- کتاب فہرست 180586
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1982
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1368 قصہ / داستان1599 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح594 صحافت200 زبان و ادب1570
خطوط727 طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4276 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6539افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2008نصابی کتاب424 ترجمہ4191-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1253
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1260
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت589
- نظم1205
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ75
- واسوخت24
عبد القادر بیدل دہلوی کا تعارف
شناخت: ممتاز فارسی شاعر، صوفی مفکر، سبکِ ہندی کے سب سے نمائندہ شاعر اور ’’ابوالمعانی‘‘ کے لقب سے معروف
میرزا عبد القادر بیدل، جنہیں بیدل دہلوی اور بیدل عظیم آبادی بھی کہا جاتا ہے، 1644ء (1054ھ) میں عظیم آباد (موجودہ پٹنہ، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق چغتائی نسل کے معزز 'برلاس' قبیلے سے تھا، جن کے آبا و اجداد اصل میں ماوراء النہر کے تاریخی شہر بخارا کے رہنے والے تھے اور بعد میں ہندوستان منتقل ہو گئے تھے۔ ان کے والد میرزا عبد الخالق ایک سابق ترک سپاہی تھے۔
بیدل کم عمری ہی میں والدین سے محروم ہو گئے۔ والد کے انتقال کے وقت ان کی عمر ساڑھے چار برس تھی اور چھ برس کی عمر میں والدہ بھی وفات پا گئیں۔ ان کی پرورش اور تربیت ان کے چچا مرزا قلندر نے کی، جنہوں نے انہیں رسمی تعلیم کے بجائے مطالعہ، غور و فکر اور اہلِ علم و تصوف کی صحبتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع فراہم کیا۔ اسی تربیت نے ان کی غیر معمولی علمی و فکری شخصیت کی بنیاد رکھی۔
بیدل نے فارسی ادب کے تمام بڑے اساتذہ، خصوصاً رودکی، امیر خسرو اور جامی کے کلام کا گہرا مطالعہ کیا۔ وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ فلسفہ، تصوف، طب، نجوم، جفر، رمل، موسیقی اور تاریخ جیسے علوم سے بھی واقف تھے۔ ان کی شاعری میں فکر کی گہرائی، معنوی پیچیدگی، فلسفیانہ بصیرت اور عرفانی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں فارسی شاعری میں سبکِ ہندی کا سب سے بڑا نمائندہ شاعر قرار دیا جاتا ہے۔
بیدل نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ دہلی میں گزارا، جہاں ان کی مجلسیں اہلِ علم، صوفیہ، شعرا اور اربابِ دانش کا مرکز تھیں۔ ان کی شخصیت میں علم، تصوف، اخلاق اور انکساری کا ایسا امتزاج تھا کہ مخالفین بھی ان کی صحبت سے متاثر ہو جاتے تھے۔ مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر سمیت عہد کے متعدد اہلِ اقتدار ان کے کلام کے مداح تھے، لیکن بیدل نے کبھی درباری شاعری یا مدح سرائی کو اختیار نہیں کیا۔
ان کی اہم تصانیف میں دیوانِ بیدل، چہار عنصر، عرفان، طلسمِ حیرت، محیطِ اعظم، طورِ معرفت اور متعدد مثنویاں شامل ہیں۔ ان کا کلام فارسی ادب میں فکری و عرفانی شاعری کا بلند ترین نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ برصغیر، افغانستان اور وسطی ایشیا میں ان کی شاعری نے گہرے اثرات مرتب کیے۔ علامہ اقبال بھی بیدل کے فکری مقام کے معترف تھے، جبکہ مرزا غالب نے ان کے اسلوب سے خاص اثر قبول کیا۔
وفات: میرزا عبد القادر بیدل کا انتقال 1720ء میں دہلی میں ہوا۔ ان کی آخری آرام گاہ دہلی میں پورانا قلعہ کے سامنے، متھرا روڈ پر، میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم کے گیٹ اور پیدل چلنے والوں کے پُل کے پاس واقع ہے، جسے "باغِ بیدل" (Garden of Bedil) کہا جاتا ہے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Abdul-Q%C4%81dir_Bedil
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1982
-
