- کتاب فہرست 179398
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4306خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
علی امام کا تعارف
علی امام کا تعلق ہندوستان کے علمی اور تاریخی اہمیت کے حامل صوبہ بہار کے ضلع نالندہ سے ہے۔ ان کی پیدائش 20 دسمبر 1947 کو مسیاں گاؤں میں ہوئی۔ ان کے والد سید عبد الوحید ابن میر فرزند علی اور والدہ بی بی رسول باندی بنت میر انور حسین تھیں۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق مسیاں بند پلاک، نالندہ سے تھا، تاہم ان کی پرورش و پرداخت نالندہ کے تاریخی قصبے دسنہ (استھانواں بلاک) میں ہوئی۔ بعد ازاں ان کی مستقل رہائش بہار شریف کی بڑی درگاہ میں رہی اور فی الوقت وہ پٹنہ کے علاقے دریابور، سبزی باغ میں مقیم ہیں۔ علی امام کی ازدواجی زندگی بھی خاصی بامعنی رہی۔ ان کی شادی ایک معزز سادات خانوادے کی تعلیم یافتہ خاتون سعیدہ فردوسی بنت سید شاہ نورالدین احمد فردوسی (سجادہ نشین، منیر شریف) سے ہوئی۔ ان کے بطن سے ایک بیٹا یاسر علی وحید اور دو بیٹیاں سارہ علی امام اور سعدیہ علی امام پیدا ہوئیں۔
علی امام نے ابتدائی تعلیم گھر پر والدین کی نگرانی میں حاصل کی، جیسا کہ اُس وقت کے تعلیم یافتہ خاندانوں کا معمول تھا۔ اس کے بعد انھوں نے بی ایس سی، بی ایڈ، ایم ایڈ، ایم اے (سماجیات) اور پی ایچ ڈی (سوشل سائنس) کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد علی امام نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز انسان اسکول میں سائنس ٹیچر کے طور پر کیا۔ بعد ازاں وہ اسٹیٹ ریسورس سینٹر فار ایڈلٹ ایجوکیشن (بہار) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ پھر وہ ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (DIET)، پٹنہ کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ ان کی تعلیمی خدمات اور تجربات کی بنیاد پر انہیں مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) کا نمائندہ بھی منتخب کیا گیا۔
علی امام نے تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ ادبی دنیا میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اردو اور ہندی رسائل کی ادارت کی ذمہ داریاں بہ حسن خوبی نبھائیں۔ ہندی میگزین "سہہ پاتری" اور "سمپرک" کے علاوہ اردو کے چند رسائل کے بھی مدیر رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں بہار اردو ایڈوائزری بورڈ کا رکن اور بہار اردو اکادمی کے تحت تعلیمی شعبے کا اہم رکن بھی منتخب کیا گیا۔ ادبی سطح پر علی امام کی شناخت ایک سنجیدہ افسانہ نگار کی ہے۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز 1968 میں ہوا، جب پٹنہ کی ادبی انجمن "بزم خلیل" کے زیر اہتمام شائع ہونے والے رسالے "صد آہنگ" میں ان کی پہلی کہانی "پرائے کمرے میں تنہا آدمی" کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس وقت رضوان احمد، عبید قمر اور شوکت حیات جیسے نامور ادیب بھی ان کے ہمراہ تھے۔
افسانوی ادب میں ان کی نمایاں کتابوں میں پہلا مجموعہ "نہیں" (1985)، اورافسانوں کا دوسرا مجموعہ “ مت بھید (1995)،اور تیسرا مجموعہ “
ہاں میں یہاں ہوں “(2018)
اور ایک ناول “نئےدھان کا رنگ” (2023)میں شائع ہوئے ہیں۔جو کہ قابل قدر ہے۔
رابطہ: علی امام
سابق پرنسپل ڈائیٹ(DIET) اکبر ہاوس،تیسری منزل
دریا پور،سبزی باغ ۔ بیٹنہ،بہار انڈیا
تیز تر رابطہ: 9835293066
برقی رابطہ :
aliimam.Imam@gmail. Comموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
