Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Arman Shamsi's Photo'

ارمان شمسی

1945 - 2026 | ڈھاکہ, بنگلہ دیش

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مشہور افسانہ نگار اور شاعر

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مشہور افسانہ نگار اور شاعر

ارمان شمسی کا تعارف

اصلی نام : محمد ارمان

پیدائش : 21 Aug 1945 | بریلی, اتر پردیش

وفات : 22 Jun 2026 | ڈھاکہ, بنگلہ دیش

LCCN :n2016244707

بنگلہ دیش کے مشہور افسانہ نگار اور شاعر ارمان شمسی کا اصلی نام محمد ارمان ہے۔ وہ 21 اگست 1945 کو قصبہ آنولہ، ضلع بریلی، اترپردیش میں پیدا ہوئے تھے۔ ارمان شمسی بنگلہ دیش میں اردو ادب کے فروغ کے لیے سرگرم ایک اہم شخصیت تھے۔ ارمان شمسی کے گیارہ افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن کے نام اس طرح ہیں۔’’آشنائی کا کرب‘‘ (2003)، ’’ڈھلان سے ابھرتا سورج‘‘ (2006)، ’’خواب ریزے‘‘(2009)،  ’’پیاسی ندیا‘‘ (2009)، ’’شناخت‘‘ (2011)، ’’کالی پری‘‘ (2013)، ’’ریشم کا جال‘‘ (2014)، ’’چاند نگر‘‘ (2017)، ’’پرچھائیاں‘‘ (2017)، ’’تیسری ہجرت‘‘ (2024) اور ’’پرائی آنکھیں‘‘۔

معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر احمد معراج، ارمان شمسی کی افسانہ نویسی پر اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”ارمان شمسی بنیادی طور پر فکشن کے آدمی ہیں۔ فکشن میں انھیں افسانے سے زیادہ دلچسپی ہے۔ اب تک ان کے گیارہ افسانوی مجموعے (آشنائی کا کرب، ڈھلان سے ابھرتا سورج، خواب ریزے، پیاسی ندیا، شناخت، ریشم کا جال، کالی پری، پرچھائیاں، چاند نگر، پرائی آنکھیں اور تیسری ہجرت) شائع ہوچکے ہیں۔ وہ تقریباً چھ دہائیوں سے مستقل بنیادوں پر افسانے تخلیق کر رہے ہیں۔ افسانے سے ان کی دلچسپی دراصل ان کی زندگی سے محبت کا اعلامیہ ہے۔ وہ شخص جو زندگی سے محبت کرتا ہو اور زندگی کے مسائل کو بڑی گہری نظر سے دیکھنے کا عادی ہو تخلیقی عمل سے گزرے بغیر رہ نہیں سکتا۔ یہیں سے افسانوی ادب اور اس کے فنی در وبست سے ان کی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے کہ افسانہ بنیادی اعتبار سے تفہیمِ ذات کا کنایہ ہے۔“
ارمان شمسی 22 جون 2026ء کو اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے