- کتاب فہرست 180350
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1360 قصہ / داستان1569 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1680 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4264 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1578
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
اسلم فرخی کا تعارف
تخلص : 'اسلم'
اصلی نام : اسلم
پیدائش : 23 Oct 1923 | لکھنؤ, اتر پردیش
وفات : 15 Jun 2016 | سندھ
رشتہ داروں : آصف فرخی (بیٹا)
LCCN :n80160791
آگ سی لگ رہی ہے سینے میں
اب مزا کچھ نہیں ہے جینے میں
شناخت: ممتاز خاکہ نگار، محقق، نقاد، شاعر اور بچوں کے ادیب
اسلم فرخی 23 اکتوبر 1923ء کو لکھنؤ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق فرخ آباد سے تھا، اسی نسبت سے خاندان نے ’’فرخی‘‘ کہلانا شروع کیا۔ گھر کے ادبی ماحول نے بچپن ہی سے ان کے اندر زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کردی۔ تقسیمِ ہند کے بعد ستمبر 1947ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہوگئے۔
انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم فیڈرل اردو کالج (موجودہ وفاقی اردو یونیورسٹی) اور جامعہ کراچی سے حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ انیسویں صدی کے نامور ادیب محمد حسین آزاد کی شخصیت اور خدمات پر تھا، جس پر انہیں 1965ء میں ’’آدم جی ادبی ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر اسلم فرخی نے عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے بطور اسکرپٹ رائٹر کیا، جہاں انہوں نے ریڈیو ڈرامے، فیچر اور تقاریر تحریر کیں۔ بعد ازاں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور سندھ مسلم کالج، سینٹرل گورنمنٹ کالج اور جامعہ کراچی میں اردو کے استاد کے فرائض انجام دیے۔ جامعہ کراچی میں وہ صدرِ شعبۂ اردو، ناظمِ شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ اور رجسٹرار جیسے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ انہوں نے ابتدا میں شاعری بھی کی، غزلیں اور نظمیں لکھیں، تاہم اپنی اصل شناخت بطور خاکہ نگار، محقق اور نقاد قائم کی۔
ڈاکٹر اسلم فرخی کو اردو خاکہ نگاری میں خاص امتیاز حاصل تھا۔ ’’سات آسمان‘‘، " لال سبز کبوتروں کی چھتری"، ’’گل دستۂ احباب‘‘ اور ’’آنگن میں ستارے‘‘ جیسے مجموعوں میں انہوں نے کلاسیکی اور جدید ادبی شخصیات کو نہایت دل کش اور جیتی جاگتی صورت میں پیش کیا۔ ان کے خاکوں میں ادبی شگفتگی، تہذیبی شعور اور نفسیاتی بصیرت نمایاں نظر آتی ہے۔
تحقیق و تنقید میں ان کا سب سے نمایاں کام محمد حسین آزاد پر ہے۔ ان کی کتاب ’’محمد حسین آزاد: حیات و تصانیف‘‘ اردو تحقیق کا اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’نیرنگِ خیال‘‘، ’’قصصِ ہند‘‘ اور ’’اردو کی پہلی کتاب‘‘ جیسی تصانیف کی تدوین و تحقیق بھی ان کے اہم علمی کارناموں میں شامل ہے۔
ڈاکٹر اسلم فرخی کو صوفیانہ ادب اور بزرگانِ دین سے گہری عقیدت تھی۔ حضرت نظام الدین اولیا کے حوالے سے انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں، جن میں ’’نظام رنگ‘‘، ’’دبستانِ نظام‘‘، ’’صاحب جی سلطان جی‘‘ اور ’’فرمایا سلطان جی نے‘‘ شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں تصوف، اخلاق، انسان دوستی اور روحانی اقدار کی جھلک نمایاں ہے۔
انہوں نے بچوں کے ادب میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ’’قلفی والی سائیکل‘‘ اور ’’بچوں کے سلطان جی‘‘ جیسی کتابوں کے ذریعے انہوں نے بچوں کے لیے دلچسپ اور تربیتی ادب تخلیق کیا۔
ڈاکٹر اسلم فرخی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 2009ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ’’پرائڈ آف پرفارمنس‘‘ سے نوازا گیا۔
وفات: اسلم فرخی کا انتقال 15 جون 2016ء کو گلشنِ اقبال، کراچی میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Aslam_Farrukhi
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n80160791
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
