- کتاب فہرست 182527
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3285طنز و مزاح610 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط743
طرز زندگی30 طب982 تحریکات272 ناول4307 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6618افسانہ2685 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1281
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد55
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت584
- نظم1206
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
علی امام کا تعارف
علی امام کا تعلق ہندوستان کے علمی اور تاریخی اہمیت کے حامل صوبہ بہار کے ضلع نالندہ سے ہے۔ ان کی پیدائش 20 دسمبر 1947 کو مسیاں گاؤں میں ہوئی۔ ان کے والد سید عبد الوحید ابن میر فرزند علی اور والدہ بی بی رسول باندی بنت میر انور حسین تھیں۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق مسیاں بند پلاک، نالندہ سے تھا، تاہم ان کی پرورش و پرداخت نالندہ کے تاریخی قصبے دسنہ (استھانواں بلاک) میں ہوئی۔ بعد ازاں ان کی مستقل رہائش بہار شریف کی بڑی درگاہ میں رہی اور فی الوقت وہ پٹنہ کے علاقے دریابور، سبزی باغ میں مقیم ہیں۔ علی امام کی ازدواجی زندگی بھی خاصی بامعنی رہی۔ ان کی شادی ایک معزز سادات خانوادے کی تعلیم یافتہ خاتون سعیدہ فردوسی بنت سید شاہ نورالدین احمد فردوسی (سجادہ نشین، منیر شریف) سے ہوئی۔ ان کے بطن سے ایک بیٹا یاسر علی وحید اور دو بیٹیاں سارہ علی امام اور سعدیہ علی امام پیدا ہوئیں۔
علی امام نے ابتدائی تعلیم گھر پر والدین کی نگرانی میں حاصل کی، جیسا کہ اُس وقت کے تعلیم یافتہ خاندانوں کا معمول تھا۔ اس کے بعد انھوں نے بی ایس سی، بی ایڈ، ایم ایڈ، ایم اے (سماجیات) اور پی ایچ ڈی (سوشل سائنس) کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد علی امام نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز انسان اسکول میں سائنس ٹیچر کے طور پر کیا۔ بعد ازاں وہ اسٹیٹ ریسورس سینٹر فار ایڈلٹ ایجوکیشن (بہار) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ پھر وہ ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (DIET)، پٹنہ کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ ان کی تعلیمی خدمات اور تجربات کی بنیاد پر انہیں مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) کا نمائندہ بھی منتخب کیا گیا۔
علی امام نے تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ ادبی دنیا میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اردو اور ہندی رسائل کی ادارت کی ذمہ داریاں بہ حسن خوبی نبھائیں۔ ہندی میگزین "سہہ پاتری" اور "سمپرک" کے علاوہ اردو کے چند رسائل کے بھی مدیر رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں بہار اردو ایڈوائزری بورڈ کا رکن اور بہار اردو اکادمی کے تحت تعلیمی شعبے کا اہم رکن بھی منتخب کیا گیا۔ ادبی سطح پر علی امام کی شناخت ایک سنجیدہ افسانہ نگار کی ہے۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز 1968 میں ہوا، جب پٹنہ کی ادبی انجمن "بزم خلیل" کے زیر اہتمام شائع ہونے والے رسالے "صد آہنگ" میں ان کی پہلی کہانی "پرائے کمرے میں تنہا آدمی" کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس وقت رضوان احمد، عبید قمر اور شوکت حیات جیسے نامور ادیب بھی ان کے ہمراہ تھے۔
افسانوی ادب میں ان کی نمایاں کتابوں میں پہلا مجموعہ "نہیں" (1985)، اورافسانوں کا دوسرا مجموعہ “ مت بھید (1995)،اور تیسرا مجموعہ “
ہاں میں یہاں ہوں “(2018)
اور ایک ناول “نئےدھان کا رنگ” (2023)میں شائع ہوئے ہیں۔جو کہ قابل قدر ہے۔
رابطہ: علی امام
سابق پرنسپل ڈائیٹ(DIET) اکبر ہاوس،تیسری منزل
دریا پور،سبزی باغ ۔ بیٹنہ،بہار انڈیا
تیز تر رابطہ: 9835293066
برقی رابطہ :
aliimam.Imam@gmail. Comموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
