Abdussamad ’Tapish’'s Photo'

عبدالصمد تپشؔ

لکھمینیا, ہندوستان

125
Favorite

باعتبار

اسے کھلونوں سے بڑھ کر ہے فکر روٹی کی

ہمارے دور کا بچہ جنم سے بوڑھا ہے

کوئی کالم نہیں ہے حادثوں پر

بچا کر آج کا اخبار رکھنا

جہاں تک پاؤں میرے جا سکے ہیں

وہیں تک راستہ ٹھہرا ہوا ہے

ان کے لب پر مرا گلہ ہی سہی

یاد کرنے کا سلسلہ تو ہے

میں بھی تنہا اس طرف ہوں وہ بھی تنہا اس طرف

میں پریشاں ہوں تو ہوں وہ بھی پریشانی میں ہے

سب کو دکھلاتا ہے وہ چھوٹا بنا کر مجھ کو

مجھ کو وہ میرے برابر نہیں ہونے دیتا

وہی قاتل وہی منصف بنا ہے

اسی سے فیصلہ ٹھہرا ہوا ہے

جفا کے ذکر پہ وہ بد حواس کیسا ہے

ذرا سی بات تھی لیکن اداس کیسا ہے

نہ جانے کون فضاؤں میں زہر گھول گیا

ہرا بھرا سا شجر بے لباس کیسا ہے

کیوں وہ ملنے سے گریزاں اس قدر ہونے لگے

میرے ان کے درمیاں دیوار رکھ جاتا ہے کون

میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے

وہ سب حرف آئندہ ہے

یہ میں ہوں خود کہ کوئی اور ہے تعاقب میں

یہ ایک سایہ پس رہ گزار کس کا ہے

وقت کے دامن میں کوئی

اپنی ایک کہانی رکھ

وہ بڑا تھا پھر بھی وہ اس قدر بے فیض تھا

اس گھنیرے پیڑ میں جیسے کوئی سایہ نہ تھا

اب نشانہ اس کی اپنی ذات ہے

لڑ رہا ہے اک انوکھی جنگ وہ

مری قندیل جاں جلتی ہے شب بھر

ذرا اپنی بھی تو روداد شب لکھ

کون پتھر اٹھائے

یہ شجر بے ثمر ہے

ہوائے تند کیسی چل پڑی ہے

شجر پر ایک بھی پتا نہیں ہے

پتے پتے سے نغمہ سرا کون ہے

اے ہوا تیرے اندر چھپا کون ہے

کچھ حقائق کے زندہ پیکر ہیں

لفظ میں کیا بیان میں کیا ہے