- کتاب فہرست 177110
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5834-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عبدالرحمٰن بجنوری کا تعارف
غالب نے تو وبائے عام میں مرنا پسند نہیں کیا تھا مگر ان کے نقاد ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری اردو کے وہ پہلے اہل قلم تھے جن کا انتقال وبائے عام میں ہوا
ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری اردو ادب کے ایک نامور نقاد، محقق، شاعر، مضمون نگار، مفکر، قانون دان اور ماہر تعلیم تھے۔
ڈاکٹرعبدالرحمٰن بجنوری 1885ء میں ہندوستان کے ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اور میٹرک کا امتحان کوئٹہ، بلوچستان سے پاس کیا۔ 1903ء میں وہ محمڈن اورینٹل کالج، علی گڑھ میں داخل ہوئے جہاں سے انھوں نے1906ء میں بی اے اور 1909ء میں ایل ایل بی کی اسناد حاصل کیں
ڈاکٹرعبدالرحمٰن بجنوری نے انگلستان کی لنکنز ان سے بارایٹ لا اور فری برگ یونیورسٹی، جرمنی سے " اسلامی تعزیرات" پر جرمن زبان میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
1904ٰء میں ہندوستان واپسی کے بعد کچھ دن مراد آباد میں وکالت کی۔
عبد الرحمٰن بجنوری وکالت کے ساتھ ساتھ مجوزہ مسلم یونیورسٹی کے دستور بنانے میں بھی مصروف رہے۔ 1916ء میں بھوپال میں مشیر تعلیم مقرر ہوئے۔ 1917ء میں سلطانیہ کالج کے نام سے ایک تعلیمی منصوبہ پیش کیا۔
1916ء میں بابائے اردو مولوی عبدالحق نے انھیں کلام غالپ پر مبسوط مقالہ لکھنے کی ذمہ داری دی جو بعد میں محاسن کلام غالب کے نام سے مشہور ہوا۔ بجنوری کا یہ مقولہ کہ " ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں۔ مقدس وید اور دیوان غالب " اس کتاب نے غالب کی شعری جمالیات کی وساطت سے اردو کی تاثراتی تنقید اور تبصروں کو نیا رنگ دیا " بجنوری نے کلام غالب کے الہام کو جذباتی انداز میں پرکھتے ہوئے تاثراتی تبصرہ نگاری کو قوت بخشی ۔
بجنوری نے ٹیگور کی گیتانجلی کا اردو میں ترجمہ کیا۔ " باقیات بجنوری" میں 14 نظمیں شائع ہوئیں۔ ترکی کی نظموں کو اردو میں منتقل کیا۔ انھوں نے شاعری بھی کی ،ان کی نظموں میں، معلم الملوت،ناہید، ہندوستان، دعا، یاد گل، موسیقی، مجذوب، صبح بنارس، بچے اور بڑے ( یونانی گیت کا ترجمہ) ،شمع و پروانہ، نٹ راجا، شیوجی کا رقص اور کوئل قابل ذکر ہیں۔ بجنوری نے علامہ اقبال کو فلسفی تسلیم نہیں کیا۔ بجنوری کی طویل نظم "معلم المکوت" جو اقبال کی نظم " جبریل وابلیس" سے دس سال پہلے لکھی گئی کہا جاتا ہے کہ یہ نظم اقبال نے "معلم المکوت" سے متاثر ہوکر لکھی تھی۔ علامہ اقبال نے بجنوری کو اسلامی تہذیب کا دانشور کہہ کر انھیں خراج تحسن پیش کیا تھا۔
بجنوری مزاحمت کار تھے۔ 1907ء میں ایم او کالج، علی گڑھ کی ایک ہڑتال میں حصہ لیتے ہوئے اس کی رہنمائی بھی کی۔
ڈاکٹر حدیقہ بیگم نے 1984ء میں اپنی ڈاکڑیٹ کی تکمیل کے لیے " نقد بجنوری" کے نام سے مقالہ لکھا۔ عبد الرحمٰن بجنوری پر اسلوب احمد انصاری، اشفاق احمد، آصف علی،عبد الوحید اعظمی،محمد معین انصاری،عطا محمد شعلہ،محمد عبد الغفار،خلیفہ حکیم،حسن عسکری پلکھنوی، امتیاز علی عرشی ،جعفر حسن اثیم، خورشید الاسلام، عبد الرحمٰن، گیان چند جین، محمد سلیمانی،سید محمود، سید عبد اللہ، کلیم الدین احمد اور احمد سہیل وغیرہ نے بجنوری پر خاصا صراحت سے لکھا ہے۔ عبد الرحمٰن بجنوری مشرق اور مغرب کی فکری اور علمی بصیرتوں کو اردو سے متعارف کروایا۔ ان کی فکر دو آتشہ میں نہا کر اردو ادب و نقد میں نیا نکھار پیدا کیا اور بالخصوص غالب کے کلام کو نیا تفہیمی اور تشریحی افق دیا۔
7 نومبر 1918ء کو ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری 33 سال کی عمر میں انفلوئنزا میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے۔
مددگار لنک : | http://ncpulblog.blogspot.com/2019/02/blog-post_22.html
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
