- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ابو جعفر محمد بن جریر الطبری کا تعارف
شناخت: جلیل القدر مفسرِ قرآن، مؤرخِ اسلام، امام المورخین اور مفسرِ اعظم
ابو جعفر محمد بن جریر الطبری 839ء (224ھ) میں طبرستان کے شہر آمل میں پیدا ہوئے۔ وہ اسلامی تاریخ کے عظیم ترین علما میں شمار ہوتے ہیں اور مفسر، مؤرخ، فقیہ، محدث اور متکلم کی حیثیت سے غیر معمولی شہرت رکھتے ہیں۔
ابتدائی تعلیم کے بعد حصولِ علم کے لیے رے، بغداد، بصرہ، کوفہ، شام، مصر اور دیگر علمی مراکز کا سفر کیا۔ اس دوران اپنے عہد کے جلیل القدر علما سے حدیث، فقہ، تفسیر، تاریخ، لغت اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں فقہِ شافعی سے وابستہ رہے، مگر بعد ازاں اپنے اجتہادی اصولوں کی بنیاد پر فقہ کا مستقل دبستان قائم کیا جو "دبستان جریری" کے نام سے معروف ہوا۔
امام طبری کو تفسیر و تاریخ کے میدان میں غیر معمولی امتیاز حاصل ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تفسیر "جامع البیان عن تأویل آی القرآن" (تفسیر طبری) قرآن فہمی کی قدیم ترین اور مستند ترین تفاسیر میں شمار ہوتی ہے، جس میں انہوں نے آیات کی تشریح، اقوالِ صحابہ و تابعین، لغوی و نحوی مباحث اور مختلف تفسیری آرا کو جامع انداز میں جمع کیا۔
تاریخ نگاری میں ان کی سب سے اہم تصنیف "تاریخ الرسل والملوک" ہے، جو عام طور پر تاریخ طبری کے نام سے معروف ہے۔ یہ کتاب تخلیقِ عالم سے لے کر ان کے عہد تک کی اسلامی و عالمی تاریخ کا ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا سمجھی جاتی ہے اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے بنیادی مآخذ میں شامل ہے۔
امام طبری نے حدیث، فقہ، قراءات، لغت، ادب اور عقائد پر بھی متعدد علمی آثار چھوڑے۔ ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیات وسعتِ مطالعہ، علمی دیانت، تنقیدی بصیرت اور مختلف آرا کو اسناد کے ساتھ نقل کرنے کا منہج ہے۔
اپنی آزاد رائے اور اجتہادی موقف کے باعث انہیں بعض معاصر فقہی حلقوں، خصوصاً بعض حنبلی گروہوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر ان کی علمی عظمت اور اثر پذیری مسلم رہی۔
وفات: 923ء (310ھ) کو بغداد میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Tabari
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
