- کتاب فہرست 181556
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1385 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1706 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4297 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اے آر خاتون دہلوی کا تعارف
شناخت: مقبول ناول نگار، گھریلو و سماجی زندگی کی ترجمان اور تہذیبی و اخلاقی اقدار کی عکاس
اے آر خاتون، ( اصل نام امتہ الرحمٰن) 1900ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ بچپن ہی سے مطالعے اور لکھنے پڑھنے کا شوق رکھتی تھیں۔ گھریلو ماحول میں رہتے ہوئے انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور ادبی ذوق کی آبیاری کی۔ ابتدا میں ان کے مضامین معروف ادبی رسالے ’’عصمت‘‘ میں شائع ہوتے رہے، جہاں سے ان کی ادبی شناخت قائم ہونا شروع ہوئی۔
اے آر خاتون نے 1929ء میں اپنا پہلا ناول ’’شمع‘‘ تحریر کیا، جسے اپنے دل کش اسلوب اور جذباتی فضا کی وجہ سے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کامیابی کے بعد انھوں نے ناول نگاری کو باقاعدہ اپنی ادبی شناخت بنا لیا۔ ’’تصویر‘‘ ان کا دوسرا اہم ناول تھا، جسے بھی قارئین نے بے حد پسند کیا۔ بعد ازاں ’’افشاں‘‘، ’’فاکہہ‘‘، ’’چشمہ‘‘، ’’ہالہ‘‘، ’’رُمانہ‘‘، ’’فرحانہ‘‘، ’’زیور‘‘ اور ’’عصمہ‘‘ جیسے ناول منظر عام پر آئے اور اردو کے مقبول عام ناولوں میں شمار ہونے لگے۔ ان کے ناول خصوصاً خواتین قارئین میں بے حد مقبول ہوئے اور طویل عرصے تک شوق سے پڑھے جاتے رہے۔
اے آر خاتون کے ناولوں میں گھریلو زندگی، مشرقی اقدار، خاندانی تعلقات اور برصغیر کے مسلم معاشرے کی تہذیبی و اخلاقی صورت حال نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے یہاں کردار نگاری اور کہانی کے انداز میں ایک خاص تسلسل ملتا ہے، تاہم ان کی اصل قوت معاشرتی زندگی کی بدلتی ہوئی تصویروں کو جذباتی اور مؤثر پیرائے میں پیش کرنا ہے۔ ان کی تحریروں میں عورت کے جذبات، گھریلو کشمکش، روایت اور جدیدیت کے تصادم اور اخلاقی اقدار کے زوال و بقا جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
تقسیمِ ہند کے بعد اے آر خاتون پاکستان منتقل ہوگئیں اور یہیں اپنی ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ان کے کئی ناول پاکستان ٹیلی ویژن سے ڈرامائی صورت میں پیش کیے گئے، جن میں ’’افشاں‘‘، ’’تصویر‘‘ اور ’’شمع‘‘ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔ ان ناولوں کی ڈرامائی تشکیل معروف ادیبہ فاطمہ ثریا بجیا نے کی، جس کے بعد ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا اور نئی نسل بھی ان کی تحریروں سے متعارف ہوئی۔
وفات: اے آر خاتون کا انتقال 24 فروری 1965ء کو لاہور میں ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
