- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
اے آر خاتون دہلوی کا تعارف
شناخت: مقبول ناول نگار، گھریلو و سماجی زندگی کی ترجمان اور تہذیبی و اخلاقی اقدار کی عکاس
اے آر خاتون، ( اصل نام امتہ الرحمٰن) 1900ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ بچپن ہی سے مطالعے اور لکھنے پڑھنے کا شوق رکھتی تھیں۔ گھریلو ماحول میں رہتے ہوئے انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور ادبی ذوق کی آبیاری کی۔ ابتدا میں ان کے مضامین معروف ادبی رسالے ’’عصمت‘‘ میں شائع ہوتے رہے، جہاں سے ان کی ادبی شناخت قائم ہونا شروع ہوئی۔
اے آر خاتون نے 1929ء میں اپنا پہلا ناول ’’شمع‘‘ تحریر کیا، جسے اپنے دل کش اسلوب اور جذباتی فضا کی وجہ سے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کامیابی کے بعد انھوں نے ناول نگاری کو باقاعدہ اپنی ادبی شناخت بنا لیا۔ ’’تصویر‘‘ ان کا دوسرا اہم ناول تھا، جسے بھی قارئین نے بے حد پسند کیا۔ بعد ازاں ’’افشاں‘‘، ’’فاکہہ‘‘، ’’چشمہ‘‘، ’’ہالہ‘‘، ’’رُمانہ‘‘، ’’فرحانہ‘‘، ’’زیور‘‘ اور ’’عصمہ‘‘ جیسے ناول منظر عام پر آئے اور اردو کے مقبول عام ناولوں میں شمار ہونے لگے۔ ان کے ناول خصوصاً خواتین قارئین میں بے حد مقبول ہوئے اور طویل عرصے تک شوق سے پڑھے جاتے رہے۔
اے آر خاتون کے ناولوں میں گھریلو زندگی، مشرقی اقدار، خاندانی تعلقات اور برصغیر کے مسلم معاشرے کی تہذیبی و اخلاقی صورت حال نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے یہاں کردار نگاری اور کہانی کے انداز میں ایک خاص تسلسل ملتا ہے، تاہم ان کی اصل قوت معاشرتی زندگی کی بدلتی ہوئی تصویروں کو جذباتی اور مؤثر پیرائے میں پیش کرنا ہے۔ ان کی تحریروں میں عورت کے جذبات، گھریلو کشمکش، روایت اور جدیدیت کے تصادم اور اخلاقی اقدار کے زوال و بقا جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
تقسیمِ ہند کے بعد اے آر خاتون پاکستان منتقل ہوگئیں اور یہیں اپنی ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ان کے کئی ناول پاکستان ٹیلی ویژن سے ڈرامائی صورت میں پیش کیے گئے، جن میں ’’افشاں‘‘، ’’تصویر‘‘ اور ’’شمع‘‘ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔ ان ناولوں کی ڈرامائی تشکیل معروف ادیبہ فاطمہ ثریا بجیا نے کی، جس کے بعد ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا اور نئی نسل بھی ان کی تحریروں سے متعارف ہوئی۔
وفات: اے آر خاتون کا انتقال 24 فروری 1965ء کو لاہور میں ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
