- کتاب فہرست 179123
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4299 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6596افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5830-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ابو جعفر محمد بن جریر الطبری کا تعارف
شناخت: جلیل القدر مفسرِ قرآن، مؤرخِ اسلام، امام المورخین اور مفسرِ اعظم
ابو جعفر محمد بن جریر الطبری 839ء (224ھ) میں طبرستان کے شہر آمل میں پیدا ہوئے۔ وہ اسلامی تاریخ کے عظیم ترین علما میں شمار ہوتے ہیں اور مفسر، مؤرخ، فقیہ، محدث اور متکلم کی حیثیت سے غیر معمولی شہرت رکھتے ہیں۔
ابتدائی تعلیم کے بعد حصولِ علم کے لیے رے، بغداد، بصرہ، کوفہ، شام، مصر اور دیگر علمی مراکز کا سفر کیا۔ اس دوران اپنے عہد کے جلیل القدر علما سے حدیث، فقہ، تفسیر، تاریخ، لغت اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں فقہِ شافعی سے وابستہ رہے، مگر بعد ازاں اپنے اجتہادی اصولوں کی بنیاد پر فقہ کا مستقل دبستان قائم کیا جو "دبستان جریری" کے نام سے معروف ہوا۔
امام طبری کو تفسیر و تاریخ کے میدان میں غیر معمولی امتیاز حاصل ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تفسیر "جامع البیان عن تأویل آی القرآن" (تفسیر طبری) قرآن فہمی کی قدیم ترین اور مستند ترین تفاسیر میں شمار ہوتی ہے، جس میں انہوں نے آیات کی تشریح، اقوالِ صحابہ و تابعین، لغوی و نحوی مباحث اور مختلف تفسیری آرا کو جامع انداز میں جمع کیا۔
تاریخ نگاری میں ان کی سب سے اہم تصنیف "تاریخ الرسل والملوک" ہے، جو عام طور پر تاریخ طبری کے نام سے معروف ہے۔ یہ کتاب تخلیقِ عالم سے لے کر ان کے عہد تک کی اسلامی و عالمی تاریخ کا ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا سمجھی جاتی ہے اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے بنیادی مآخذ میں شامل ہے۔
امام طبری نے حدیث، فقہ، قراءات، لغت، ادب اور عقائد پر بھی متعدد علمی آثار چھوڑے۔ ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیات وسعتِ مطالعہ، علمی دیانت، تنقیدی بصیرت اور مختلف آرا کو اسناد کے ساتھ نقل کرنے کا منہج ہے۔
اپنی آزاد رائے اور اجتہادی موقف کے باعث انہیں بعض معاصر فقہی حلقوں، خصوصاً بعض حنبلی گروہوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر ان کی علمی عظمت اور اثر پذیری مسلم رہی۔
وفات: 923ء (310ھ) کو بغداد میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Tabari
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1988
-
