Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Aslam Rashid's Photo'

اسلم راشد

1976 | گنا, انڈیا

اسلم راشد کے اشعار

108
Favorite

باعتبار

ہنسی ان کے لبوں تک آ گئی ہے

مکمل ہو گیا رونا ہمارا

میرؔ غالبؔ یہیں تو رہتے تھے

ہم بھی دلی سے دل لگا لیں کیا

ہجر میں جلتے ہوئے اس کو کہاں دیکھ سکا

اتنی تاخیر ہوئی صرف دھواں دیکھ سکا

ہوتا نہیں اداس کسی دکھ سے میں کبھی

اتنے حسین لوگ مرے آس پاس ہیں

پہلے اس کی آنکھیں سوچی جاتی ہیں

پھر آنکھوں میں رات بتائی جاتی ہے

سب کو کانٹوں پہ شک ہوا تھا مگر

زخم کے آس پاس پھول ملے

اسی پانی میں لاشیں تیرتی ہیں

اسی پانی میں پتھر بیٹھتے ہیں

ڈھونڈ رہا ہے دریا کس کو

روز کنارے ٹوٹ رہے ہیں

درد چہرہ پہن کے آیا تھا

تیرا چہرہ تھا سو قبول کیا

آنسو بتا رہے ہیں کہ مجھ میں ہے زندگی

یعنی میں انتظار میں پتھر نہیں ہوا

جواب ہنس کے دیا اس نے اور رونے لگا

سوال پوچھ کے شرمندگی بڑھی میری

ایک پردا ہے صرف سانسوں کا

سانس ٹھہرے تو کائنات کھلے

آپ کا تو شوق ہے جلتے گھروں کو دیکھنا

آپ آنکھیں نم کریں گے آپ رہنے دیجیے

قبر پر پھول رکھنے آیا تھا

پھر یہیں گھر بنا لیا میں نے

روٹھ جائیں گے مجھ سے اک دن سب

اس قدر روٹھتا ہوں میں سب سے

دن دن بھر آئینہ دیکھا جاتا ہے

تب جا کر دو چار اشارے بنتے ہیں

میں سن رہا ہوں فون پہ خاموشیاں تری

میں جانتا ہوں آج سے کیا کیا تمام ہے

دھوپ میں دیکھ کر پرندوں کو

اگنے لگتا ہے اک شجر مجھ میں

میں نے آواز بعد میں کھوئی

پہلے میں نے اسے پکارا تھا

بچھڑے تھے جس کی وجہ سے سیتا سے رام جی

میں اس ہرن کو رام کہانی سے کھینچ لوں

مجھ سے باہر نکل رہے تھے سب

میں بھی حیران سا نکل آیا

اچھا عمل سمجھ کے جو دریا میں ڈال دیں

دل کرتا ہے وہ نیکیاں پانی سے کھینچ لوں

آنکھوں سے کیا ریت گرے گی

دریا تو اب سوکھ چکا ہے

آنکھوں سے اک دریا نکلا

دریا سے کچھ لاشیں نکلیں

مسلسل ساتھ سورج کے چلی تو

کسی دن ڈوب جائے گی نظر بھی

کچھ سزا اور بڑھ گئی اس پر

زخم کھائے تو مسکرائے کیوں

Recitation

بولیے