- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
احمد رضا خاں بریلوی کا تعارف
شناخت: عالمِ دین، فقیہ، محدث، مفتی، جنھیں ’’اعلیٰ حضرت‘‘ اور ’’مجددِ مائۃ حاضرہ‘‘ کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
احمد رضا خان بریلوی 10 شوال المکرم 1272ھ مطابق 14 جون 1856ء کو شمالی بھارت کے شہر بریلی کے محلہ سوداگران میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق پٹھانوں کے معزز قبیلہ 'بڑیچ' سے تھا۔ آپ کے جدِ اعلیٰ سعید اللہ خان قندھار سے ہجرت کر کے مغل بادشاہ محمد شاہ کے عہد میں ہندوستان آئے تھے اور ریاست میں بلند عہدوں پر فائز رہے۔ مغلیہ دور میں آپ کے خاندان کو 'شش ہزاری' منصب اور 'شجاعت جنگ' جیسے القابات سے نوازا گیا، یہاں تک کہ لاہور کا شیش محل بھی ایک عرصے تک اس خاندان کے زیرِ اقتدار رہا۔
احمد رضا خان نے ابتدائی اور اعلیٰ دینی تعلیم اپنے والدِ ماجد مولانا نقی علی خان سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے مرزا غلام قادر بیگ سے 'میزان' اور 'منشعب' وغیرہ پڑھیں، جبکہ علمِ ہیئت میں 'شرح چغمینی' کا کچھ حصہ عبد العلی رامپوری سے سیکھا۔ آپ کی علمی جلالت کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی کتب کے بعد آپ نے بیشتر علوم و فنون میں کسی مروجہ استاد کے بغیر محض اپنی خدا داد بصیرت اور ذہانت سے دسترس حاصل کی۔ روحانیت کی منازل طے کرنے کے لیے آپ نے خانقاہِ برکاتیہ (مارہرہ شریف) کے سجادہ نشین حضرت سید آلِ رسول قادری سے بیعت کی اور ان کے وصال کے بعد حضرت سید ابو الحسین احمد نوری مارہروی سے مزید تربیت حاصل کی۔
آپ فقہ حنفی کے عظیم علمبردار تھے اور آپ کی علمی شہرت کی سب سے بڑی بنیاد آپ کے ہزاروں فتاویٰ کا ضخیم مجموعہ ہے، جو 'فتاویٰ رضویہ' کے نام سے مشہور ہے۔ یہ علمی ذخیرہ تقریباً 12 جلدوں پر محیط ہے (جو جدید اشاعت میں 30 جلدوں تک پہنچ چکا ہے)۔ آپ نے محض روایتی علوم ہی نہیں بلکہ ریاضی، جفر، تکسیر اور فلکیات جیسے پیچیدہ علوم پر بھی سیکڑوں رسائل تصنیف کیے۔ قرآنِ کریم کا آپ کا کیا ہوا اردو ترجمہ 'کنز الایمان' اپنی فصاحت، بلاغت کی بنا پر آج بھی برصغیر میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ترجمہ مانا جاتا ہے۔
امام احمد رضا خان کی شناخت کا ایک نمایاں پہلو حضور نبی کریم ﷺ سے ان کی والہانہ محبت ہے۔ آپ نے اردو نعت گوئی کو ایک نیا رخ عطا کیا۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ 'حدائقِ بخشش' اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کے مشہورِ زمانہ سلام "مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام" نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ آپ نے نہ صرف اردو بلکہ عربی اور فارسی میں بھی گراں قدر کلام تخلیق کیا، جن کے مجموعے بالترتیب 'بساتین الغفران' اور 'ارمغانِ رضا' کے نام سے موجود ہیں۔
آپ نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور اصلاحِ امت میں بسر کی۔ آپ کا مزارِ مبارک بریلی شریف میں آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ برصغیر میں اہل سنت کی ایک بہت بڑی تعداد آپ ہی کی علمی نسبت سے خود کو 'بریلوی' کہتی ہے اور آپ کے افکار و نظریات کی پیروی کرتی ہے۔
وفات: 25 صفر 1340ھ مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو بریلی ہی میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Ahmed_Raza_Khan_Barelvi
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
