- کتاب فہرست 182711
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1396 قصہ / داستان1608 صحت105 تاریخ3321طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1723 خطوط749
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4343 سیاسی357 مذہبیات4815 تحقیق و تنقید6639افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب453 ترجمہ4273خواتین کی تحریریں5825-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1293
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1270
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1607
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4899
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1220
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اسد اعوان کے اشعار
اسد اعوانہم بھی غالبؔ کی طرح کوچۂ جاناں سے اسدؔ
نہ نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے
اسد اعوانخود بخود چھوڑ گئے ہیں تو چلو ٹھیک ہوا
اتنے احباب کہاں ہم سے سنبھالے جاتے
اسد اعوانعمر بھر ماں کی نصیحت پہ زمانے میں اسدؔ
فاطمہ زہرا کے بچوں سے وفاداری کی
اسد اعوانہم بھی غالبؔ کی طرح کوچۂ جاناں سے اسدؔ
نہ نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے
اسد اعوانیوسف کے لیے ہیں سر بازار اکٹھے
قسمت سے ہوئے آج خریدار اکٹھے
اسد اعواناس محبت نے ہمیں جوڑ دیا آپس میں
ورنہ ہم دونوں کا اک جیسا عقیدہ تو نہ تھا
اسد اعوانآج دیکھا ہے اسے جاتے ہوئے رستے میں
آج اس شخص کی تصویر اتاری میں نے
اسد اعواناک نئی طرز کا کردار دیا جائے گا
اس کہانی میں مجھے مار دیا جائے گا
اسد اعوانبچ بچ کے تیری راہ سے چلنا تو تھا مجھے
تو جو بدل گیا ہے بدلنا تو تھا مجھے
اسد اعوانجو اپنے زعم میں رہتے ہیں ایسے لوگوں کو
نظر میں رکھتے ہیں دل سے اتار دیتے ہیں
اسد اعوانغالبؔ کے مرتبے سے یہ واقف نہیں اسدؔ
یہ بد لحاظ نسل ہے عہد جدید کی
اسد اعوانوسوسے ڈستے رہے عشق میں سانپوں کی طرح
بے عصا راہ خطرناک پہ دن گزرے ہیں
اسد اعوانتشنگی ہے مری آنکھوں میں اسے ملنے کی
پیکر یار کا بھی چاہ ذقن کھینچتا ہے
اسد اعوانظلم تو یہ ہے کہ ازبر نہ رہے غربت میں
ایک حافظ سے جوانی کی حفاظت نہ ہوئی
اسد اعوانژالہ باری بھی رہی دھوپ بھی تھی بارش بھی
تیری یادوں کے علاقے میں یہ منظر دیکھے
اسد اعوانچپ چاپ اپنے یار کی دہلیز پر مرے
دنیا کہے گی ہم بھی کسی چیز پر مرے
اسد اعوانضبط کے شہر سے نکلا ہے جو لشکر لے کر
دشت حیرت کی کڑی دھوپ میں جلتا جائے
اسد اعوانسارے مرتے ہیں اسی ایک پری چہرے پر
ہم بھی ان گلیوں میں بے کار سے ہو آتے ہیں
اسد اعوانٹوٹا ہوا وجود ہے ٹوٹا ہوا ہے جسم
میرا تو مہ جبینوں نے لوٹا ہوا ہے جسم
اسد اعوانلب پہ اک حرف تمنا ہے گدائی تو نہیں
یہ مری اپنی کمائی ہے پرائی تو نہیں
اسد اعوانکوئی تو دیکھے مری بے بسی محبت میں
میں آپ اپنی جہاں میں ہنسی اڑاتا پھروں
اسد اعوانذاکر آل محمدؐ ہے تو منبر پہ اسدؔ
ابن مرجانہ کے جیسا یہ لبادہ کیسا
اسد اعواندونوں نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہمیں اسدؔ
پردہ نشیں بھی تھے کئی مسند نشیں بھی تھے
اسد اعوانگزر نہ جائے یہ موسم بسنت کا موسم
بنفشہ پھول کھلے ہر طرف زمیں کے لیے
اسد اعوانقافلے والوں کو کھا جائے گی یہ سست روی
ساربانوں کو سبک خیز کریں چلتے چلیں
اسد اعوانصرف اک تیری نگاہوں کا چنیدہ تو نہ تھا
میں سبھی کا تھا مجھے تو نے خریدا تو نہ تھا
اسد اعوانزخم سینے پہ ہوئے اتنے کہ سینے سے رہے
ہم ترے ہجر میں جیتے ہیں تو جینے سے رہے
اسد اعوانثبوت آج بھی میری کتاب میں ہے اسدؔ
وہ ایک رقعہ ترا تیرے دستخط کے ساتھ
اسد اعوانراستہ صاف نظر آتا ہے راہی تو نہیں
کچھ کہو راہ محبت میں تباہی تو نہیں
اسد اعواننت نیا تو نے زمانے میں خریدا بدلا
تیرے کہنے پہ کہاں ہم نے عقیدہ بدلا
اسد اعوانپنبہ در گوش سمجھتے ہیں کہیں ہم کو اسدؔ
اونچی آواز میں جو شعلہ فشاں بولتے ہیں
اسد اعوانطیور حسن بھی کل تک قفس میں ہوں گے اسدؔ
کہ ہم نے دیکھے ہیں دانے قریب جالوں کے
اسد اعوانمری نگاہ رہے صرف روئے قاتل پر
گلوں پہ خنجر بے آبدار چلتا رہے
اسد اعوانحیرت ہے آج چشم زمانہ شناس میں
دیکھا گیا ہے اس کو غزل کے لباس میں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
