- کتاب فہرست 180681
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1652 صحت108 تاریخ3342طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1143
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6696افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1210
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
اکبر حیدری کشمیری کا تعارف
شناخت: مرثیہ شناس، نقاد اور کلاسیکی اردو ادب کے محقق
اکبر حیدری کشمیری 13 اکتوبر 1929ء کو سری نگر (جموں و کشمیر) کے قدیم محلہ خانقاہِ سوختہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کشمیر میں حاصل کی۔ 1950ء میں محکمۂ تعلیم جموں و کشمیر میں اردو ٹیچر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو اور فارسی میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1960ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے ’’میر انیس بحیثیت رزمیہ شاعر‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی اور 1973ء میں ’’اودھ میں اردو مرثیے کا ارتقا‘‘ پر ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی۔
اکبر حیدری کا شمار اردو کے نامور محققین میں ہوتا ہے جنہوں نے کلاسیکی اردو ادب، اقبالیات، غالبیات اور بالخصوص رثائی ادب کی تحقیق میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ مرثیہ تنقید و تحقیق ان کا خصوصی میدان ہے۔ انہوں نے مرثیے کی تاریخ، ارتقا، فن اور گمنام مرثیہ نگاروں پر ایسی تحقیقات پیش کیں جنہوں نے اردو رثائی ادب کے کئی پوشیدہ گوشوں کو روشن کیا۔ میر انیس، مرزا دبیر، میر خلیق، میر ضمیر، سکندرؔ، گداؔ، مقبلؔ، ناظمؔ اور احسانؔ جیسے شعرا کے حالات و آثار کی تحقیق اور ان کے غیر مطبوعہ کلام کی دریافت ان کے نمایاں کارناموں میں شامل ہے۔
ان کی اہم ترین تصنیف ’’اودھ میں اردو مرثیے کا ارتقا‘‘ اردو مرثیے کی تاریخ پر ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’میر انیس بحیثیت رزمیہ شاعر‘‘، ’’باقیاتِ انیس‘‘، ’’باقیاتِ دبیر‘‘، ’’انتخابِ مراثی دبیر‘‘، ’’مراثیِ میر خلیق‘‘، ’’میر ضمیر لکھنوی‘‘، ’’انیس کی منظر نگاری‘‘ اور ’’ہندو مرثیہ گو شعرا‘‘ جیسی کتابیں رثائی ادب کے اہم مراجع شمار ہوتی ہیں۔
مرثیہ شناسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے اقبالیات اور غالبیات میں بھی قابلِ قدر اضافہ کیا۔ ’’اقبال: نادر معلومات‘‘، ’’اقبالیات کے نئے گوشے‘‘، ’’کلامِ اقبال قدیم رسالوں کے آئینے میں‘‘، ’’نوادرِ غالب‘‘ اور ’’غالبیات‘‘ ان کی اہم تحقیقی کاوشیں ہیں۔
اکبر حیدری نادر مخطوطات کی تلاش، تحقیق اور تدوین کے حوالے سے غیر معمولی شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے میر، میر حسن، انشا، ناسخ اور دیگر کلاسیکی شعرا کے قدیم مخطوطات دریافت کیے، غیر مطبوعہ کلام کو منظرِ عام پر لائے اور متون کو اغلاط و الحاقات سے پاک کر کے اردو تحقیق میں نئی راہیں ہموار کیں۔ ’’مقالاتِ حیدری‘‘ ان کے تحقیقی کارناموں کی نمائندہ تصنیف ہے۔
اردو تحقیق، تدوین اور مرثیہ شناسی میں ان کی خدمات ایک مستقل علمی سرمایہ ہیں۔
وفات: پروفیسر اکبر حیدری کشمیری کا انتقال 18 ستمبر 2012ء کو ہوا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
-
