- کتاب فہرست 182452
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1390 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3285طنز و مزاح610 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط743
طرز زندگی30 طب982 تحریکات272 ناول4307 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6612افسانہ2685 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1281
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد55
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت584
- نظم1205
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
آمنہ ابوالحسن کا تعارف
آمنہ ابوالحسن کا اصل نام سیدہ آمنہ بانو ہے۔ ان کی ولادت 10 مئی 1941ء کو حیدر آباد، تلنگانہ میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام ابوالحسن سید علی ہے اور شریکِ حیات کا نام مصطفیٰ علی اکبر ہے۔ ان کی تصانیف کی تعداد اس طرح ہے: کہانی (1965)، سیاہ سرخ سفید (1968)، تم کون ہو؟ (1974)، واپسی (1981ء)، آواز (1985ء)، بائی فوکل (1990ء)، یادش بخیر (1994ء)، پلس مائنس، مہک۔
مضمون نگار: جاوید شاہ آباد کے مطابق
”حیدر آباد کی فکشن نگار خواتین میں آمنہ ابوالحسن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ سید آمنہ بانو جو آمنہ ابوالحسن کے نام سے ادبی دنیا میں پہچانی جاتی ہیں، حیدر آباد کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں 10 مئی 1941 کو پیدا ہوئیں۔ ان کے نانا اپنے وقت کے جید عالم تصور کیے جاتے تھے۔ آمنہ ابوالحسن کے والد کا نام ابوالحسن سید علی تھا۔ آمنہ ابوالحسن کے بچپن میں ہی ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ اپنے والد کے زیر سایہ انہوں نے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ ان کے والد ابوالحسن سید علی مرحوم نامور قانون داں اور سیاست داں ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنما بھی تھے۔ مصنفہ کی شادی دورانِ تعلیم ہی جناب مصطفی علی اکبر صاحب سے ہوئی جو آل انڈیا ریڈیو میں نیوز ریڈر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ آمنہ ابوالحسن 9 اپریل 2005 کو سرائے فانی سے عالم لافانی کو منتقل ہو گئیں۔ آمنہ ابوالحسن کو بچپن ہی سے کہانی لکھنے کا شوق تھا۔ ان کی پہلی کہانی ”ننھی کلی“ کے عنوان سے بچوں کے لیے شائع ہونے والے رسالے میں چھپی تھی، اس وقت موصوفہ آٹھویں جماعت کی طالبہ تھیں۔ کہانی شائع ہونے کے بعد ان کے قلم میں خود اعتمادی آگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی تخلیقات یکے بعد دیگرے منظرِ عام پر آنے لگیں۔ انہوں نے متعدد ناول لکھے جنھیں اردو ادب میں بہترین ناول تسلیم کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ”سیاہ سرخ سفید“،”تم کون ہو“،”واپسی“،”مہک“، ”یادش بخیر“وغیرہ۔
آمنہ ابوالحسن کا سب سے پہلا ناول”سیاہ سرخ سفید“ 1968 میں نیشنل بک ڈپو، مچھلی کمان حیدر آباد سے شائع ہو کر منظر عام پر آیا۔ یہ ناول 224 صفحات پر مشتمل ایک رومانی ناول ہے۔ ان کا دوسرا ناول ” تم کون ہو“ 1974 میں نیشنل پرنٹنگ پریس، چار کمان، حیدر آباد سے شائع ہوایہ ناول 164 صفحات پر مشتمل ایک معاشرتی ناول ہے۔ان کا ایک اور ناول ” واپسی“1981 میں موڈرن پبلشنگ ہاوس ،گول مارکٹ سے شائع ہوا۔ ”یادش بخیر“1994 میں موڈرن پبلشنگ ہاوس ، دریا گنج، نئی دہلی سے شائع ہوا۔ ناول ” یادش بخیر “ میں قدیم تہذیب اور جدید دونوں رجحانات پائے جاتے ہیں۔ مصنفہ نے ناول میں کہیں کہیں خود کلامی سے کام لیا ہے اور اس کے وسیلے سے کرداروں کے افکار و تصورات کی ترجمانی کی ہے۔“موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
