- کتاب فہرست 181263
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1383 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3276طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1705 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6596افسانہ2679 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1261
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عارف اقبال کا تعارف
محمد عارف اقبال، دربھنگہ کے ایک علمی و دینی خاندان سے تعلق رکھنے والے صحافی اور کالم نگار ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم دربھنگہ کے مدرسہ امدادیہ اور مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور سے ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ دہلی یونیوسٹی سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی ہے۔ عارف اقبال نے عملی صحافت کا آغاز روزنامہ قومی تنظیم سے کیا اور ای ٹی وی بھارت اردو جیسے بڑے چینلز سے وابستہ رہ کر اردو صحافت میں اپنا مقام بنایا۔
ان کی خاص پہچان اقلیتی حقوق، ثقافتی و ادبی مسائل پر مبنی رپورٹنگ ہے، جس کی وجہ سے وہ بہار اور قومی سطح پر مقبول ہوئے۔ عارف اقبال کی کالم نگاری اور مضمون نگاری بھی بے حد پسند کی جاتی ہے اور سو سے زائد مضامین مختلف اخباروں اور رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اب تک چار کتابیں لکھی ہیں جن میں ’’باتیں میر کارواں کی‘‘ اور ’’امیر شریعت سادس‘‘ شامل ہیں۔
عارف اقبال کے پاس صحافت اور تصنیف و تالیف کے میدان میں بہت آگے جانے کی صلاحیت ہے۔ وہ اس وقت دربھنگہ کے مریا ہائی اسکول میں اردو کے استاد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
