- کتاب فہرست 180736
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1568 صحت104 تاریخ3287طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1694 خطوط734
طرز زندگی30 طب973 تحریکات270 ناول4268 سیاسی351 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6517افسانہ2668 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب434 ترجمہ4222خواتین کی تحریریں5770-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1256
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
عبدالرحمٰن بجنوری کا تعارف
غالب نے تو وبائے عام میں مرنا پسند نہیں کیا تھا مگر ان کے نقاد ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری اردو کے وہ پہلے اہل قلم تھے جن کا انتقال وبائے عام میں ہوا
ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری اردو ادب کے ایک نامور نقاد، محقق، شاعر، مضمون نگار، مفکر، قانون دان اور ماہر تعلیم تھے۔
ڈاکٹرعبدالرحمٰن بجنوری 1885ء میں ہندوستان کے ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اور میٹرک کا امتحان کوئٹہ، بلوچستان سے پاس کیا۔ 1903ء میں وہ محمڈن اورینٹل کالج، علی گڑھ میں داخل ہوئے جہاں سے انھوں نے1906ء میں بی اے اور 1909ء میں ایل ایل بی کی اسناد حاصل کیں
ڈاکٹرعبدالرحمٰن بجنوری نے انگلستان کی لنکنز ان سے بارایٹ لا اور فری برگ یونیورسٹی، جرمنی سے " اسلامی تعزیرات" پر جرمن زبان میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
1904ٰء میں ہندوستان واپسی کے بعد کچھ دن مراد آباد میں وکالت کی۔
عبد الرحمٰن بجنوری وکالت کے ساتھ ساتھ مجوزہ مسلم یونیورسٹی کے دستور بنانے میں بھی مصروف رہے۔ 1916ء میں بھوپال میں مشیر تعلیم مقرر ہوئے۔ 1917ء میں سلطانیہ کالج کے نام سے ایک تعلیمی منصوبہ پیش کیا۔
1916ء میں بابائے اردو مولوی عبدالحق نے انھیں کلام غالپ پر مبسوط مقالہ لکھنے کی ذمہ داری دی جو بعد میں محاسن کلام غالب کے نام سے مشہور ہوا۔ بجنوری کا یہ مقولہ کہ " ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں۔ مقدس وید اور دیوان غالب " اس کتاب نے غالب کی شعری جمالیات کی وساطت سے اردو کی تاثراتی تنقید اور تبصروں کو نیا رنگ دیا " بجنوری نے کلام غالب کے الہام کو جذباتی انداز میں پرکھتے ہوئے تاثراتی تبصرہ نگاری کو قوت بخشی ۔
بجنوری نے ٹیگور کی گیتانجلی کا اردو میں ترجمہ کیا۔ " باقیات بجنوری" میں 14 نظمیں شائع ہوئیں۔ ترکی کی نظموں کو اردو میں منتقل کیا۔ انھوں نے شاعری بھی کی ،ان کی نظموں میں، معلم الملوت،ناہید، ہندوستان، دعا، یاد گل، موسیقی، مجذوب، صبح بنارس، بچے اور بڑے ( یونانی گیت کا ترجمہ) ،شمع و پروانہ، نٹ راجا، شیوجی کا رقص اور کوئل قابل ذکر ہیں۔ بجنوری نے علامہ اقبال کو فلسفی تسلیم نہیں کیا۔ بجنوری کی طویل نظم "معلم المکوت" جو اقبال کی نظم " جبریل وابلیس" سے دس سال پہلے لکھی گئی کہا جاتا ہے کہ یہ نظم اقبال نے "معلم المکوت" سے متاثر ہوکر لکھی تھی۔ علامہ اقبال نے بجنوری کو اسلامی تہذیب کا دانشور کہہ کر انھیں خراج تحسن پیش کیا تھا۔
بجنوری مزاحمت کار تھے۔ 1907ء میں ایم او کالج، علی گڑھ کی ایک ہڑتال میں حصہ لیتے ہوئے اس کی رہنمائی بھی کی۔
ڈاکٹر حدیقہ بیگم نے 1984ء میں اپنی ڈاکڑیٹ کی تکمیل کے لیے " نقد بجنوری" کے نام سے مقالہ لکھا۔ عبد الرحمٰن بجنوری پر اسلوب احمد انصاری، اشفاق احمد، آصف علی،عبد الوحید اعظمی،محمد معین انصاری،عطا محمد شعلہ،محمد عبد الغفار،خلیفہ حکیم،حسن عسکری پلکھنوی، امتیاز علی عرشی ،جعفر حسن اثیم، خورشید الاسلام، عبد الرحمٰن، گیان چند جین، محمد سلیمانی،سید محمود، سید عبد اللہ، کلیم الدین احمد اور احمد سہیل وغیرہ نے بجنوری پر خاصا صراحت سے لکھا ہے۔ عبد الرحمٰن بجنوری مشرق اور مغرب کی فکری اور علمی بصیرتوں کو اردو سے متعارف کروایا۔ ان کی فکر دو آتشہ میں نہا کر اردو ادب و نقد میں نیا نکھار پیدا کیا اور بالخصوص غالب کے کلام کو نیا تفہیمی اور تشریحی افق دیا۔
7 نومبر 1918ء کو ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری 33 سال کی عمر میں انفلوئنزا میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے۔
مددگار لنک : | http://ncpulblog.blogspot.com/2019/02/blog-post_22.html
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
-
