- کتاب فہرست 177103
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4299 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6600افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5833-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اسلم فرخی کا تعارف
تخلص : 'اسلم'
اصلی نام : اسلم
پیدائش : 23 Oct 1923 | لکھنؤ, اتر پردیش
وفات : 15 Jun 2016 | سندھ
رشتہ داروں : آصف فرخی (بیٹا)
LCCN :n80160791
آگ سی لگ رہی ہے سینے میں
اب مزا کچھ نہیں ہے جینے میں
شناخت: ممتاز خاکہ نگار، محقق، نقاد، شاعر اور بچوں کے ادیب
اسلم فرخی 23 اکتوبر 1923ء کو لکھنؤ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق فرخ آباد سے تھا، اسی نسبت سے خاندان نے ’’فرخی‘‘ کہلانا شروع کیا۔ گھر کے ادبی ماحول نے بچپن ہی سے ان کے اندر زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کردی۔ تقسیمِ ہند کے بعد ستمبر 1947ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہوگئے۔
انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم فیڈرل اردو کالج (موجودہ وفاقی اردو یونیورسٹی) اور جامعہ کراچی سے حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ انیسویں صدی کے نامور ادیب محمد حسین آزاد کی شخصیت اور خدمات پر تھا، جس پر انہیں 1965ء میں ’’آدم جی ادبی ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر اسلم فرخی نے عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے بطور اسکرپٹ رائٹر کیا، جہاں انہوں نے ریڈیو ڈرامے، فیچر اور تقاریر تحریر کیں۔ بعد ازاں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور سندھ مسلم کالج، سینٹرل گورنمنٹ کالج اور جامعہ کراچی میں اردو کے استاد کے فرائض انجام دیے۔ جامعہ کراچی میں وہ صدرِ شعبۂ اردو، ناظمِ شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ اور رجسٹرار جیسے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ انہوں نے ابتدا میں شاعری بھی کی، غزلیں اور نظمیں لکھیں، تاہم اپنی اصل شناخت بطور خاکہ نگار، محقق اور نقاد قائم کی۔
ڈاکٹر اسلم فرخی کو اردو خاکہ نگاری میں خاص امتیاز حاصل تھا۔ ’’سات آسمان‘‘، " لال سبز کبوتروں کی چھتری"، ’’گل دستۂ احباب‘‘ اور ’’آنگن میں ستارے‘‘ جیسے مجموعوں میں انہوں نے کلاسیکی اور جدید ادبی شخصیات کو نہایت دل کش اور جیتی جاگتی صورت میں پیش کیا۔ ان کے خاکوں میں ادبی شگفتگی، تہذیبی شعور اور نفسیاتی بصیرت نمایاں نظر آتی ہے۔
تحقیق و تنقید میں ان کا سب سے نمایاں کام محمد حسین آزاد پر ہے۔ ان کی کتاب ’’محمد حسین آزاد: حیات و تصانیف‘‘ اردو تحقیق کا اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’نیرنگِ خیال‘‘، ’’قصصِ ہند‘‘ اور ’’اردو کی پہلی کتاب‘‘ جیسی تصانیف کی تدوین و تحقیق بھی ان کے اہم علمی کارناموں میں شامل ہے۔
ڈاکٹر اسلم فرخی کو صوفیانہ ادب اور بزرگانِ دین سے گہری عقیدت تھی۔ حضرت نظام الدین اولیا کے حوالے سے انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں، جن میں ’’نظام رنگ‘‘، ’’دبستانِ نظام‘‘، ’’صاحب جی سلطان جی‘‘ اور ’’فرمایا سلطان جی نے‘‘ شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں تصوف، اخلاق، انسان دوستی اور روحانی اقدار کی جھلک نمایاں ہے۔
انہوں نے بچوں کے ادب میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ’’قلفی والی سائیکل‘‘ اور ’’بچوں کے سلطان جی‘‘ جیسی کتابوں کے ذریعے انہوں نے بچوں کے لیے دلچسپ اور تربیتی ادب تخلیق کیا۔
ڈاکٹر اسلم فرخی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 2009ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ’’پرائڈ آف پرفارمنس‘‘ سے نوازا گیا۔
وفات: اسلم فرخی کا انتقال 15 جون 2016ء کو گلشنِ اقبال، کراچی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Aslam_Farrukhi
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n80160791
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
