- کتاب فہرست 177110
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5834-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
احفاظ الرحمٰن کا تعارف
اصلی نام : احفاظ الرحمٰن
پیدائش : 04 Apr 1942 | جبل پور, مدھیہ پردیش
دانشور، شاعر، ترقی پسند ادیب اور آزادئ صحافت کے علمبردار، جناب احفاظ الرحمٰن 4 اپریل 1942 کے روز جبل پور ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں قیامِ پاکستان کے وقت اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان چلے گیے۔ احفاظ الرحمٰن صاحب اپنے کالج کے زمانے میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ’’نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ (این ایس ایف) میں شامل ہوئے اور فیلڈ مارشل ایوب خان کی تعلیمی اصلاحات کے خلاف احتجاج میں پیش پیش رہے۔ بعد ازاں جب ایم اے صحافت کی غرض سے جامعہ کراچی میں داخلہ لیا تو این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے نثر اور نظم کے ذریعے ترقی پسند افکار عام کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ کچھ عرصے تک لیکچرار کی عارضی ملازمت کے بعد پیشہ ورانہ صحافت میں قدم رکھا اور ساتھ ہی ساتھ ’’کراچی یونین آف جرنلسٹس‘‘ کے سرگرم رُکن بھی بن گئے۔
ضیاء الحق کے مارشل لاء میں ان پر پابندیاں عائد کی گئیں جن کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک بیروزگار رہے۔ تاہم وہ 1985 میں بیجنگ، چین کی ’’فارن لینگویج پریس‘‘ سے وابستہ ہو کر چین چلے گئے، جہاں سے وہ 1993 میں واپس پاکستان آئے اور روزنامہ جنگ سے بطور میگزین ایڈیٹر وابستہ ہوئے۔ 2002 میں روزنامہ جنگ کو خیرباد کہہ کر آپ نے روزنامہ ایکسپریس میں میگزین ایڈیٹر کی ذمہ داری قبول کر لی۔ چند سال قبل وہ گلے کے کینسر میں مبتلا ہوگئے جس کے بعد ان کی صحت بتدریج گرتی چلی گئی، جس کی بناء پر بالآخر انہوں نے 2018 میں صحافت کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا اور گوشہ نشینی اختیار کرلی۔
اسی علالت کے باعث 12 اپریل 2020 کو ان کا انتقال ہو گیا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
