- کتاب فہرست 180695
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط724 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4275 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6695افسانہ2671 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4185-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ386
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
ابو جعفر محمد بن جریر الطبری کا تعارف
شناخت: جلیل القدر مفسرِ قرآن، مؤرخِ اسلام، امام المورخین اور مفسرِ اعظم
ابو جعفر محمد بن جریر الطبری 839ء (224ھ) میں طبرستان کے شہر آمل میں پیدا ہوئے۔ وہ اسلامی تاریخ کے عظیم ترین علما میں شمار ہوتے ہیں اور مفسر، مؤرخ، فقیہ، محدث اور متکلم کی حیثیت سے غیر معمولی شہرت رکھتے ہیں۔
ابتدائی تعلیم کے بعد حصولِ علم کے لیے رے، بغداد، بصرہ، کوفہ، شام، مصر اور دیگر علمی مراکز کا سفر کیا۔ اس دوران اپنے عہد کے جلیل القدر علما سے حدیث، فقہ، تفسیر، تاریخ، لغت اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں فقہِ شافعی سے وابستہ رہے، مگر بعد ازاں اپنے اجتہادی اصولوں کی بنیاد پر فقہ کا مستقل دبستان قائم کیا جو "دبستان جریری" کے نام سے معروف ہوا۔
امام طبری کو تفسیر و تاریخ کے میدان میں غیر معمولی امتیاز حاصل ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تفسیر "جامع البیان عن تأویل آی القرآن" (تفسیر طبری) قرآن فہمی کی قدیم ترین اور مستند ترین تفاسیر میں شمار ہوتی ہے، جس میں انہوں نے آیات کی تشریح، اقوالِ صحابہ و تابعین، لغوی و نحوی مباحث اور مختلف تفسیری آرا کو جامع انداز میں جمع کیا۔
تاریخ نگاری میں ان کی سب سے اہم تصنیف "تاریخ الرسل والملوک" ہے، جو عام طور پر تاریخ طبری کے نام سے معروف ہے۔ یہ کتاب تخلیقِ عالم سے لے کر ان کے عہد تک کی اسلامی و عالمی تاریخ کا ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا سمجھی جاتی ہے اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے بنیادی مآخذ میں شامل ہے۔
امام طبری نے حدیث، فقہ، قراءات، لغت، ادب اور عقائد پر بھی متعدد علمی آثار چھوڑے۔ ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیات وسعتِ مطالعہ، علمی دیانت، تنقیدی بصیرت اور مختلف آرا کو اسناد کے ساتھ نقل کرنے کا منہج ہے۔
اپنی آزاد رائے اور اجتہادی موقف کے باعث انہیں بعض معاصر فقہی حلقوں، خصوصاً بعض حنبلی گروہوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر ان کی علمی عظمت اور اثر پذیری مسلم رہی۔
وفات: 923ء (310ھ) کو بغداد میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Tabari
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
