Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Abdul Mughni's Photo'

عبدالمغنی

1936 - 2006 | پٹنہ, انڈیا

مشرقی طرز فکر کے نمائندہ نقاد اور ماہرِ اقبالیات

مشرقی طرز فکر کے نمائندہ نقاد اور ماہرِ اقبالیات

عبدالمغنی کا تعارف

تخلص : 'عبدالمغنی'

اصلی نام : ابو المبرد سید عبد المغنی

پیدائش : 04 Jan 1936 | اورنگ آباد, بہار

وفات : 05 Sep 2006 | پٹنہ, بہار

LCCN :n84007539

شناخت: ممتاز اردو نقاد، ماہرِ اقبالیات، استاد اور مشرقی افکار کے نمائندہ مفکر

پروفیسر عبد المغنی (پورا نام: ابو المبرد سید عبد المغنی) 4 جنوری 1936ء کو صوبہ بہار، ضلع اورنگ آباد کے ایک علمی سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی عبد الرؤف ندوی ایک جید عالمِ دین تھے۔ انہوں نے روایتی اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید انگریزی تعلیم میں بھی کمال حاصل کیا۔ انہوں نے مدرسہ شمس الہدیٰ سے 'فاضل' کیا اور بعد ازاں انگریزی میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ پٹنہ کالج میں انگریزی کے پروفیسر رہے اور انجمن ترقی اردو، بہار کے صدر کی حیثیت سے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

عبد المغنی بنیادی طور پر ایک مشرقی افکار کے نقاد ہیں جنہوں نے کلیم الدین احمد کے مغربی طرزِ فکر کے مقابلے میں اپنی منفرد راہ نکالی۔ ان کی نمایاں تصانیف میں نقطہ نظر، جادہ اعتدال، اقبال اور عالمی ادب، تنویر اقبال، اقبال کا نظریہ خودی، عظمت غالب، میر کا تغزل، فیض کی شاعری وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے ٹی ایس ایلیٹ کے تصورِ ثقافت پر تحقیقی مقالہ T.S. Eliot’s Concept of Culture لکھا، لیکن ان کا اصل میدان اقبالیات رہا۔ انہوں نے اقبال کو دنیا کا عظیم ترین شاعر ثابت کرنے کے لیے کلیم الدین احمد کے اعتراضات کا بھرپور جواب دیا اور 'اقبال اور عالمی ادب' جیسی ضخیم کتاب تصنیف کی۔

ان کی تنقید میں اسلامی تہذیب و ثقافت سے اٹوٹ وابستگی اور مشرقی مطالعات کا غلبہ نمایاں ہے۔ ان کو اکثر 'کلیم الدین احمد کی ضد' کہا جاتا ہے؛ جہاں کلیم الدین منطقی استدلال پر زور دیتے ہیں، وہاں عبد المغنی اپنی ذاتی رائے اور وجدانی نکات پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ ان کی رائے زنی میں اکثر 'غلو' اور 'اغراق' کا عنصر پایا جاتا ہے، جیسے قرۃ العین حیدر کو جیمز جوائس اور ورجینیا وولف سے برتر قرار دینا۔ اس کے باوجود، عربی، فارسی اور انگریزی ادبیات پر ان کی بیک وقت دسترس ان کے فن کو ایک وقار عطا کرتی ہے۔

وفات: 5 ستمبر 2006 کو پٹنہ میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے