- کتاب فہرست 177203
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1708 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4293 سیاسی354 مذہبیات4743 تحقیق و تنقید6600افسانہ2688 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5836-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4848
- مرثیہ386
- مثنوی749
- مسدس42
- نعت578
- نظم1191
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عارف اقبال کا تعارف
محمد عارف اقبال، دربھنگہ کے ایک علمی و دینی خاندان سے تعلق رکھنے والے صحافی اور کالم نگار ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم دربھنگہ کے مدرسہ امدادیہ اور مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور سے ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ دہلی یونیوسٹی سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی ہے۔ عارف اقبال نے عملی صحافت کا آغاز روزنامہ قومی تنظیم سے کیا اور ای ٹی وی بھارت اردو جیسے بڑے چینلز سے وابستہ رہ کر اردو صحافت میں اپنا مقام بنایا۔
ان کی خاص پہچان اقلیتی حقوق، ثقافتی و ادبی مسائل پر مبنی رپورٹنگ ہے، جس کی وجہ سے وہ بہار اور قومی سطح پر مقبول ہوئے۔ عارف اقبال کی کالم نگاری اور مضمون نگاری بھی بے حد پسند کی جاتی ہے اور سو سے زائد مضامین مختلف اخباروں اور رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اب تک چار کتابیں لکھی ہیں جن میں ’’باتیں میر کارواں کی‘‘ اور ’’امیر شریعت سادس‘‘ شامل ہیں۔
عارف اقبال کے پاس صحافت اور تصنیف و تالیف کے میدان میں بہت آگے جانے کی صلاحیت ہے۔ وہ اس وقت دربھنگہ کے مریا ہائی اسکول میں اردو کے استاد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
