Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ameen Ahsan Islahi's Photo'

امین احسن اصلاحی

1904 - 1997 | لاہور, پاکستان

مکتبِ فراہی کے ممتاز عالمِ دین اور مفسرِ قرآن

مکتبِ فراہی کے ممتاز عالمِ دین اور مفسرِ قرآن

امین احسن اصلاحی کا تعارف

اصلی نام : امین احسن

پیدائش :اعظم گڑہ, اتر پردیش

وفات : 15 Dec 1997 | لاہور, پنجاب

شناخت: مشہور عالمِ دین، مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام

مولانا امین احسن اصلاحی 1904ء میں اعظم گڑھ کے گاؤں بمہور میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں ہوئی، جس کے بعد ان کے رشتہ کے چچا مولانا شبلی متکلم ندو(مہتمم مدرستہ الاصلاح) کے ایما پر ان کو مدرسہ الاصلاح (سرائے میر) میں داخل کر دیا گیا۔ مدرسہ میں آٹھ سالہ قیام کے دوران انہوں نے عربی زبان، قرآن، حدیث اور فقہ میں غیر معمولی دسترس حاصل کی۔

تعلیم سے فراغت کے بعد 1922ء میں محض 18 سال کی عمر میں انہوں نے صحافت میں قدم رکھا۔ وہ سہ روزہ 'مدینہ' (بجنور) کے نائب مدیر مقرر ہوئے، جو تحریکِ خلافت کا علمبردار تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بچوں کے ہفت روزہ 'غنچہ' کی ادارت کی اور مولانا عبد الماجد دریابادی کے ہفت روزہ 'سچ' میں بھی خدمات انجام دیں۔

مولانا اصلاحی کی زندگی کا سب سے اہم موڑ 1925ء میں آیا جب وہ صحافت چھوڑ کر اپنے استاد مولانا حمید الدین فراہی کے پاس علومِ قرآن میں تخصص کے لیے چلے گئے۔ انہوں نے نہ صرف مولانا فراہی سے تفسیر پڑھی بلکہ ان کے مخصوص 'طریقہ تفسیر' (نظمِ قرآن) میں مہارت حاصل کی۔ ان کی پوری علمی زندگی اپنے استاد کے افکار کی تشریح اور انہیں منطقی انجام تک پہنچانے میں صرف ہوئی۔

مولانا اصلاحی جماعت اسلامی کے بانی ارکان میں شامل تھے اور مولانا مودودی کے بعد جماعت کی دوسری اہم ترین شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے طویل عرصے تک جماعت میں کلیدی کردار ادا کیا، تاہم 1958ء میں بعض اصولی اختلافات کی بنا پر انہوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ بعد ازاں انہوں نے ڈاکٹر اسرار احمد اور دیگر رفقا کے ساتھ مل کر 'تنظیم اسلامی' کے قیام کی کوشش کی، تاہم بعض حوادث کی بنا پر یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔

مولانا اصلاحی کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ان کی شہرہ آفاق تفسیر 'تدبرِ قرآن' ہے، جو اگست 1980ء میں مکمل ہوئی۔ اس تفسیر کے بارے میں وہ خود لکھتے ہیں کہ یہ ان کی اپنی 55 سالہ محنت اور ان کے استاد مولانا فراہی کی عمر بھر کی سوچ کا نچوڑ ہے، جسے وہ 'ایک صدی کا قرآنی فکر' قرار دیتے ہیں۔ یہ تفسیر 'نظمِ قرآن' کے حوالے سے پوری دنیا میں منفرد مقام رکھتی ہے۔

تفسیر کی تکمیل کے بعد انہوں نے حدیث کی طرف توجہ فرمائی اور 1401ھ میں 'ادارہ تدبر قرآن و حدیث' قائم کیا۔ اس ادارے کے تحت انہوں نے دروسِ حدیث دئے اور تحقیقی مجلہ 'تدبر' جاری کیا۔ بڑھتی ہوئی نقاہت اور پیرانہ سالی کے باعث 1993ء میں آپ کے دروس کا یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔

وفات: 15 دسمبر 1997ء کو انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے