- کتاب فہرست 188948
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1557 قصہ / داستان1792 صحت109 تاریخ3626طنز و مزاح754 صحافت220 زبان و ادب1974 خطوط824
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات298 ناول5056 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7443افسانہ3031 خاکے/ قلمی چہرے290 سماجی مسائل121 تصوف2302نصابی کتاب566 ترجمہ4621خواتین کی تحریریں6303-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1413
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1682
- کہہ مکرنی7
- کلیات694
- ماہیہ21
- مجموعہ5427
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1324
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
عارف اقبال کا تعارف
محمد عارف اقبال، دربھنگہ کے ایک علمی و دینی خاندان سے تعلق رکھنے والے صحافی اور کالم نگار ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم دربھنگہ کے مدرسہ امدادیہ اور مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور سے ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ دہلی یونیوسٹی سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی ہے۔ عارف اقبال نے عملی صحافت کا آغاز روزنامہ قومی تنظیم سے کیا اور ای ٹی وی بھارت اردو جیسے بڑے چینلز سے وابستہ رہ کر اردو صحافت میں اپنا مقام بنایا۔
ان کی خاص پہچان اقلیتی حقوق، ثقافتی و ادبی مسائل پر مبنی رپورٹنگ ہے، جس کی وجہ سے وہ بہار اور قومی سطح پر مقبول ہوئے۔ عارف اقبال کی کالم نگاری اور مضمون نگاری بھی بے حد پسند کی جاتی ہے اور سو سے زائد مضامین مختلف اخباروں اور رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اب تک چار کتابیں لکھی ہیں جن میں ’’باتیں میر کارواں کی‘‘ اور ’’امیر شریعت سادس‘‘ شامل ہیں۔
عارف اقبال کے پاس صحافت اور تصنیف و تالیف کے میدان میں بہت آگے جانے کی صلاحیت ہے۔ وہ اس وقت دربھنگہ کے مریا ہائی اسکول میں اردو کے استاد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
-
