عنبرین حسیب عنبر کا تعارف
تخلص : 'عنبر'
اصلی نام : عنبرین انصاری
پیدائش : 23 Jun 1981 | کراچی, سندھ
رشتہ داروں : سحر انصاری (والد)
ہم تو سنتے تھے کہ مل جاتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ
تو جو بچھڑا ہے تو کیا وقت نے گردش نہیں کی
عنبریں حسیب عنبر کا اصلی نام عنبرین انصاری اور تخلص عنبر ہے۔ ان کے والد کا نام سحر انصاری ہے۔ ان کی ولادت 23 جون 1981ء کو کراچی، پاکستان میں ہوئی۔ عنبریں حسیب عنبر اردو زبان کی ایک معروف شاعرہ ہیں جن کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے۔ وہ کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر چکی ہیں۔ ان کی دو تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلا شعری مجموعہ ”دل کے اُفق پر“2012ء میں شائع ہوا اور دوسرا شعری مجموعہ ”تم بھی نا“ 2020ء میں شائع ہوا۔ عنبریں حسیب عنبر کی ترتیب میں کتابی سلسلہ ”اسالیب“ بھی شائع ہوتا ہے جس کے سرپرست سحر انصاری ہیں۔
عنبریں حسیب عنبر کے والد اور جدید اردو غزل کے معتبر شاعر اور ادیب پروفیسر سحر انصاری نے ’’سکوت کی آواز‘‘ کے عنوان کے تحت اپنی بیٹی کی شاعرانہ صلاحیتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
”ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر اپنی تخلیقی کاوشوں اور شعور و آگہی کا سفر طے کرتے ہوئے اب اپنی ایک پہچان بنا چکی ہیں۔ ان کی شاعری کاغذ پر بھی اتنی ہی پسندیدہ ہے جتنی مشاعروں میں پسند کی جاتی ہے۔ وہ اپنی شاعری میں روحِ عصر اور موجودہ دنیا کے ان موضوعات پر توجہ دیتی ہیں جو دوسروں کی زندگی میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ میانہ روی، شائستگی اور ایک خاص رکھ رکھائو کے تناظر میں ادبی دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چل رہی ہیں۔ عنبریں کی شاعری کا ایک حصہ تو وہی ہے جو انسان کے ذاتی جذبات و محسوسات اور تجربات سے متعلق ہوتا ہے دوسرا ان کا ایک آئیڈیل ان کے ذہن میں ہے جہاں انسان کی عظمت و تکریم کو سر فہرست رکھ کر معاشرے کو ناانصافی، بھوک، افلاس، دہشت گردی، تعصبات اور جہالت سے نجات دلائی جائے۔ اس طرزِ احساس نے عنبریں کی شاعری میں جذبے اور شعور کے ساتھ ساتھ فکری گہرائی بھی پیدا کر دی ہے۔ وہ آئیڈیالوجی کی شاعرہ ہیں، اسٹریجی (حکمت عملی) کی نہیں“۔