- کتاب فہرست 177592
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6602افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5833-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
علی عباس حسینی کا تعارف
تخلص : 'علی'
اصلی نام : سید علی عباس حسینی
پیدائش : 03 Feb 1897 | غازی پور, اتر پردیش
وفات : 23 Sep 1969 | لکھنؤ, اتر پردیش
رشتہ داروں : سید اعظم حسین اعظم (Nephew)
علی عباس حسینی افسانہ نگار،نقاد اور ڈرامہ نویس کے طور جانے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش ۳ فروری ۱۸۹۷ کو موضع پارہ ضلع غازی پور میں ہوئی۔ مشن ہائی اسکول الہ آبادسے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کیا۔کیننگ کالج لکھنؤ سے بی اے مکمل کرنے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا۔گورمنٹ جوبلی کالج لکھنؤ میں درس وتدریس سے وابستہ رہے۔یہیں سے ۱۹۵۴ میں پرنسپل کے عہدے سےسبکدوش ہوئے۔۲۷ ستمبر ۱۹۶۹ کو انتقال ہوا۔
علی عباس حسینی کو بچپن سے ہی قصے کہانیوں میں دلچسپی تھی۔ دس گیارہ برس کی عمر میں الف لیلی کے قصے ،فردوسی کا شاہ نامہ، طلسم ہوش ربا اور اردو میں لکھے جانے والے دوسرے افسانوی ادب کا مطالعہ کر چکےتھے۔ ۱۹۱۷ میں پہلا افسانہ ’غنچۂ ناشگفتہ‘ کے نام سے لکھا۔ اور ۱۹۲۰ میں ’سر سید احمد پاشا‘کے قلمی نام سے پہلا رومانوی ناول’قاف کی پری‘ لکھا۔’شاید کہ بہار آئی‘ ان کا دوسرا اور آخری نال ہے۔’رفیق تنہائی،باسی پھول،کانٹوں میں پھول،میلہ گھومنی،ندیا کنارے،آئی سی ایس اور دوسرے افسانے،یہ کچھ ہنسی نہیں ہے،الجھے دھاگے،ایک حمام میں، سیلاب کی راتیں، کے نام سے افسانوں کے مجموعے شائع ہوئے۔
’ایک ایکٹ کے ڈرامے‘ ان کے ڈراموں کا مجموعہ ہے۔ علی عباس حسینی کی ایک پہچان فکشن کے نقاد کے طور پر بھی قائم ہوئی۔ انہوں نے پہلی بار ناول کی تنقید و تاریخ پر ایک ایسی مفصل کتاب لکھی جو آج تک فکشن تنقید میں حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’عروس ادب‘ کے نام سے ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ شائع ہوا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
