دیکھ کر میری انا کس درجہ حیرانی میں ہے

عبدالصمد تپشؔ

دیکھ کر میری انا کس درجہ حیرانی میں ہے

عبدالصمد تپشؔ

MORE BY عبدالصمد تپشؔ

    دیکھ کر میری انا کس درجہ حیرانی میں ہے

    اس نے سمجھا تھا کہ سب کچھ باب امکانی میں ہے

    مجھ کو غم دے دے کے خوش تھا وہ مگر یہ کیا ہوا

    وقت کے ہاتھوں وہی غم کی فراوانی میں ہے

    کس کو کس کو خوش رکھے وہ کس سے جھگڑا مول لے

    فیصلہ ہے اس کے ہاتھوں میں تو حیرانی میں ہے

    ہر گھڑی اب حسرتوں کی لاش دیتی ہے دھواں

    اک عجب شمشان میرے دل کی ویرانی میں ہے

    میں بھی تنہا اس طرف ہوں وہ بھی تنہا اس طرف

    میں پریشاں ہوں تو ہوں وہ بھی پریشانی میں ہے

    برف بھی سیماب بھی ساحل بھی ہے گرداب بھی

    یہ تضاد خاصیت اک شکل انسانی میں ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Mata-e-Aainda (Pg. 55)
    • Author : Abdussamad Tapish
    • مطبع : Abdussamad Tapish (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY