- کتاب فہرست 189032
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2092
ڈرامہ1034 تعلیم392 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1804 صحت110 تاریخ3633طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1970 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5048 سیاسی378 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2303نصابی کتاب563 ترجمہ4620خواتین کی تحریریں6299-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1687
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5420
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ71
- واسوخت29
انور خان کا تعارف
انور خان شہر ِ ممبئی میں یکم مارچ 1942 میں طالع یار خان کے گھر ناگپاڑہ میں پیدا ہوئے ۔ اُن کی والدہ کا نام آمنہ بیگم تھا ۔ وہ بچپن میں باسکٹ بال کے ایک اچھے کھلاڑی تھے اور شاید بچپن میں اُنھوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اگلی زندگی میں اُن کی شہرت ایک کھلاڑی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک کامیاب افسانہ نگار کے طور پر ہوگی ۔
انورخان کی افسانہ نگاری کا آغاز 1965 میں ہوا ، اور اُن کی پہلی کہانی بقول انیس امروہی ’ شاٹ ‘ تھی لیکن اُن کا پہلا افسانہ ’ راستے اور کھڑکیاں ‘ ہے جو 1970میں ماہنامہ کتاب لکھنو میں شائع ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ اپنے ہمعصروں میں وہ پہلے افسانہ نگار ہیں جن کا پہلا مجموعہ ’ راستے اور کھڑکیاں ‘ مکتبہ جامعہ دہلی نے شائع کیا تھا اور اس سے بھی حیرت کی بات یہ تھی کہ دوسرے ہی سال اُس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا ۔ وہ اپنے ہم عمروں میں پہلے افسانہ نگار ہیں جن کا گوشہ کلام حیدری جیسے مستند افسانہ نگار نے اپنے رسالے ’ آہنگ ‘ میں ترتیب دیا تھا ۔ یعنی انور خان وہ افسانہ نگار ہیں جن پر شہرت کے دروازے بہت جلد کُھل گئے تھے ۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2092
-
