Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Akbar Haideri Kashmiri's Photo'

اکبر حیدری کشمیری

1929 - 2012 | سری نگر, انڈیا

مرثیہ شناس، محقق، نقاد اور شاعر

مرثیہ شناس، محقق، نقاد اور شاعر

اکبر حیدری کشمیری کا تعارف

تخلص : 'اکبر'

اصلی نام : اکبر حیدری

پیدائش : 01 Oct 1929 | سری نگر, جموں و کشمیر

وفات : 18 Sep 2012

شناخت: مرثیہ شناس، نقاد اور کلاسیکی اردو ادب کے محقق

اکبر حیدری کشمیری 13 اکتوبر 1929ء کو سری نگر (جموں و کشمیر) کے قدیم محلہ خانقاہِ سوختہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کشمیر میں حاصل کی۔ 1950ء میں محکمۂ تعلیم جموں و کشمیر میں اردو ٹیچر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو اور فارسی میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1960ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے ’’میر انیس بحیثیت رزمیہ شاعر‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی اور 1973ء میں ’’اودھ میں اردو مرثیے کا ارتقا‘‘ پر ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی۔

اکبر حیدری کا شمار اردو کے نامور محققین میں ہوتا ہے جنہوں نے کلاسیکی اردو ادب، اقبالیات، غالبیات اور بالخصوص رثائی ادب کی تحقیق میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ مرثیہ تنقید و تحقیق ان کا خصوصی میدان ہے۔ انہوں نے مرثیے کی تاریخ، ارتقا، فن اور گمنام مرثیہ نگاروں پر ایسی تحقیقات پیش کیں جنہوں نے اردو رثائی ادب کے کئی پوشیدہ گوشوں کو روشن کیا۔ میر انیس، مرزا دبیر، میر خلیق، میر ضمیر، سکندرؔ، گداؔ، مقبلؔ، ناظمؔ اور احسانؔ جیسے شعرا کے حالات و آثار کی تحقیق اور ان کے غیر مطبوعہ کلام کی دریافت ان کے نمایاں کارناموں میں شامل ہے۔

ان کی اہم ترین تصنیف ’’اودھ میں اردو مرثیے کا ارتقا‘‘ اردو مرثیے کی تاریخ پر ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’میر انیس بحیثیت رزمیہ شاعر‘‘، ’’باقیاتِ انیس‘‘، ’’باقیاتِ دبیر‘‘، ’’انتخابِ مراثی دبیر‘‘، ’’مراثیِ میر خلیق‘‘، ’’میر ضمیر لکھنوی‘‘، ’’انیس کی منظر نگاری‘‘ اور ’’ہندو مرثیہ گو شعرا‘‘ جیسی کتابیں رثائی ادب کے اہم مراجع شمار ہوتی ہیں۔

مرثیہ شناسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے اقبالیات اور غالبیات میں بھی قابلِ قدر اضافہ کیا۔ ’’اقبال: نادر معلومات‘‘، ’’اقبالیات کے نئے گوشے‘‘، ’’کلامِ اقبال قدیم رسالوں کے آئینے میں‘‘، ’’نوادرِ غالب‘‘ اور ’’غالبیات‘‘ ان کی اہم تحقیقی کاوشیں ہیں۔

اکبر حیدری نادر مخطوطات کی تلاش، تحقیق اور تدوین کے حوالے سے غیر معمولی شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے میر، میر حسن، انشا، ناسخ اور دیگر کلاسیکی شعرا کے قدیم مخطوطات دریافت کیے، غیر مطبوعہ کلام کو منظرِ عام پر لائے اور متون کو اغلاط و الحاقات سے پاک کر کے اردو تحقیق میں نئی راہیں ہموار کیں۔ ’’مقالاتِ حیدری‘‘ ان کے تحقیقی کارناموں کی نمائندہ تصنیف ہے۔

اردو تحقیق، تدوین اور مرثیہ شناسی میں ان کی خدمات ایک مستقل علمی سرمایہ ہیں۔

وفات: پروفیسر اکبر حیدری کشمیری کا انتقال 18 ستمبر 2012ء کو ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے