Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Athar Parvez's Photo'

اطہر پرویز

1925 - 1984 | علی گڑہ, انڈیا

بچوں کے نامور ادیب، نقاد، محقق، صحافی

بچوں کے نامور ادیب، نقاد، محقق، صحافی

اطہر پرویز کا تعارف

تخلص : 'اطہر پرویز'

اصلی نام : محمدعثمان

پیدائش : 25 Sep 1925 | الہٰ آباد, اتر پردیش

وفات : 10 Mar 1984 | علی گڑہ, اتر پردیش

شناخت: بچوں کے نامور ادیب، نقاد، محقق، صحافی

اطہر پرویز نے ایک متنوع اور ہمہ جہت زندگی گذاری۔ ادب اطفال میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ مختلف موضوعات پر بچوں کے لئے متعدد دلچسپ کتابیں لکھیں۔ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں تدریس کے ساتھ ساتھ تنقید و تحقیق میں فعال رہے اور کئی کتابیں تصنیف کیں۔ خاکہ نگاری اور دیگر نثری تخلیقات میں ان کا اسلوب بے حد شگفتہ، رواں اور بالکل منفرد تھا۔ ان کی کتاب 'علی گڑھ سے علی گڈھ تک' جو ان کے قیام علی گڑھ کی یادوں پر مشتمل بہت مشہور و مقبول ہوئی۔ اس کے علاوہ' ادب کا مطالعہ'، 'داستان کا فن'، 'ادب کسے کہتے ہیں'، وغیرہ کافی مفید کتابیں ہیں۔ کئی اہم اور کلاسکی کتابوں کو مرتب بھی کیا جن میں 'فسانہ عجائب، اور 'آرائش محفل' شامل ہیں۔ کئی کتابوں کے تراجم بھی کئے جن میں پنچ تنتر کی کہانیاں کئی جلدوں میں ہے۔

اطہر پرویز کی پیدائش ۲۵ ستمبر ۱۹۲۵ء کو الہٰ آباد میں ہوئی۔ ان کا اصل نام محمد عثمان تھا مگر جب سیاست میں قدم رکھا تو اطہر پرویز رکھ لیا اس کی مختلف وجوہات رہیں اس وقت کے سیاسی حالات بھی ایک وجہ رہے کیوں کہ ان کا تعلق کمیونسٹ پارٹی سے تھا۔ اپنی پہچان بدلنے کے لیے اس نام کو رکھا اسی نئے نام سے اخباروں میں مضمون وغیرہ لکھتے تھے۔ مگر بعد میں اطہر پرویز نام سے ہی مشہور ہوئے۔

 اطہر پرویز کے آبا و اجداد کا تعلق سیوہارہ، ضلع بجنور سے تھا، جو 1857 کے بعد الہ آباد میں بس گئے تھے۔ ان کے والد ایک متمول کاروباری تھے، مدھیہ پرد یش جو اس وقت سی پی کہلاتا تھا وہاں جنگلات کے ٹھیکے لیتے تھے۔ جب اطہر پرویز الہ اباد میں، انٹرمیں پڑھ رہے تھے والد کا انتقال ہوگیا اور اس کے بعد انھیں کافی پریشا نیوں کا سامنا رہا۔ باقی تعلیم انھوں نے علی گڑھ میں حاصل کی۔ 1945 میں فارسی ادبیات میں ایم اے کیا۔ صحافت کے شوق میں بمبئی گئے لیکن پانچ سال وہاں ٹریڈ یونیینوں کی سرگرمیوں میں شامل رہے، جیل گئے اور روپوش بھی رہے پھر کسی طرح الہ آباد پہنچ گئے۔

1950میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مکتبہ جامعہ سے منسلک ہوئے، بچوں کے رسالے’پیام تعلیم‘ کے مدیر رہے۔1957 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آگئے پہلے جرنل ایجوکشن سینٹر سے منسلک رہے اور بعد میں شعبہ اردو میں تقرر ہو گیا۔ دوران ملازمت کئی بار ماریشس گئے اور وہاں اردو کی تعلیم کے فروغ کے لئے بہت اہم کام انجام دئیے۔ اطہر پرویزآخری وقت تک تصنیف و تالیف میں مشغول رہے۔ ان کی اہلیہ، افسانہ نگار صدیقہ بیگم سیوہاروی ترقی پسند افسانہ نگاروں کے حوالے سے معروف تھیں۔

وفات: 10 مارچ 1984 کو انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے