- کتاب فہرست 180576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ913 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1565 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح596 صحافت200 زبان و ادب1682 خطوط730
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6488افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب426 ترجمہ4207خواتین کی تحریریں5761-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1572
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ارمان شمسی کا تعارف
اصلی نام : محمد ارمان
پیدائش : 21 Aug 1945 | بریلی, اتر پردیش
وفات : 22 Jun 2026 | ڈھاکہ, بنگلہ دیش
LCCN :n2016244707
بنگلہ دیش کے مشہور افسانہ نگار اور شاعر ارمان شمسی کا اصلی نام محمد ارمان ہے۔ وہ 21 اگست 1945 کو قصبہ آنولہ، ضلع بریلی، اترپردیش میں پیدا ہوئے تھے۔ ارمان شمسی بنگلہ دیش میں اردو ادب کے فروغ کے لیے سرگرم ایک اہم شخصیت تھے۔ ارمان شمسی کے گیارہ افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن کے نام اس طرح ہیں۔’’آشنائی کا کرب‘‘ (2003)، ’’ڈھلان سے ابھرتا سورج‘‘ (2006)، ’’خواب ریزے‘‘(2009)، ’’پیاسی ندیا‘‘ (2009)، ’’شناخت‘‘ (2011)، ’’کالی پری‘‘ (2013)، ’’ریشم کا جال‘‘ (2014)، ’’چاند نگر‘‘ (2017)، ’’پرچھائیاں‘‘ (2017)، ’’تیسری ہجرت‘‘ (2024) اور ’’پرائی آنکھیں‘‘۔
معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر احمد معراج، ارمان شمسی کی افسانہ نویسی پر اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”ارمان شمسی بنیادی طور پر فکشن کے آدمی ہیں۔ فکشن میں انھیں افسانے سے زیادہ دلچسپی ہے۔ اب تک ان کے گیارہ افسانوی مجموعے (آشنائی کا کرب، ڈھلان سے ابھرتا سورج، خواب ریزے، پیاسی ندیا، شناخت، ریشم کا جال، کالی پری، پرچھائیاں، چاند نگر، پرائی آنکھیں اور تیسری ہجرت) شائع ہوچکے ہیں۔ وہ تقریباً چھ دہائیوں سے مستقل بنیادوں پر افسانے تخلیق کر رہے ہیں۔ افسانے سے ان کی دلچسپی دراصل ان کی زندگی سے محبت کا اعلامیہ ہے۔ وہ شخص جو زندگی سے محبت کرتا ہو اور زندگی کے مسائل کو بڑی گہری نظر سے دیکھنے کا عادی ہو تخلیقی عمل سے گزرے بغیر رہ نہیں سکتا۔ یہیں سے افسانوی ادب اور اس کے فنی در وبست سے ان کی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے کہ افسانہ بنیادی اعتبار سے تفہیمِ ذات کا کنایہ ہے۔“
ارمان شمسی 22 جون 2026ء کو اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n2016244707
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
