Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Anwar Taban's Photo'

انور تاباں

1944 - 2016 | سہارن پور, انڈیا

انور تاباں کے اشعار

658
Favorite

باعتبار

خوشی کی بات اور ہے غموں کی بات اور

تمہاری بات اور ہے ہماری بات اور

ہنستے ہنستے نکل پڑے آنسو

روتے روتے کبھی ہنسی آئی

ہر ایک شخص مرا شہر میں شناسا تھا

مگر جو غور سے دیکھا تو میں اکیلا تھا

شاید آ جائے کبھی دیکھنے وہ رشک مسیح

میں کسی اور سے اس واسطے اچھا نہ ہوا

جی تو یہ چاہتا ہے مر جائیں

زندگی اب تری رضا کیا ہے

آئے گا وہ دن ہماری زندگی میں بھی ضرور

جو اندھیروں کو مٹا کر روشنی دے جائے گا

یہ یقیں ہے کی میری الفت کا

ہوگا ان پر اثر کبھی نہ کبھی

اس خوف میں کہ کھد نہ بھٹک جائیں راہ میں

بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھاتا نہیں کوئی

سکون قلب کو جس سے مل جائے تاباںؔ

غزل کوئی ایسی سنا دیجئے گا

حریم ناز کے پردے میں جو نہاں تھا کبھی

اسی نے شوخ ادائیں دکھا کے لوٹ لیا

کچھ سمجھ میں مری نہیں آتا

دل لگانے سے فائدہ کیا ہے

ستم بھی مجھ پہ وہ کرتا رہا کرم کی طرح

وہ مہرباں تو نہ تھا مہربان جیسا تھا

تو اس نگاہ سے پی وقت مے کشی تاباںؔ

کی جس نگاہ پہ قربان پارسائی ہو

تمہیں دل دے تو دے تاباںؔ یہ ڈر ہے

ہمیشہ کو تمہارا ہو نہ جائے

دل ہے پریشاں ان کی خاطر

پل بھر کو آرام نہیں ہے

شغل تھا دشت نوردی کا کبھی اے تاباںؔ

اب گلستاں میں بھی جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

آج مغموم کیوں ہو اے تاباںؔ

کچھ تو بولو کہ ماجرا کیا ہے

کسی کی برق نظر سے نہ بجلیوں سے جلے

کچھ اس طرح کی ہو تعمیر آشیانے کی

سمجھ سے کام جو لیتا ہر ایک بشر تاباںؔ

نہ ہاہا کار ہی مچتے نہ گھر جلا کرتے

Recitation

بولیے