- کتاب فہرست 179416
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4317 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
اسد اعوان کے اشعار
اسد اعوانہم بھی غالبؔ کی طرح کوچۂ جاناں سے اسدؔ
نہ نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے
اسد اعوانخود بخود چھوڑ گئے ہیں تو چلو ٹھیک ہوا
اتنے احباب کہاں ہم سے سنبھالے جاتے
اسد اعوانعمر بھر ماں کی نصیحت پہ زمانے میں اسدؔ
فاطمہ زہرا کے بچوں سے وفاداری کی
اسد اعوانہم بھی غالبؔ کی طرح کوچۂ جاناں سے اسدؔ
نہ نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے
اسد اعوانیوسف کے لیے ہیں سر بازار اکٹھے
قسمت سے ہوئے آج خریدار اکٹھے
اسد اعواناس محبت نے ہمیں جوڑ دیا آپس میں
ورنہ ہم دونوں کا اک جیسا عقیدہ تو نہ تھا
اسد اعوانآج دیکھا ہے اسے جاتے ہوئے رستے میں
آج اس شخص کی تصویر اتاری میں نے
اسد اعواناک نئی طرز کا کردار دیا جائے گا
اس کہانی میں مجھے مار دیا جائے گا
اسد اعوانبچ بچ کے تیری راہ سے چلنا تو تھا مجھے
تو جو بدل گیا ہے بدلنا تو تھا مجھے
اسد اعوانجو اپنے زعم میں رہتے ہیں ایسے لوگوں کو
نظر میں رکھتے ہیں دل سے اتار دیتے ہیں
اسد اعوانغالبؔ کے مرتبے سے یہ واقف نہیں اسدؔ
یہ بد لحاظ نسل ہے عہد جدید کی
اسد اعوانوسوسے ڈستے رہے عشق میں سانپوں کی طرح
بے عصا راہ خطرناک پہ دن گزرے ہیں
اسد اعوانتشنگی ہے مری آنکھوں میں اسے ملنے کی
پیکر یار کا بھی چاہ ذقن کھینچتا ہے
اسد اعوانظلم تو یہ ہے کہ ازبر نہ رہے غربت میں
ایک حافظ سے جوانی کی حفاظت نہ ہوئی
اسد اعوانژالہ باری بھی رہی دھوپ بھی تھی بارش بھی
تیری یادوں کے علاقے میں یہ منظر دیکھے
اسد اعوانچپ چاپ اپنے یار کی دہلیز پر مرے
دنیا کہے گی ہم بھی کسی چیز پر مرے
اسد اعوانضبط کے شہر سے نکلا ہے جو لشکر لے کر
دشت حیرت کی کڑی دھوپ میں جلتا جائے
اسد اعوانسارے مرتے ہیں اسی ایک پری چہرے پر
ہم بھی ان گلیوں میں بے کار سے ہو آتے ہیں
اسد اعوانٹوٹا ہوا وجود ہے ٹوٹا ہوا ہے جسم
میرا تو مہ جبینوں نے لوٹا ہوا ہے جسم
اسد اعوانلب پہ اک حرف تمنا ہے گدائی تو نہیں
یہ مری اپنی کمائی ہے پرائی تو نہیں
اسد اعوانکوئی تو دیکھے مری بے بسی محبت میں
میں آپ اپنی جہاں میں ہنسی اڑاتا پھروں
اسد اعوانذاکر آل محمدؐ ہے تو منبر پہ اسدؔ
ابن مرجانہ کے جیسا یہ لبادہ کیسا
اسد اعواندونوں نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہمیں اسدؔ
پردہ نشیں بھی تھے کئی مسند نشیں بھی تھے
اسد اعوانگزر نہ جائے یہ موسم بسنت کا موسم
بنفشہ پھول کھلے ہر طرف زمیں کے لیے
اسد اعوانقافلے والوں کو کھا جائے گی یہ سست روی
ساربانوں کو سبک خیز کریں چلتے چلیں
اسد اعوانصرف اک تیری نگاہوں کا چنیدہ تو نہ تھا
میں سبھی کا تھا مجھے تو نے خریدا تو نہ تھا
اسد اعوانزخم سینے پہ ہوئے اتنے کہ سینے سے رہے
ہم ترے ہجر میں جیتے ہیں تو جینے سے رہے
اسد اعوانثبوت آج بھی میری کتاب میں ہے اسدؔ
وہ ایک رقعہ ترا تیرے دستخط کے ساتھ
اسد اعوانراستہ صاف نظر آتا ہے راہی تو نہیں
کچھ کہو راہ محبت میں تباہی تو نہیں
اسد اعواننت نیا تو نے زمانے میں خریدا بدلا
تیرے کہنے پہ کہاں ہم نے عقیدہ بدلا
اسد اعوانپنبہ در گوش سمجھتے ہیں کہیں ہم کو اسدؔ
اونچی آواز میں جو شعلہ فشاں بولتے ہیں
اسد اعوانطیور حسن بھی کل تک قفس میں ہوں گے اسدؔ
کہ ہم نے دیکھے ہیں دانے قریب جالوں کے
اسد اعوانمری نگاہ رہے صرف روئے قاتل پر
گلوں پہ خنجر بے آبدار چلتا رہے
اسد اعوانحیرت ہے آج چشم زمانہ شناس میں
دیکھا گیا ہے اس کو غزل کے لباس میں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
