- کتاب فہرست 182701
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم346 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1609 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1724 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4338 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6644افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4275خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1291
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4894
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ابواللیث صدیقی کا تعارف
شناخت: ممتاز ماہرِ لسانیات، محقق، نقاد اور سابق مدیر اعلیٰ اردو لغت بورڈ
ابواللیث صدیقی 15 جون 1916ء کو آگرہ، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم آگرہ، بدایوں اور علی گڑھ میں حاصل کی۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کرنے والے پہلے اسکالر تھے۔ 1943ء میں رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں "لکھنؤ کا دبستانِ شاعری" پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جو بعد میں اردو تحقیق میں ایک اہم حوالہ قرار پایا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد ابتدا میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ 1948ء میں لندن اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز گئے، جہاں انہوں نے شمالی ہند کی ہند-آریائی زبانوں پر تحقیق کی۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان منتقل ہوگئے اور پہلے لاہور، پھر کراچی میں سکونت اختیار کی۔
ڈاکٹر ابواللیث صدیقی نے اورینٹل کالج لاہور اور جامعہ کراچی کے شعبۂ اردو میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ جامعہ کراچی میں وہ شعبۂ اردو کے سربراہ بھی رہے۔ اسی دوران انہوں نے اردو لغت بورڈ کراچی کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ ان کی علمی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر کے طور پر بھی مدعو کیا گیا۔
ڈاکٹر ابواللیث صدیقی اردو تنقید، لسانیات، تحقیق اور ادبی تاریخ کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ان کی تصانیف میں ’’لکھنؤ کا دبستانِ شاعری‘‘، ’’غزل اور متغزلین‘‘، ’’آج کا اردو ادب‘‘، ’’تاریخِ زبان و ادبیاتِ اردو‘‘، ’’تاریخِ اصولِ تنقید‘‘، ’’جدید اردو ادبیات‘‘ اور ’’بیسویں صدی کا اردو ادب‘‘ خاص طور پر اہم ہیں۔ انہوں نے کلاسیکی شعرا پر بھی گراں قدر کام کیا، جن میں ’’مصحفی اور ان کا کلام‘‘، ’’جرأت: اس کا عہد اور شاعری‘‘ اور ’’نظیر اکبرآبادی: اس کا عہد اور شاعری‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔
لسانیات اور قواعد کے میدان میں بھی ان کی خدمات اہم ہیں۔ ’’جامع القواعد‘‘ اور ’’اردو میں سائنسی ادب کا اشاریہ‘‘ جیسی کتابیں ان کے تحقیقی ذوق اور علمی وسعت کی عکاس ہیں۔ ان کی خودنوشت ’’رفت و بود‘‘ بھی ادبی اور سماجی زندگی کے مشاہدات کا اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔
وفات: ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کا انتقال 7 ستمبر 1994ء کو کراچی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Abul_Lais_Siddiqui
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
