کا عظیم ترین شاعر ثابت کرنے کے لیے کلیم الدین احمد کے اعتراضات کا بھرپور جواب دیا اور 'اقبال اور عالمی ادب' جیسی ضخیم کتاب تصنیف کی۔
ان کی تنقید میں اسلامی تہذیب و ثقافت سے اٹوٹ وابستگی اور مشرقی مطالعات کا غلبہ نمایاں ہے۔ ان کو اکثر 'کلیم الدین احمد کی ضد' کہا جاتا ہے؛ جہاں کلیم الدین منطقی استدلال پر زور دیتے ہیں، وہاں عبد المغنی اپنی ذاتی رائے اور وجدانی نکات پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ ان کی رائے زنی میں اکثر 'غلو' اور 'اغراق' کا عنصر پایا جاتا ہے، جیسے قرۃ العین حیدر کو جیمز جوائس اور ورجینیا وولف سے برتر قرار دینا۔ اس کے باوجود، عربی، فارسی اور انگریزی ادبیات پر ان کی بیک وقت دسترس ان کے فن کو ایک وقار عطا کرتی ہے۔
وفات: 5 ستمبر 2006 کو پٹنہ میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%BA%D9%86%DB%8C_(%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1)
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n84007539
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
-
