- کتاب فہرست 179408
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4317 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
عارف اقبال کا تعارف
محمد عارف اقبال، دربھنگہ کے ایک علمی و دینی خاندان سے تعلق رکھنے والے صحافی اور کالم نگار ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم دربھنگہ کے مدرسہ امدادیہ اور مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور سے ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ دہلی یونیوسٹی سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی ہے۔ عارف اقبال نے عملی صحافت کا آغاز روزنامہ قومی تنظیم سے کیا اور ای ٹی وی بھارت اردو جیسے بڑے چینلز سے وابستہ رہ کر اردو صحافت میں اپنا مقام بنایا۔
ان کی خاص پہچان اقلیتی حقوق، ثقافتی و ادبی مسائل پر مبنی رپورٹنگ ہے، جس کی وجہ سے وہ بہار اور قومی سطح پر مقبول ہوئے۔ عارف اقبال کی کالم نگاری اور مضمون نگاری بھی بے حد پسند کی جاتی ہے اور سو سے زائد مضامین مختلف اخباروں اور رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اب تک چار کتابیں لکھی ہیں جن میں ’’باتیں میر کارواں کی‘‘ اور ’’امیر شریعت سادس‘‘ شامل ہیں۔
عارف اقبال کے پاس صحافت اور تصنیف و تالیف کے میدان میں بہت آگے جانے کی صلاحیت ہے۔ وہ اس وقت دربھنگہ کے مریا ہائی اسکول میں اردو کے استاد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
