- کتاب فہرست 180305
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1979
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1360 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6513افسانہ2664 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1578
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4863
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
اشرف صبوحی کے خاکے
پرنانی
پرنانی اپنے ہی کُٹم کی نہیں بلکہ سارے محلے کی پرنانی تھیں۔ بچے تو بچے ہر جاننے والا بوڑھا ہو یا جوان، ان کو پرنانی کہتا تھا۔ زندگی کے باغ میں ان کی ہستی ایک ایسے درخت کے مانند تھی جو خزاں کے متواتر جھونکوں سےلنڈ منڈرہ گیا ہو۔ پھل پھول آنے بند ہوگئے ہوں
میر باقر علی
غدر کے بعد سے دلی پر کچھ ایسی ساڑھ ستی آئی کہ اول تو پرانے گھروں کا نام و نشان ہی مٹ گیا۔ نہ مکان رہے نہ مکیں۔ سارا شہر ہی بارہ باٹ ہو گیا اور جن کی نال نہیں اکھڑی وہ پیٹ کی خاطر تتر بتر ہوئے۔ روٹی کی تلاش میں جس کو دیکھو خانہ بدوش۔ بارہ برس ہوئے ملازمت
گھمی کبابی
گھمی کبابی کو کون نہیں جانتا۔ سارا شہر جانتا ہے۔ جب تک یہ زندہ رہا کبابوں کی دنیا میں اس سے زیادہ دلچسپ کوئی کبابی نہ تھا۔ جامع مسجد کی سیڑھیوں سے لے کر ادھر دلی دروازے تک اور ادھر حبش خاں کی پھاٹک تک اس کے کباب چٹخارے لے لے کر کھائے جاتے تھے۔ چھوٹے
مرزا چپاتی
خدا بخشے مرزا چپاتی کو، نام لیتے ہی صورت آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ گورا رنگ، بڑی ہوئی ابلی ہوئی آنکھیں، لمبا قد شانوں پر سے ذرا جھکا ہوا۔ چوڑا شفّاف ماتھا۔ تیموری ڈاڑھی، چنگیزی ناک، مغلئی ہاڑ۔ لڑکپن تو قلعے کی درودیوار نے دیکھا ہوگا۔ جوانی دیکھنے والے
گنجے نہاری والے
آہ دلّی مرحوم جب زندہ تھی اور اس کی جوانی کا عالم تھا۔ سہاگ بنا ہوا تھا، اس پر کیا جوبن ہوگا۔ اب تو نہ وہ رہی نہ اس کے دیکھنے والے رہے۔ کلوّ بخشو کےتکیے پر سوتے ہیں۔ اگلی کہانیاں کہنے والا تو کیا کوئی سننے والا بھی نہیں رہا۔ غدر نے ایسی بساط الٹی کہ
نیازی خانم
اللہ بخشے نیازی خانم کو عجیب چہچہاتی طبیعت پائی تھی۔ بچپن سے جوانی آئی، جوانی سے ادھیڑ ہوئیں۔ مجال ہے جو مزاج بدلا ہو۔ جب تک کنواری رہیں، گھروالوں میں ہنستی کلی تھیں۔ بیاہی گئیں تو کھلا ہوا پھول بن کر میاں کے ساتھ وہ چُہلیں کیں کہ جو سنتا پھڑک اٹھتا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1979
-
