- کتاب فہرست 181556
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1385 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1706 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4297 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ارمان شمسی کا تعارف
اصلی نام : محمد ارمان
پیدائش : 21 Aug 1945 | بریلی, اتر پردیش
وفات : 22 Jun 2026 | ڈھاکہ, بنگلہ دیش
LCCN :n2016244707
بنگلہ دیش کے مشہور افسانہ نگار اور شاعر ارمان شمسی کا اصلی نام محمد ارمان ہے۔ وہ 21 اگست 1945 کو قصبہ آنولہ، ضلع بریلی، اترپردیش میں پیدا ہوئے تھے۔ ارمان شمسی بنگلہ دیش میں اردو ادب کے فروغ کے لیے سرگرم ایک اہم شخصیت تھے۔ ارمان شمسی کے گیارہ افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن کے نام اس طرح ہیں۔’’آشنائی کا کرب‘‘ (2003)، ’’ڈھلان سے ابھرتا سورج‘‘ (2006)، ’’خواب ریزے‘‘(2009)، ’’پیاسی ندیا‘‘ (2009)، ’’شناخت‘‘ (2011)، ’’کالی پری‘‘ (2013)، ’’ریشم کا جال‘‘ (2014)، ’’چاند نگر‘‘ (2017)، ’’پرچھائیاں‘‘ (2017)، ’’تیسری ہجرت‘‘ (2024) اور ’’پرائی آنکھیں‘‘۔
معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر احمد معراج، ارمان شمسی کی افسانہ نویسی پر اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”ارمان شمسی بنیادی طور پر فکشن کے آدمی ہیں۔ فکشن میں انھیں افسانے سے زیادہ دلچسپی ہے۔ اب تک ان کے گیارہ افسانوی مجموعے (آشنائی کا کرب، ڈھلان سے ابھرتا سورج، خواب ریزے، پیاسی ندیا، شناخت، ریشم کا جال، کالی پری، پرچھائیاں، چاند نگر، پرائی آنکھیں اور تیسری ہجرت) شائع ہوچکے ہیں۔ وہ تقریباً چھ دہائیوں سے مستقل بنیادوں پر افسانے تخلیق کر رہے ہیں۔ افسانے سے ان کی دلچسپی دراصل ان کی زندگی سے محبت کا اعلامیہ ہے۔ وہ شخص جو زندگی سے محبت کرتا ہو اور زندگی کے مسائل کو بڑی گہری نظر سے دیکھنے کا عادی ہو تخلیقی عمل سے گزرے بغیر رہ نہیں سکتا۔ یہیں سے افسانوی ادب اور اس کے فنی در وبست سے ان کی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے کہ افسانہ بنیادی اعتبار سے تفہیمِ ذات کا کنایہ ہے۔“
ارمان شمسی 22 جون 2026ء کو اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n2016244707
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
