- کتاب فہرست 189012
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1796 صحت110 تاریخ3626طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5047 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2300نصابی کتاب562 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6300-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1683
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5417
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ72
- واسوخت29
علی امام کا تعارف
علی امام کا تعلق ہندوستان کے علمی اور تاریخی اہمیت کے حامل صوبہ بہار کے ضلع نالندہ سے ہے۔ ان کی پیدائش 20 دسمبر 1947 کو مسیاں گاؤں میں ہوئی۔ ان کے والد سید عبد الوحید ابن میر فرزند علی اور والدہ بی بی رسول باندی بنت میر انور حسین تھیں۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق مسیاں بند پلاک، نالندہ سے تھا، تاہم ان کی پرورش و پرداخت نالندہ کے تاریخی قصبے دسنہ (استھانواں بلاک) میں ہوئی۔ بعد ازاں ان کی مستقل رہائش بہار شریف کی بڑی درگاہ میں رہی اور فی الوقت وہ پٹنہ کے علاقے دریابور، سبزی باغ میں مقیم ہیں۔ علی امام کی ازدواجی زندگی بھی خاصی بامعنی رہی۔ ان کی شادی ایک معزز سادات خانوادے کی تعلیم یافتہ خاتون سعیدہ فردوسی بنت سید شاہ نورالدین احمد فردوسی (سجادہ نشین، منیر شریف) سے ہوئی۔ ان کے بطن سے ایک بیٹا یاسر علی وحید اور دو بیٹیاں سارہ علی امام اور سعدیہ علی امام پیدا ہوئیں۔
علی امام نے ابتدائی تعلیم گھر پر والدین کی نگرانی میں حاصل کی، جیسا کہ اُس وقت کے تعلیم یافتہ خاندانوں کا معمول تھا۔ اس کے بعد انھوں نے بی ایس سی، بی ایڈ، ایم ایڈ، ایم اے (سماجیات) اور پی ایچ ڈی (سوشل سائنس) کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد علی امام نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز انسان اسکول میں سائنس ٹیچر کے طور پر کیا۔ بعد ازاں وہ اسٹیٹ ریسورس سینٹر فار ایڈلٹ ایجوکیشن (بہار) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ پھر وہ ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (DIET)، پٹنہ کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ ان کی تعلیمی خدمات اور تجربات کی بنیاد پر انہیں مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) کا نمائندہ بھی منتخب کیا گیا۔
علی امام نے تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ ادبی دنیا میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اردو اور ہندی رسائل کی ادارت کی ذمہ داریاں بہ حسن خوبی نبھائیں۔ ہندی میگزین "سہہ پاتری" اور "سمپرک" کے علاوہ اردو کے چند رسائل کے بھی مدیر رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں بہار اردو ایڈوائزری بورڈ کا رکن اور بہار اردو اکادمی کے تحت تعلیمی شعبے کا اہم رکن بھی منتخب کیا گیا۔ ادبی سطح پر علی امام کی شناخت ایک سنجیدہ افسانہ نگار کی ہے۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز 1968 میں ہوا، جب پٹنہ کی ادبی انجمن "بزم خلیل" کے زیر اہتمام شائع ہونے والے رسالے "صد آہنگ" میں ان کی پہلی کہانی "پرائے کمرے میں تنہا آدمی" کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس وقت رضوان احمد، عبید قمر اور شوکت حیات جیسے نامور ادیب بھی ان کے ہمراہ تھے۔
افسانوی ادب میں ان کی نمایاں کتابوں میں پہلا مجموعہ "نہیں" (1985)، اورافسانوں کا دوسرا مجموعہ “ مت بھید (1995)،اور تیسرا مجموعہ “
ہاں میں یہاں ہوں “(2018)
اور ایک ناول “نئےدھان کا رنگ” (2023)میں شائع ہوئے ہیں۔جو کہ قابل قدر ہے۔
رابطہ: علی امام
سابق پرنسپل ڈائیٹ(DIET) اکبر ہاوس،تیسری منزل
دریا پور،سبزی باغ ۔ بیٹنہ،بہار انڈیا
تیز تر رابطہ: 9835293066
برقی رابطہ :
aliimam.Imam@gmail. Comموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
