Ahmad Nadeem Qasmi's Photo'

احمد ندیم قاسمی

1916 - 2006 | لاہور, پاکستان

پاکستان کے ممتاز ترین ترقی پسند شاعر، اہم افسانہ نگاروں میں بھی ممتاز، اپنے رسالے ’فنون‘ کے لئے مشہور، سعادت حسن منٹو کے ہم عصر

پاکستان کے ممتاز ترین ترقی پسند شاعر، اہم افسانہ نگاروں میں بھی ممتاز، اپنے رسالے ’فنون‘ کے لئے مشہور، سعادت حسن منٹو کے ہم عصر

تخلص : 'ندیم'

اصلی نام : احمد شاہ اعوان

پیدائش : 20 Nov 1916, سرگودھا, پاکستان

وفات : 10 Jul 2006

Relatives : منصورہ احمد (بیٹی) , ناہید قاسمی (بیٹی)

LCCN :n81032097

اتنا مانوس ہوں سناٹے سے

کوئی بولے تو برا لگتا ہے

احمد ندیم قاسمی ممتاز ترقی پسند شاعر، افسانہ نگار اور ایک باکمال مدیر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ’فنون‘ کے نام سے ایک ادبی رسالہ جاری کیا جسے تاحیات پوری آب وتاب کے ساتھ نکالتے رہے۔
قاسمی کی پیدائش ۲۰ نومبر ۱۹۱۶ کو رنگہ ،تحصیل خوشاب سرگودھا میں ہوئی تھی۔ احمد شاہ نام رکھا گیا ۔ ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں میں ہوئی ۔ ۱۹۳۵ میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ ۱۹۳۶ میں ریفامز کمشنر لاہور کے دفتر میں محرر کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۱۹۴۱ تک متعدد سرکاری محکموں میں چھوٹی چھوٹی نوکریاں کرنے بعد دلی میں  ان کی ملاقات  منٹو سے ہوئی ۔ منٹو اس زمانے میں کئی فلموں کے لیے اسکرپٹ لکھ رہے قاسمی نے ان فلموں کے لیے گانے لکھے لیکن بد قسمتی سے کوئی بھی فلم ریلیز نہ ہوسکی۔ قیام پاکستان کے بعد البتہ انہوں نے فلم ’آغوش‘’دو راستے ‘ اور ’لوری‘ کے مکالمے لکھے جن کی نمائش بھی عمل میں آئی۔ ۱۹۴۲ میں قاسمی دلی سے واپس آگئےاور امتیاز علی تاج کے ادارے دارلاشاعت پنجاب لاہور میں ’تہذیب نسواں‘ اور ’پھول‘ کی ادارے سنبھالی۔قیام پاکستان کے بعد پشاور ریڈیو میں بطور اسکرپٹ رائٹر کے خدمات انجام دیں لیکن وہاں سے بھی جلد مستعفی ہوگئے۔ ۱۹۴۷ میں ’سویرا‘ کے ادارتی عملے میں شامل ہوگئے۔ ۱۹۴۹ میں انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کے سکریٹری جنرل منتخب کئے گئے۔انجمن کی مقتدرہ مخالف سرگرمیوں کے باعث قید  کیے گئے اور سات مہینے جیل گزارے۔ ۱۹۶۳ میں اپنا ادبی مجلہ ’فنون‘ جاری کیا۔ ۱۹۷۴ سے ۲۰۰۶ تک مجلس ترقی ادب لاہور کے ڈائریکٹر رہے۔ جولائی ۲۰۰۶ کو لاہور میں انتقال ہوا۔
افسانوی مجموعے: چوپال، بگولے، طلوع و غروب، گرداب،سیلاب،آنچل،آبلے،آس پاس،در ودیوار،سناٹا،بازار حیات،برگ حنا،گھر سے گھر تک،نیلا پتھر،کپاس کا پھول،کوہ پیما، پت جھڑ۔
شعری مجموعے: رم جھم، جلال وجمال،شعلۂ گل،دشت وفا،محیط،دوام،تہذیب وفن،دھڑکنیں،لوح خاک، ارض وسما، انور جمال۔
تنقید: ادب اور تعلیم کے رشتے، پس الفاظ، معنی کی تلاش۔