- کتاب فہرست 180312
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1360 قصہ / داستان1569 صحت104 تاریخ3261طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1677 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4263 سیاسی350 مذہبیات4761 تحقیق و تنقید6488افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4194خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1578
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4861
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
افضل حسین کا تعارف
شناخت: ماہرِ تعلیم، بچوں کے مصنف اور جماعتِ اسلامی ہند کے رہنما
افضل حسین خان 2 جنوری 1918ء کو ضلع بستی (اتر پردیش) کے موضع جانتے ڈیہا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام منصب دار خان تھا۔ ابتدائی تعلیم دودھارا کے پرائمری اسکول سے حاصل کی، جبکہ مڈل اور ہائی اسکول کی تعلیم خیر انٹر کالج بستی سے مکمل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انٹرمیڈیٹ (1937ء) اور بی اے (آنرز، انگریزی) 1939ء میں پاس کیا۔ 1940ء میں انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے ایل ٹی (موجودہ بی ایڈ) کی ڈگری حاصل کی۔ ایم اے آگرہ یونیورسٹی سے کیا۔
انہوں نے 1941ء سے 1948ء تک مختلف سرکاری تربیتی اداروں میں تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں، مگر 1948ء میں یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا کہ موجودہ نظامِ تعلیم اسلامی نقطۂ نظر سے اطمینان بخش نہیں۔ اس کے بعد وہ مرکزی درسگاہِ اسلامی رام پور اور جماعتِ اسلامی ہند کے تعلیمی و تنظیمی کاموں سے وابستہ ہوگئے۔
افضل حسین خان نوجوانی ہی میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر سے متاثر ہوئے اور 1944ء میں جماعتِ اسلامی کی رکنیت اختیار کی۔ انہوں نے جماعتِ اسلامی ہند کے تعلیمی، تربیتی اور تنظیمی شعبوں میں طویل خدمات انجام دیں۔ وہ تقریباً پندرہ برس تک مرکزی درسگاہِ اسلامی کے ناظم رہے اور شعبۂ تعلیم سے پچیس برس تک وابستہ رہے۔ 1963ء سے 1970ء تک معاون قیم جماعت اسلامی ہند، جبکہ 1972ء سے 1989ء تک قیم جماعت اسلامی ہند (سیکریٹری جنرل) کے منصب پر فائز رہے۔
تعلیم و تربیت ان کی زندگی کا مرکزی موضوع تھا۔ انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے اصلاحی، اخلاقی اور تعلیمی نوعیت کی متعدد کتابیں تصنیف و ترتیب دیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں "فنِ تعلیم و تربیت"، "ہماری دنیا"، "آئینۂ تاریخ"، "ہمارے نغمے"، "عام معلومات"، "ہماری کتاب" اور "موتیوں کا ہار" شامل ہیں۔ خصوصاً "فنِ تعلیم و تربیت" کو اردو میں تعلیمیات کے موضوع پر ایک اہم اور مستند کتاب تصور کیا جاتا ہے۔
وفات: افضل حسین خان کا انتقال یکم جنوری 1990ء کو نئی دہلی میں ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
