- کتاب فہرست 179379
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1602 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
آصف فرخی کے اقوال
اردو افسانے میں کارکردگی کا معیار منٹو، عصمت، بیدی، کرشن رہے ہیں۔ اردو افسانےکے چار اِکّے۔۔۔ ان چار بڑوں کی برتری مسلم۔ میں نے اپنی کہانی کو ان کے سانچے میں نہیں ڈھالا کہ میں ترپ کا پتہ ہوں، جس کے رنگ پر چال آ جائے تو کیا بیگی کیا بادشاہ۔
زندگی اتنی آسان نہیں جتنا کھیتوں سے گزرنا۔ اور کہانیاں کہنا بھی اتنا آسان نہیں جیسے دھوپ میں کھیلتے بچے۔
کہانی کبھی حاصل ہوتی ہے، کبھی حاصل کی جاتی ہے، کبھی سڑک پر پڑے ہوئے ہیرے کی طرح مل جاتی ہے۔
فکشن کی معنویت کا بڑا حصہ تو ان رشتوں میں ہوتا ہے جو مصنف کو اشیاء کے درمیان نظر آتے ہیں۔
پرانے زمانے میں دستور تھا کہ کارواں کے پیچھے ایک آدمی چلتا تھا جس کے ذمے یہ دیکھنا بھالنا تھا کہ قافلے والوں کی کوئی چیز گری رہ جائے یا قافلے سے کوئی بچھڑ جائے تو یہ اٹھاتا جائے۔ میں اردو افسانے میں یہی کام رہا ہوں۔ سڑک کے کنارے بیٹھ کر کوڑیوں کے مول ہیرے بیچتا ہوں اور آتش فشاں پر گلاب اگاتا ہوں۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
