- کتاب فہرست 189056
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1036 تعلیم393 مضامين و خاكه1557 قصہ / داستان1794 صحت109 تاریخ3630طنز و مزاح757 صحافت220 زبان و ادب1975 خطوط825
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات299 ناول5066 سیاسی377 مذہبیات5061 تحقیق و تنقید7445افسانہ3036 خاکے/ قلمی چہرے291 سماجی مسائل121 تصوف2302نصابی کتاب569 ترجمہ4624خواتین کی تحریریں6308-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1414
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1682
- کہہ مکرنی7
- کلیات693
- ماہیہ21
- مجموعہ5427
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1325
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
اطہر پرویز کا تعارف
تخلص : 'اطہر پرویز'
اصلی نام : محمدعثمان
پیدائش : 25 Sep 1925 | الہٰ آباد, اتر پردیش
وفات : 10 Mar 1984
اطہر پرویزانھوں نے ایک متنوع اور ہمہ جہت زندگی گذاری۔ ادب اطفال میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ مختلف موضوعات پر بچوں کے لئے متعدد دلچسپ کتابیں لکھیں۔ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں تدریس کے ساتھ ساتھ تنقید و تحقیق میں فعال رہے اور کئ کتابیں تصنیف کیں۔ خاکہ نگاری اور دیگر نثری تخلیقات میں ان کا اسلوب بے حد شگفتہ، رواں اور بالکل منفرد تھا۔ ان کی کتاب ’علی گڑھ سے علی گڈھ تک‘ جو ان کے قیام علی گڑھ کی یادوں پر مشتمل بہت مشہور و مقبول ہوئ۔
ان کے آبا و اجدا د کا تعلق سیہوارہ، ضلع بجنور سے تھا، جو 1857 کے بعد الہ آباد میں بس گئے تھے۔ ان کے والد ایک متمول کاروباری تھے، مدھیہ پرد یش جو اس وقت سی پی کہلاتا تھا وہاں جنگلات کے ٹھیکے لیتے تھے۔ جب اطہر پرویز الہ اباد میں، انٹرمیں پڑھ رہے تھے والد کا انتقال ہوگیا اور اس کے بعد انھیں کافی پریشا نیوں کا سامنا رہا۔ باقی تعلیم انھوں نے علی گڑھ میں حاصل کی۔ 1945 میں فارسی ادبیات میں ایم اے کیا۔ صحافت کے شوق میں بمبئ گئے لیکن پانچ سال وہاں ٹریڈ یونیینوں کی سرگرمیوں میں شامل رہے، جیل گئے اور روپوش بھی رہے پھر کسی طرح الہ آباد پہنچ گئے۔
1950میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مکتبہ جامعہ سے منسلک ہوئے، بچوں کے رسالے’پیام تعلیم‘ کے مدیر رہے۔1957 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آگئے پہلے جرنل ایجوکشن سینٹر سے منسلک رہے اور بعد میں شعبہ اردو میں تقرر ہو گیا۔ دوران ملازمت کئ بار ماریشس گئے اور وہاں اردو کی تعلیم کے فروغ کے لئے بہت اہم کام انجام دئیے۔ اطہر پرویزآخری وقت تک تصنیف و تالیف میں مشغول رہے۔ ان کی بیوی، افسانہ نگار صدیقہ بیگم سیہواروی ترقی پسند افسانہ نگاروں کے حوالے سے معروف تھیں۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
