- کتاب فہرست 179629
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
علی عباس حسینی کا تعارف
تخلص : 'علی'
اصلی نام : سید علی عباس حسینی
پیدائش : 03 Feb 1897 | غازی پور, اتر پردیش
وفات : 23 Sep 1969 | لکھنؤ, اتر پردیش
رشتہ داروں : سید اعظم حسین اعظم (Nephew)
علی عباس حسینی افسانہ نگار،نقاد اور ڈرامہ نویس کے طور جانے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش ۳ فروری ۱۸۹۷ کو موضع پارہ ضلع غازی پور میں ہوئی۔ مشن ہائی اسکول الہ آبادسے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کیا۔کیننگ کالج لکھنؤ سے بی اے مکمل کرنے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا۔گورمنٹ جوبلی کالج لکھنؤ میں درس وتدریس سے وابستہ رہے۔یہیں سے ۱۹۵۴ میں پرنسپل کے عہدے سےسبکدوش ہوئے۔۲۷ ستمبر ۱۹۶۹ کو انتقال ہوا۔
علی عباس حسینی کو بچپن سے ہی قصے کہانیوں میں دلچسپی تھی۔ دس گیارہ برس کی عمر میں الف لیلی کے قصے ،فردوسی کا شاہ نامہ، طلسم ہوش ربا اور اردو میں لکھے جانے والے دوسرے افسانوی ادب کا مطالعہ کر چکےتھے۔ ۱۹۱۷ میں پہلا افسانہ ’غنچۂ ناشگفتہ‘ کے نام سے لکھا۔ اور ۱۹۲۰ میں ’سر سید احمد پاشا‘کے قلمی نام سے پہلا رومانوی ناول’قاف کی پری‘ لکھا۔’شاید کہ بہار آئی‘ ان کا دوسرا اور آخری نال ہے۔’رفیق تنہائی،باسی پھول،کانٹوں میں پھول،میلہ گھومنی،ندیا کنارے،آئی سی ایس اور دوسرے افسانے،یہ کچھ ہنسی نہیں ہے،الجھے دھاگے،ایک حمام میں، سیلاب کی راتیں، کے نام سے افسانوں کے مجموعے شائع ہوئے۔
’ایک ایکٹ کے ڈرامے‘ ان کے ڈراموں کا مجموعہ ہے۔ علی عباس حسینی کی ایک پہچان فکشن کے نقاد کے طور پر بھی قائم ہوئی۔ انہوں نے پہلی بار ناول کی تنقید و تاریخ پر ایک ایسی مفصل کتاب لکھی جو آج تک فکشن تنقید میں حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’عروس ادب‘ کے نام سے ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ شائع ہوا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
