- کتاب فہرست 180736
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3283طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1694 خطوط734
طرز زندگی30 طب973 تحریکات270 ناول4268 سیاسی351 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6516افسانہ2665 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب434 ترجمہ4219خواتین کی تحریریں5770-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1579
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ابو جعفر محمد بن جریر الطبری کا تعارف
شناخت: جلیل القدر مفسرِ قرآن، مؤرخِ اسلام، امام المورخین اور مفسرِ اعظم
ابو جعفر محمد بن جریر الطبری 839ء (224ھ) میں طبرستان کے شہر آمل میں پیدا ہوئے۔ وہ اسلامی تاریخ کے عظیم ترین علما میں شمار ہوتے ہیں اور مفسر، مؤرخ، فقیہ، محدث اور متکلم کی حیثیت سے غیر معمولی شہرت رکھتے ہیں۔
ابتدائی تعلیم کے بعد حصولِ علم کے لیے رے، بغداد، بصرہ، کوفہ، شام، مصر اور دیگر علمی مراکز کا سفر کیا۔ اس دوران اپنے عہد کے جلیل القدر علما سے حدیث، فقہ، تفسیر، تاریخ، لغت اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں فقہِ شافعی سے وابستہ رہے، مگر بعد ازاں اپنے اجتہادی اصولوں کی بنیاد پر فقہ کا مستقل دبستان قائم کیا جو "دبستان جریری" کے نام سے معروف ہوا۔
امام طبری کو تفسیر و تاریخ کے میدان میں غیر معمولی امتیاز حاصل ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تفسیر "جامع البیان عن تأویل آی القرآن" (تفسیر طبری) قرآن فہمی کی قدیم ترین اور مستند ترین تفاسیر میں شمار ہوتی ہے، جس میں انہوں نے آیات کی تشریح، اقوالِ صحابہ و تابعین، لغوی و نحوی مباحث اور مختلف تفسیری آرا کو جامع انداز میں جمع کیا۔
تاریخ نگاری میں ان کی سب سے اہم تصنیف "تاریخ الرسل والملوک" ہے، جو عام طور پر تاریخ طبری کے نام سے معروف ہے۔ یہ کتاب تخلیقِ عالم سے لے کر ان کے عہد تک کی اسلامی و عالمی تاریخ کا ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا سمجھی جاتی ہے اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے بنیادی مآخذ میں شامل ہے۔
امام طبری نے حدیث، فقہ، قراءات، لغت، ادب اور عقائد پر بھی متعدد علمی آثار چھوڑے۔ ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیات وسعتِ مطالعہ، علمی دیانت، تنقیدی بصیرت اور مختلف آرا کو اسناد کے ساتھ نقل کرنے کا منہج ہے۔
اپنی آزاد رائے اور اجتہادی موقف کے باعث انہیں بعض معاصر فقہی حلقوں، خصوصاً بعض حنبلی گروہوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر ان کی علمی عظمت اور اثر پذیری مسلم رہی۔
وفات: 923ء (310ھ) کو بغداد میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Tabari
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
-
