- کتاب فہرست 182622
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3288طنز و مزاح611 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط745
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4315 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6621افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4877
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1207
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اختر اورینوی کا تعارف
جنوں بھی زحمت خرد بھی لعنت ہے زخم دل کی دوا محبت
حریم جاں میں طواف پیہم یہی ہے انداز عاشقانہ
اختر اورینوی اردو کے اہم افسانہ نگار، محقق، ناقد اور شاعر ہیں۔ وہ اردو کے ان افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے بالکل ابتدائی دور میں اس صنف میں دلچسپی لی اور اس کے صحیح خدوخال واضح کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اختر اورینوی 1910 کو اورین ضلع مونگیر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید وزارت حسین تھا۔ انگریزی میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر اردو زبان وادب میں ایم اے و ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پٹنہ یونیورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دئے۔ 31 مارچ 1977 کو وفات پائی۔
اختر اورینوی کی شخصیت خالص علمی ، ادبی اور تخلیقی تھی۔ انہوں اردو زبان وادب کی تاریخ بھی لکھی اور اقبال ونظیر کو بھی اپنے خاص مطالعے کا موضوع بنایا۔ ان کے کئی شعری اور افسانوی مجموعے بھی شائع ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
