- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
آصف فرخی کے اقوال
زندگی اتنی آسان نہیں جتنا کھیتوں سے گزرنا۔ اور کہانیاں کہنا بھی اتنا آسان نہیں جیسے دھوپ میں کھیلتے بچے۔
اردو افسانے میں کارکردگی کا معیار منٹو، عصمت، بیدی، کرشن رہے ہیں۔ اردو افسانےکے چار اِکّے۔۔۔ ان چار بڑوں کی برتری مسلم۔ میں نے اپنی کہانی کو ان کے سانچے میں نہیں ڈھالا کہ میں ترپ کا پتہ ہوں، جس کے رنگ پر چال آ جائے تو کیا بیگی کیا بادشاہ۔
کہانی کبھی حاصل ہوتی ہے، کبھی حاصل کی جاتی ہے، کبھی سڑک پر پڑے ہوئے ہیرے کی طرح مل جاتی ہے۔
فکشن کی معنویت کا بڑا حصہ تو ان رشتوں میں ہوتا ہے جو مصنف کو اشیاء کے درمیان نظر آتے ہیں۔
پرانے زمانے میں دستور تھا کہ کارواں کے پیچھے ایک آدمی چلتا تھا جس کے ذمے یہ دیکھنا بھالنا تھا کہ قافلے والوں کی کوئی چیز گری رہ جائے یا قافلے سے کوئی بچھڑ جائے تو یہ اٹھاتا جائے۔ میں اردو افسانے میں یہی کام رہا ہوں۔ سڑک کے کنارے بیٹھ کر کوڑیوں کے مول ہیرے بیچتا ہوں اور آتش فشاں پر گلاب اگاتا ہوں۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
