- کتاب فہرست 179717
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط747
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4313 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6667افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5896-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1612
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4865
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
احفاظ الرحمٰن کا تعارف
اصلی نام : احفاظ الرحمٰن
پیدائش : 04 Apr 1942 | جبل پور, مدھیہ پردیش
دانشور، شاعر، ترقی پسند ادیب اور آزادئ صحافت کے علمبردار، جناب احفاظ الرحمٰن 4 اپریل 1942 کے روز جبل پور ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں قیامِ پاکستان کے وقت اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان چلے گیے۔ احفاظ الرحمٰن صاحب اپنے کالج کے زمانے میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ’’نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ (این ایس ایف) میں شامل ہوئے اور فیلڈ مارشل ایوب خان کی تعلیمی اصلاحات کے خلاف احتجاج میں پیش پیش رہے۔ بعد ازاں جب ایم اے صحافت کی غرض سے جامعہ کراچی میں داخلہ لیا تو این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے نثر اور نظم کے ذریعے ترقی پسند افکار عام کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ کچھ عرصے تک لیکچرار کی عارضی ملازمت کے بعد پیشہ ورانہ صحافت میں قدم رکھا اور ساتھ ہی ساتھ ’’کراچی یونین آف جرنلسٹس‘‘ کے سرگرم رُکن بھی بن گئے۔
ضیاء الحق کے مارشل لاء میں ان پر پابندیاں عائد کی گئیں جن کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک بیروزگار رہے۔ تاہم وہ 1985 میں بیجنگ، چین کی ’’فارن لینگویج پریس‘‘ سے وابستہ ہو کر چین چلے گئے، جہاں سے وہ 1993 میں واپس پاکستان آئے اور روزنامہ جنگ سے بطور میگزین ایڈیٹر وابستہ ہوئے۔ 2002 میں روزنامہ جنگ کو خیرباد کہہ کر آپ نے روزنامہ ایکسپریس میں میگزین ایڈیٹر کی ذمہ داری قبول کر لی۔ چند سال قبل وہ گلے کے کینسر میں مبتلا ہوگئے جس کے بعد ان کی صحت بتدریج گرتی چلی گئی، جس کی بناء پر بالآخر انہوں نے 2018 میں صحافت کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا اور گوشہ نشینی اختیار کرلی۔
اسی علالت کے باعث 12 اپریل 2020 کو ان کا انتقال ہو گیا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
